Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

میں   شمار کرو۔ ‘‘  ([1])

مکتوباتِ فاروقِ اعظم

فاروقِ اعظم بارگاہِ رسالت کے تربیت یافتہ تھے:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آج کل کے جدید دور میں   تو ایک دوسرے سے رابطے کے بے شمار ذرائع موجود ہیں   لیکن صدیوں   پہلے اگر کوئی رابطے کا ذریعہ تھا تو وہ صرف مکتوب تھا۔ایک دوسرے کی خیر خیریت ،  تازہ حالات سے آگاہی ،  جنگی معاملات میں   مشاورت ،  عمال وگورنروں   کا بادشاہوں   سے رابطہ وغیرہ ہر قسم کی معلومات ومعاملات خط وکتابت ہی کے ذریعے کیے جاتے تھے۔خصوصاً ایک ملک کے دوسرے ملک کے ساتھ سفارتی معاملات میں   مکتوب کو بڑی اہمیت حاصل تھی ،  ایک بادشاہ کا جب کوئی مکتوب کسی دوسرے ملک کے بادشاہ کے دربار میں   جاتا تو اس پر مختلف پہلوؤں   سے بادشاہ کے دربار میں   موجود ماہرین غوروخوض کرتے اور اس سے نتائج اخذ کرتے۔ لہٰذا کسی بھی ملک کے بادشاہ کو علم التحریرکے اُصول وضوابط کو جاننا ،  فصاحت وبلاغت ،  استعاروں   کا بہترین استعمال ،  ذو معنی کلام ،  مخففات کا استعمال ،  الفاظوں   کی ترتیب اور مختصر الفاظ میں   جامع مانع کلام کرنے جیسی تمام صلاحیتیں   ہونا بہت ضروری تھا ،  بادشاہوں   کی پُراثر تحریر کا وزیروں   ،  مشیروں   ،  درباریوں   اور تمام رعایا پر بہت گہرا اثر پڑتا تھا۔بِحَمْدِ اللہ تَعَالٰی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا اور حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے فضل وکرم سے ان تمام صلاحیتوں   کے جامع تھے ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے عزیزواقرباء ،  کمانڈروں   ،  عمالوں   ،  گورنروں   ،  قاضیوں   اور عام لوگوں   کو اصلاحی ،  سماجی ،  فلاحی ،  سیاسی ،  مذہبی اور عوامی امور پر مختلف اقسام کے مکتوب لکھے جن سے کتب سیر وتاریخ بھری پڑی ہیں   ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مکتوب پڑھنے والا یہ کہنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ واقعی آپ بارگاہِ رسالت ہی کے تربیت یافتہ تھے۔آپ کےچند مکتوب ملاحظہ کیجئے۔

گیارہ 11مدنی پھولوں   پر مشتمل بیٹے کو نصیحت آموز فاروقی مکتوب:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے بیٹے حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ایک مکتوب لکھا جس میں   ارشاد فرمایا:

٭… ’’ اَمَّا بَعْدُ!فَاِنِّيْ اُوْصِيْكَ بِتَقْوَى اللہِ فَاِنَّهُ مَنِ اتَّقٰى اللہَ وَقَّاهُ یعنی حمد وصلوۃ کے بعد میں   تمہیں   تقوی اختیار کرنے کی وصیت کرتاہوں   کیو نکہ جو شخص تقویٰ اختیار کرتاہے اللہ عَزَّ وَجَلَّاسے بچالیتاہے۔ ‘‘ 

٭… ’’ وَمَنْ تَوَكَّلَ عَلَيْهِ كَفَاهُاور جو  اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر توکل کرتاہے اللہ عَزَّ وَجَلَّاسے کافی ہوتاہے۔ ‘‘ 

٭… ’’ وَمَنْ اَقْرَضَهُ جَزَاهُاورجو شخص  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو قرض دیتاہے  اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے بہتر بدلہ دیتاہے ۔ ‘‘ 

