Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

اپنا معاملہ ظاہر رکھو:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بطور نصیحت ارشاد فرمایا:  ’’ مَنْ اَرَادَ الْحَقَّ فَلْيَنْزِلْ بِالْبَرَازِ يَعْنِيْ يُظْهِرْ اَمْرَهُیعنی جو شخص حق کا ارادہ رکھتا ہو وہ اپنا معاملہ ظاہر رکھے۔ ‘‘  ([1])

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

فاروقِ اعظم سے منقول دعائیں 

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ رَبُّ الْعِزَّتْ سے مناجات کرنے ،  اس کا قرب حاصل کرنے ،  اس کے فضل وانعام کے مستحق ہونے اور بخشش و مغفرت کا پروانہ حاصل کرنے کا نہایت آسان اورمجرب ذریعہ دُعا ہے۔دُعا مانگنا ہمارے پیارے آقا ،  حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنت مبارکہ ،   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے بندوں   کی متواترعادت ،  درحقیقت عبادت بلکہ مغزِ عبادت اورگنہگار بندوں   کے حق میں    اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت اور عظیم سعادت ہے۔ بعض حضرات دعا کی قبولیت کے شاکی ہوتے ہیں   کہ ہماری دعائیں   قبول نہیں   ہوتیں   ،  لہٰذا قبولیت دعاکی شرائط سے متعلق سورۂ مومن کی آیت نمبر۶۰کے تحت صدر الافاضل ،  مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی  عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی کی بیان کردہ تفسیرسے ایک نہایت جامع اقتباس ملاحظہ فرمائیں  :

 ’’ اللہ تعالٰی بندوں   کی دعائیں   اپنی رحمت سے قبول فرماتا ہے اور ان کے قبول کے لیے چند شرطیں   ہیں  : (۱) ایک اخلاص دعا میں  (۲) دوسرے یہ کہ قلب (دل)غیر کی طرف مشغول نہ ہو (۳)تیسرے یہ کہ وہ دعا کسی امرِ ممنوع پر مشتمل نہ ہو (۴)چوتھے یہ کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت پر یقین رکھتا ہو (۵)پانچویں   یہ کہ شکایت نہ کرے کہ میں   نے دعا مانگی قبول نہ ہوئی۔ جب ان شرطوں   سے دعا کی جاتی ہے ،  قبول ہوتی ہے۔ حدیث شریف میں   ہے کہ ’’  دعا کرنے والے کی دعا قبول ہوتی ہے۔ ‘‘   یا تو اس کی مراد دنیا ہی میں   اس کو جلد دے دی جاتی ہے یا آخرت میں   اس کے لیے ذخیرہ ہوتی ہے یااس سے اس کے گناہوں   کا کفارہ کردیا جاتا ہے۔ ‘‘  ([2])

واضح رہے کہ دعا مانگنے کا کوئی وقت مخصوص نہیں   ،  نماز سے پہلے دعا مانگنا بھی جائز تو بعد میں   مانگنا بھی جائز ،  فرض نماز کے بعد بھی جائز ،  نفل نماز کے بعد بھی جائز ،  ایک بار دعا مانگنے کے بعد دوبارہ دعا مانگنا بھی جائز ہے۔یہی وجہ ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مختلف مواقع پر مختلف دعائیں   مذکور ہیں   ،  سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی چند دعائیں   ملاحظہ کیجئے:

(1)نرمی ،  طاقت اور سخاوت کی دعا:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے خلیفۂ اَوّل حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے وصال کے بعد عوام النا س کے سامنے پہلا طویل خطبہ ارشاد فرمایا ،  اور پھر آخر میں   یوں   دعا کی:

٭اَللّٰہُمَّ  اِنِّیْ  غَلِیْظٌ فَلَیِّنِیْ  یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میں   سخت طبیعت کا مالک ہوں   ،  مجھے نرم فرمادے۔

٭ اَللّٰہُمَّ   اِنِّیْ  ضَعِیْفٌ  فَقَوِّنِیْ یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میں   کمزور ہوں   مجھے طاقت عطا فرما۔

٭اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ بَخِیْلٌ فَسَخِّنِیْ  یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میں   کم خرچ کرنے والا ہوں   مجھے سخی بنادے۔ ‘‘  ([3])

(2)مدینہ منورہ میں   شہادت کی دعا:

حضرت سیِّدُنا زید بن اسلم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے والد گرامی حضرت سیِّدُنا اسلم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کرتے ہیں  کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مدینہ منورہ میں   وفات کی یوں   دعا کیا کرتے تھے:   ’’ اللّٰھُمَّ ارْزُقْنَاشَھَادَۃً فِیْ سَبِیْلِكَ وَاجْعَلْ مَوْتِیْ فِیْ بَلَدِ رَسُولِكَ صَلَّی اللّٰهہُ  عَلَیْہِ  وَسَلَّمَ یعنی اے   اللہ عَزَّوَجَلَّ! مجھے اپنی راہ میں   شہادت اور اپنے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے شہر میں   موت عطا فرما۔ ‘‘  ([4])

(3)نیک لوگوں   کے ساتھ وفات کی دعا:

حضرت سیِّدُنا عمرو بن میمون ازدی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جب دعا مانگا کرتے تو یوں   ارشاد فرماتے:  ’’ اَللّٰہُمَّ تَوَفَّنِیْ مَعَ الْاَبْرَارِوَلَاتُخَلِّفْنِیْ فِیْ الْاَشْرَارِ وَقِنِیْ عَذَابَ النَّارِ وَاَلْحِقْنِیْ بِالْاَخْيیَارِاے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!مجھے نیک لوگوں   کے ساتھ وفات دے ،  مجھے شریر لوگوں   میں   باقی نہ رکھ ،  مجھے جہنم سے بچا کر نیک لوگوں   کے ساتھ ملادے۔ ‘‘  ([5])

(4) لباس پہننے کی دعا:

حضرت سیِّدُنا ابوامامہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں   کہ امیر المومنین حضرت سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی نئی قمیص زیب تن فرمائی ۔میرا گمان ہے کہ انہوں   نے قمیص گلے میں   ڈالنے سے پہلے یہ دعا پڑھی :  ’’ اَلْحَمْدُ لِلہِ الَّذِیْ کَسَانِیْ مَا اُوَارِیْ بِہِ عَوْرَتِیْ وَاَتَجَمَّلُ بِہِ فِیْ حَیَاتِیْ یعنی تما م تعریفیں   اس اللہ عَزَّ وَجَلَّکے لیے ہیں   کہ جس نے مجھے وہ لباس پہنایا جس



[1]     مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الزھد ،  کلام عمر بن الخطاب ،  ج۸ ،  ص۱۵۱ ،  حدیث: ۲۶۔

[2]     خزائن العرفان ،  پ۲۴ ،  المومن ،  تحت الآیۃ: ۶۰۔

[3]     طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۰۸۔مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الدعاء ،  ما ذکر عن ۔۔۔الخ ،  ج۷ ،  ص۸۱ ،  حدیث: ۲۔

[4]     بخاری ،  کتاب فضائل المدینۃ ،  باب کراھیۃ النبی۔۔۔الخ ،  ج۱ ،  ص۶۲۲ ،  حدیث: ۱۸۹۰۔

[5]     الادب المفرد ،  باب: ۲۷۹ ،  ص۱۶۴ ،  حدیث: ۶۲۹۔



Total Pages: 349

Go To