Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

9 مدنی پھولوں   پرمشتمل نصیحت آموز وصیتوں   کا فاروقی گلدستہ:

حضرت سیِّدُنا حسن رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ ایک شخص امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں   حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا:  ’’ اےامیر المؤمنین! میں   دیہات کا رہنے والا ہوں   اور میری بہت مصروفیات ہیں   ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مجھے پختہ اور واضح وصیتیں   کیجئے۔ ‘‘  سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:   ’’  ہمیشہ عقلمندی سے کام لو ۔ ‘‘   پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر وصیتیں   کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

٭ ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ ۔ ‘‘  ٭ ’’ اور نماز ادا کرتے رہو۔ ‘‘  ٭ ’’ اور فرض زکوۃ ادا کرتے رہو۔ ‘‘  ٭ ’’ اور حج وعمرہ کرتے رہو ۔ ‘‘  ٭ ’’ اور اپنے امیر کی اطاعت بجالاؤ ۔ ‘‘  ٭ ’’ اور مسلمانوں   کے بالکل واضح طریقے پر چلنا تجھ پر لازم ہے۔ ‘‘  ٭ ’’ اور ایسے خفیہ طریقے پر چلنے سے بچ جسے مسلمان جانتے ہی نہ ہو۔ ‘‘  ٭ ’’ اور ہراس چیز کو اپنے اوپر لازم کرلو جسے بیان کرنے اور پھیلانے میں   تمہیں   شرم محسوس نہ ہواور نہ ہی وہ تمہیں   رسوا کرے۔ ‘‘  ٭ ’’ اور ہر ایسی چیز سے بچو جسے بیان کرنے اور پھیلانے میں   تمہیں   شرم محسوس ہواور وہ تمہیں   رسوا کر دے۔ ‘‘  یہ تمام وصیتیں   سن کر اس بدوی نے بارگاہِ فاروقی میں   عرض کیا:   ’’ يَا اَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ! اَعْمَلُ بِهِنَّ ،  فَاِذَا لَقَيْتُ رَبِّيْ اَقُوْلُ اَخْبَرَنِيْ بِهِنَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ یعنی اے امیر المؤمنین میں   ان امور پر ہمیشہ عمل کرتارہوں   گا اور جب رب تعالی سے میری ملاقات ہوگی تو میں   عرض کروں   گا کہ یااللہ عَزَّ وَجَلَّ! یہ سب باتیں   مجھے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سکھائی تھیں  ۔ ‘‘   یہ سن کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:   ’’ خُذْهُنَّ فَاِذَا لَقَيْتَ رَبَّكَ فَقُلْ لَّهُ مَا بَدَاَ لَكَیعنی ان نصیحتوں   کو پہلے اپنے پلے سے باندھ لو پھر جب رب سے ملاقات کرو تو وہاں   جو چاہے عرض کردینا۔ ‘‘  ([1])

فاروقِ اعظم کی تقوے کی وصیت:

حضرت سیِّدُنا سماک بن حرب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے کھڑے ہونے کی جگہ سے دو سیڑھی نیچے منبر پر کھڑے ہوکر ارشاد فرمایا:   ’’ اُوْصِيْكُمْ بِتَقْوَى اللہِ وَ اسْمَعُوْا وَاَطِيْعُوْا لِمَنْ وَلَّاهُ اللہُ اَمْرَكُمْ یعنی میں   تمہیں   تقوے کی وصیت کرتاہوں   ،    اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جسے تمہارا حکمران بنایا ہے اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ ‘‘  ([2])

خلوت میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرنے کی وصیت:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:   ’’ اُوْصِيْكُمْ بِاللّٰهِ اِذًا بِاللّٰہِ خَلَوْتُمْیعنی میں   تمہیں    تنہائی میں   بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرنے کی وصیت کرتاہوں   ۔ ‘‘  ([3])