٭… ’’ وَمَنْ شَكَرَ زَادَهُاورجو شکر ادا کرتاہے  اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے مزید عطا فرماتاہے۔ ‘‘ 

٭… تقویٰ تمہارا نصب العین ،  عمل کی بنیاد اور دل کی جلاء ہے۔ ‘‘ 

٭… ’’ فَاِنَّهُ لَا عَمَلَ لِمَنْ لَا نِيَّةَ لَهُیعنی بغیراچھی نیت کے کسی عمل خیر کا ثواب نہیں  ۔ ‘‘ 

٭… ’’ وَلَا اَجْرَ لِمَنْ لَا حَسْبَةَ لَهُاوربغیر رضائے الٰہی کے کسی عمل پراجر نہیں   ۔ ‘‘ 

٭… ’’ وَلَا مَالَ لِمَنْ لَا رِفْقَ لَهُاورجس میں   نرمی نہیں   اس کے پاس مال ہونے کا کوئی فائدہ نہیں  ۔ ‘‘ 

٭… ’’ وَلَا جَدِيْدَ لِمَنْ لَا خُلُقَ لَهُاور جس میں   عمدہ اَخلاق نہیں   اس میں   کوئی بزرگی نہیں  ۔  ‘‘  ([2])

چار4 مدنی پھولوں   پر مشتمل ایک گورنر کو نصیحت آموز فاروقی مکتوب:

حضرت سیِّدُنا جعفر بن برقان رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   فرماتے ہیں   مجھے معلوم ہوا ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے ایک گورنر کو مکتوب لکھا جس کے آخر میں   کچھ اس طرح کا مضمون تھا:  

٭ ’’ شدت و سختی کے حساب سے پہلے پہلے کشادگی اور نرمی میں   اپنا محاسبہ کرو ۔ ‘‘  ٭ ’’  جو شخص شدت وسختی کے حساب سے پہلے پہلےآسودگی میں   اپنا محاسبہ کرتاہے تو وہ رضاء ورشک کی طرف لوٹتاہے۔ ‘‘  ٭ ’’ جسے زندگی یاد الہی سے غافل کردے اور وہ گناہوں   میں   مصروف ہوجائے ،  یقینا اس کا نتیجہ حسرت وندامت ہے۔ ‘‘  ٭ ’’ جو تمہیں   وعظ ونصیحت کی جائے اس سے نصیحت حاصل کرو تاکہ تم ان کاموں   سے رک جاؤ جن سے تمہیں   منع کیا گیا ہے۔ ‘‘  ([3])

سیِّدُنا امیر معاویہ کو نصیحت آموز مکتوب:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف ایک مکتوب لکھا جس میں   ارشاد فرمایا:   ’’ حق کے ساتھ لازم رہو ،  حق تمہارے لیے اہل حق کی منازل واضح کرے گا ،  حق کے ساتھ ہی فیصلہ کرو۔ ‘‘  ([4])

حصولِ دنیا سے متعلق فاروقی مکتوب:

حضرت سیِّدُنا شقیق رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کسی کو ایک مکتوب لکھا جس کا مضمون کچھ یوں   تھا:  

 



[1]     سنن کبری  ، کتاب الجمعۃ ، باب کیف یستحب ۔۔۔الخ ، ج۳ ، ص۳۰۵ ، حدیث: ۵۸۰۴۔

[2]     کنزالعمال ،  کتاب المواعظ ،  خطب عمر ومواعظہ ،  الجزء: ۱۶ ،  ج۸ ،  ص۶۵ ،  حدیث: ۴۴۱۸۲۔

[3]     شعب الایمان للبیھقی ،  فصل فیما بلغنا عن الصحابۃ۔۔۔الخ ،  باب فی الزھد وقصر الامل ،  ج۷ ،  ص۳۶۶ ،  حدیث: ۱۰۶۰۱۔

[4]   سیر اعلام النبلاء ، الطبقۃ الثانیۃ عشرۃ ، احمد بن حنبل ، ج۹ ، ص۴۷۰ ،  الرقم:  ۱۸۷۶۔



Total Pages: 349

Go To