Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

اُوَیس قرنی کے بارے میں   رسول اللہ کی غیبی خبر:

(1)…امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضور نبی ٔپاک ،  صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے ارشاد فرمایا:

٭… ’’ يَا عُمَرُ! يَكُوْنُ فِيْ اُمَّتِيْ فِيْ آخِرِ النَّاسِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ اُوَيْسٌ الْقَرَنِيْ یعنی اے عمر! میری امت کے آخری لوگوں   میں   ایک شخص ہوگا جسے اُوَیس قرنی کہا جائے گا۔ ‘‘ 

٭… ’’ فَيُصِيْبُهُ بَلَاءٌ فِيْ جَسَدِه فَيَدْعُوْ اللہَ عَزَّوَجَلَّ فَيَذْهَبُ بِه اِلَّا لُمْعَةٌ فِيْ جَنْبِه اِذَا رَآهَا ذَكَرَ اللہَ یعنی اُس کے جسم میں   ایک بیماری لاحق ہوگی تو وہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں   اُس کے بارے میں   دعا کرے گا تو وہ بیماری دور ہو جائے سوائے اس کے پہلو میں   ایک چھوٹے سے نشان کے کہ وہ جب بھی اُسے دیکھے گا تو ربّ تَعَالٰی کو یاد کرے گا۔ ‘‘ 

٭… ’’ فَاِذَا رَأَيتَهُ فَاَقْرِئهُ مِنِّيْ السَّلَامْ وَاْمُرْهُ اَنْ يَدْعُوَ لَكَ ،  فَاِنَّهُ كَرِيْمٌ عَلٰى رَبِّه بَارٌّ بِوَالِدَتِه یعنی اے عمر! جب تمہاری اُس سے ملاقات ہوتو اُسے میرا سلام کہنا اور اُسے کہنا کہ وہ تمہارے لیے دعا کرے کیونکہ وہ  اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں   بہت عزت وعظمت والا ہے اور اپنی والدہ کے ساتھ بہت نیکی کرنے والا ہے۔ ‘‘ 

٭… ’’ لَوْ يُقْسِمُ عَلَى اللہِ لَاَبَرَّهُ يَشْفَعُ لِمِثْلِ رَبِيْعَةَ وَمُضَرَ یعنی اگر وہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم اٹھالے تو ربّ عَزَّ وَجَلَّ اُسے ضرور پورا فرماتا ہے اور وہ میری امت کی قبیلہ ربیعہ اور مضر کے برابر شفاعت کرے گا۔ ‘‘  ([1])

(2)…ایک روایت میں   ہے کہ حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ہی روایت ہے کہ نورکے پیکر ،  تمام نبیوں   کے سَروَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   نے ارشاد فرمایا:

 ’’ سَيَقْدِمُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ اُوَيْسٌ كَانَ بِه بَيَاضٌ فَدَعَا اللہَ لَهُ فَاذْهَبَهُ اللہُ فَمَنْ لَقِيَهُ مِنْكُمْ فَمُرُوْهُ فَلْيَسْتَغْفِرْ لَهُ یعنی عنقرب تمہارے پاس ایک ایسا شخص آئے گا جسے لوگ اُوَیس کے نام سے یاد کریں   گے ،  اُس کے جسم پر سفید داغ ہوں   گے پھر وہ ربّ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں   دعا کرے گا تو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُنہیں   دور فرمادے گا  ،  پس تم میں   سے جو کوئی اُس سے ملاقات کرے تو اُس سے اپنے لیے دعائے مغفرت ضرور کروائے۔ ‘‘  ([2])