نیک لوگوں   کو اپنا دوست بنانے کی وصیت:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:   ’’ اِعْتَزِلْ مَا يُؤْذِيْكَ وَعَلَيْكَ بِالْخَلِيْلِ الصَّالِحِ وَقَلَّمَا  تَجِدْهُ وَشَاوِرْ فِيْ اَمْرِكَ الَّذِيْنَ يَخَافُوْنَ اللہ یعنی جو چیز تمہیں   اذیت پہنچائے اس سےدور رہو ،  نیک  ، صالح شخص کو اپنا دوست بناؤ اوریہ تمہیں   کم ہی ملیں   گے۔اور جو لوگ  اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرتے ہیں   اُن سے مشاورت کرو۔ ‘‘  ([4])

برائی سرزد ہوجائے تو اچھائی کرلو:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک شخص کو وعظ ونصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:  

٭ ’’ لوگوں   سے ہردم ہوشیار رہو کہ وہ کہیں   تمہیں   ہلاکت میں   نہ ڈال دیں   کیونکہ تمہارا معاملہ تمہاری ہی طرف لوٹےگا نہ کہ ان کی طرف ۔ ‘‘  ٭ ’’ اور صرف چلتے چلتے دن کو مت ختم کردو چونکہ دن میں   تم جو عمل بھی کرو گے وہ تمہارے اوپر محفوظ رہے گا۔ ‘‘  ٭ ’’ اور جب تم سے برائی سرزد ہو جائے تو اس کے بعد اچھائی بھی کرو۔ ‘‘  ٭ ’’ کیونکہ میرے نزدیک پرانے گناہ کو مٹانے کے لیے جو نیکی کی جائے اس سے بڑھ کر کوئی ایسی چیز نہیں   ہے جس کی شدید طلب کی جائے یا اس کے حصول میں   جلدی کی جائے۔ ‘‘  ([5])

اپنے نفسوں   کا محاسبہ کرو:

ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بطور نصیحت ارشاد فرمایا:  ٭  ’’ حَاسِبُوْا اَنْفُسَكُمْ قَبْلَ اَنْ تُحَاسَبُوْافَاِنَّهُ اَهْوَنُ لِحِسَابِكُمْیعنی تم اپنا محاسبہ کرو قبل اس سے کہ تمہارا حساب لیا جائے کیونکہ یہ تمہارے حساب لیے جانے سے زیادہ آسان ہے۔ ‘‘  ٭ ’’ وَزِّنُوْا اَنْفُسَكُمْ قَبْلَ اَنْ تُوَزَّنُوْااور اپنے اعمال کا محاسبہ کرتے رہو قبل اس سے کہ تمہارے اعمال کا محاسبہ کیا جائے۔ ‘‘  ٭ ’’ وَتَزَيَّنُوْا لِلْعَرْضِ الْاَكْبَرِ يَوْمَ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰى مِنْكُمْ خَافِيَةٌاور قیامت کے اس دن کے لیے تیار رہو جس دن تم  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں   پیش کیے جاؤ گے اور تم میں   سے کوئی بھی اس پر مخفی نہیں   ہوگا۔ ‘‘  ([6])

 



[1]     تاریخ ابن عساکر ،  ج۴۴ ، ص۳۵۸۔

[2]     کنزالعمال ،  کتاب المواعظ ،  خطب عمر ومواعظہ ،  الجزء: ۱۶ ،  ج۸ ،  ص۶۶ ،  حدیث:  ۴۴۱۹۰۔

[3]     شعب الایما ن للبیھقی ، باب فی اخلاص العمل ۔۔۔الخ ، ج۵ ، ص۳۲۸ ، حدیث: ۶۸۱۰ ۔

[4]     شعب الایمان للبیھقی ،  باب فی مباعدۃ الکفار۔۔۔الخ ،  مجانبۃ الفسقۃ والمبتدعۃ ،  ج۷ ،  ص۵۶ ،  حدیث: ۹۴۴۲ ۔

[5]     المجالسۃ وجواھر العلم ،  الجزء الثالث عشر ،  ج۲ ،  ص۲۲۴ ،  حدیث: ۱۸۹۵۔

[6]     مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الزھد ،  کلام عمر بن الخطاب ،  ج۸ ،  ص۱۴۹ ،  حدیث:  ۱۸۔

                                                 الزھد للامام احمد ،  زھد عمر بن الخطاب ،  ص۱۴۸ ،  الرقم: ۶۳۳۔



Total Pages: 349

Go To