(3)…ایک روایت میں   یوں   ہے کہ حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ہی روایت ہے کہ سرکارِ مکۂ مکرمہ ،  سردارِ مدینۂ منورہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   نے ارشاد فرمایا:  ’’ يَاْتِيْ عَلَيْكُمْ اُوَيْسٌ بْنُ عَامِرٍ مَعْ اَمْدَادِ اَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ مُرَادٍ ثُمَّ مِنْ قَرَنٍ كَانَ بِهٖ بَرَصٌ فَبَرِئٌ مِنْهُ اِلَّا مَوْضِعَ دِرْهَمٍ لَهُ وَالِدَةٌ هُوَ بِهَا بِرٌ لَوْ اَقْسَمَ عَلَى اللہِ لَاَبَرَّهُ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ يَسْتَغْفِرْ لَكَ فَافْعَلْ یعنی تمہارے پاس اُویس بن عامر یمنی مددگارفوج کے ساتھ آئیں   گے اور وہ مراد قبیلہ سے ہیں   اور قرن کے علاقے سے تعلق رکھتے ہیں   ،  اُن کے جسم پر برص یعنی سفید داغ ہیں   پھر اُنہیں   اُس سے نجات دے دی جائے گی سوائے ایک درہم کی جگہ کے برابر۔ اُن کی والدہ بھی ہیں   جس کے ساتھ وہ بہت نیک سلوک کرنے والے ہیں   ،  اگر وہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم اٹھالیں   تو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُسے ضرور پورا فرمائے گا ،  پس اے عمر! اگر تم ان سے دعائے مغفرت کرواسکو تو ضرور کروانا۔ ‘‘  ([3])

فاروقِ اعظم کی سیِّدُنا اُویس قرنی سے ملاقات:

چونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو حضرت سیِّدُنا اُوَیس قرنی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے بارے میں   غیبی خبر دے دی تھی  ،  اِس لیے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اُن کی تلاش میں   رہتے اور جب بھی قافلے آتے خصوصاً یمن کے قافلے تو آپ اُن سے ضرور پوچھتے۔ چنانچہ ،

حضرت سیِّدُنا اسیر بن جابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس جب اہل یمن میں   سے کوئی امداد لے کر آتا تو وہ اُن سے سوال کرتے کہ کیا تم میں   اویس بن عامر ہے؟ یہاں   تک کہ ایک دن سیِّدُنا اویس قرنی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   اُن کے پاس پہنچ گئے۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور اُن کے درمیان یوں   مکالمہ ہوا:

٭سیِّدُنا فاروقِ اعظم:      ’’ اَنْتَ اُوَيْسُ بْنُ عَامِرٍ یعنی آپ ہی اُویس بن عامر ہیں  ؟

٭سیِّدُنا اویس قرنی:      ’’ نَعَمْ یعنی جی ہاں  ! میں   ہی اُویس بن عامر ہوں  ۔ ‘‘ 

٭سیِّدُنا فاروقِ اعظم:     ’’ مِنْ مُرَادٍ ثُمَّ مِنْ قَرَنٍکیا آپ قبیلہ مراد سے ہیں   ،  پھر قرن سے؟ ‘‘ 

٭سیِّدُنا اویس قرنی:      ’’ نَعَم جی ہاں  ! ایسا ہی ہے۔ ‘‘ 

٭سیِّدُنا فاروقِ اعظم:     ’’ فَكَانَ بِكَ بَرَصٌ فَبَرَاْتَ مِنْهُ اِلَّا مَوْضِعَ دِرْهَمٍ یعنی آپ کے جسم پر برص کے نشان تھے پھر آپ کو اُن سے نجات مل گئی بس ایک درہم کے برابر نشان باقی ہے۔ ‘‘ 

٭سیِّدُنا اویس قرنی:      ’’ نَعَم جی ہاں  ! ایسا ہی ہے۔ ‘‘ 

٭سیِّدُنا فاروقِ اعظم:     ’’ لَكَ وَالِدَةٌ یعنی آپ کی والدہ بھی ہیں  ؟ ‘‘ 

 



[1]     جمع الجوامع ، حرف الیاء ،  ج۹ ،  ص۱۶۱ ،  حدیث: ۲۷۹۲۹۔

[2]     مصنف ابن ابی شیبہ ،   کتاب الفضائل ،  ما ذکر فی اویس القرنی ،  ج۷ ،  ص۵۳۹ ،  حدیث: ۲۔

[3]     مسلم ،  کتاب الفضائل ،  باب من فضائل اویس القرنی ،  ص۱۳۷۶ ،  حدیث: ۲۲۵۔



Total Pages: 349

Go To