Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

۔ ‘‘  ٭ ’’ لہٰذا جس سے کوئی بھلائی کی بات صادر ہوئی تو ہم بھی اسے بھلائی ہی سمجھیں   گے اور بدلے میں   اس سے محبت کریں   گے۔ ‘‘  ٭ ’’ اور جس سے کوئی برائی صادر ہوئی توہم بھی اسے برا ہی سمجھیں   گے اور بدلے میں   اسے ناپسند کریں   گے۔ ‘‘  ٭ ’’ البتہ تمہارے خفیہ معاملات تمہارے اور رب کے درمیان ہیں   ،  ان کا ہم پر کوئی ذمہ نہیں   ۔ ‘‘  ٭ ’’ خبردار !ایک عرصے تک تو میں   یہ ہی سمجھتا تھا کہ تلاوت قرآن کرنے والوں   کا مطلوب محض رضائے الٰہی ہے ،  پھر میری توجہ اس طرف گئی کہ تلاوت قرآن سے کئی لوگ مال ومتاع بھی چاہتے ہیں  ۔پس تم اللہ کے لیے قرآن کی تلاوت کرو اور اللہ ہی کے لیے دیگر اعمال کرو۔ ‘‘   ٭ ’’ خبردار میں   اپنے عُمّال کو تمہارے پاس تمہاری کھالیں   کھینچنے اور مال بٹورنے کے لیے نہیں   بھیجتا ہوں  ۔ ‘‘  ٭ ’’ بلکہ میں   تو اس لیے بھیجتا ہوں   کہ وہ تمہیں   فرائض اور سنتیں   وغیرہ سکھائیں   ۔ ‘‘  ٭ ’’ پس جو گورنر یا عامل اس سے ہٹ کر کوئی کام کرے تو اسے میرے پاس لاؤ  ،  خدا کی قسم! میں   اس سے ضرور بدلہ لوں   گا۔ ‘‘  ٭ ’’ خبردار مسلمانوں   کو بے جا سزائیں   دے کر رسوا نہ کرو۔ ‘‘  ٭ ’’ اور فوج کو دشمن کی زمین میں   امتحان میں   ڈال کر مت آزماؤ۔ ‘‘  ٭ ’’ عوام کے حقوق روک کر انہیں  کفرکی کھائی میں   مت دھکیلو۔ ‘‘  ٭ ’’ انہیں   پس پردہ مت ڈالو ورنہ ضائع کردو گے۔ ‘‘  ([1])

(6)فاروقِ اعظم کا جابیہ میں   پراثر خطبہ:

حضرت موسیٰ بن عقبہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سےر وایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا جابیہ کے موقع پر ایک نصیحت آموز خطبہ دیا جس کا خلاصہ کچھ یوں   ہے:

٭ ’’ میں   تمہیں   اللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرنے کی وصیت کرتاہوں   کیونکہ ڈر ہی وہ شے ہے جس کے سبب اللہ عزوجل اپنے دوستوں   کوعزت عطا فرماتاہے۔جبکہ نافرمانی کے سبب دشمنوں   کو ذلیل وگمراہ کر دیتاہے۔ ‘‘  ٭ ’’ اور اس شخص کے لیے کوئی عذر باقی نہیں   رہتا جو گمراہی کو ہدایت سمجھ کر کرے اور تباہ وبرباد ہو جائے۔ ‘‘  ٭ ’’ اور اس شخص کے لیے بھی کوئی عذر باقی نہیں   رہتا جو ہدایت کو گمراہی سمجھ کرترک کرے ۔ ‘‘  ٭ ’’ اور حاکم کا اپنی رعایا کے ساتھ سب سے سچا اور پختہ معاہدہ ان کے دینی معاملات کا معاہدہ ہے جس سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ لوگوں   کو ہدایت عطا فرمائے۔ ‘‘  ٭ ’’ اور ہم پر ضروری ہے کہ ہم بھی تمہیں   صرف انہیں   کاموں   کا حکم دیں   جن کاموں   میں   رب عَزَّ وَجَلَّ نے تمہیں   اپنی اطاعت کرنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ ‘‘  ٭ ’’ اور ہم پر یہ بھی ضروری ہے کہ ہم تمہیں   صرف انہیں   کاموں   سے روکیں   جن کاموں   میں   رب عَزَّ وَجَلَّ نے تمہیں   اپنی نافرمانی کرنے سے منع فرمایا۔ ‘‘  ٭ ’’ اور ہم پر لوگوں   کی موجودگی یا غیر موجودگی دونوں   صورتوں   میں   یہ بھی ضروری ہے کہ تمہارے معاملے میں    اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حکم کو قائم کریں   ۔ ‘‘  ٭ ’’ جن کی جانب حق مائل ہے ہمیں   ان کو وعظ ونصیحت کرنے کی اتنی فکر نہیں  ۔ ‘‘  ٭ ’’ حالانکہ مجھے بخوبی علم ہے کہ لوگ اپنے دینی معاملات کے بارے میں   باتیں   بناتے ہوئے یوں   کہتے ہیں   کہ ہم نماز پڑھتے ہیں    ،  مجاہدین کے ساتھ جہاد کرتے ہیں   اورہم ہجرت بھی کرتے ہیں   ۔ ‘‘  ٭ ’’ وہ یہ سب کا م تو کرتے ہیں   لیکن ان کاموں   کو جس طرح کرنے کا حق ہے ویسا نہیں   کرتے۔ ‘‘  ٭ ’’ ایمان بناؤ سنگھار کا نام نہیں  ۔ ‘‘  ٭ ’’ گناہگار ہجرت نہ کرنے کے باوجود یہ کہتا ہے:  میں   نے بھی ہجرت کی تھی ،  جب کہ گناہ چھوڑنے والے ہی حقیقتاً مہاجرین ہیں  ۔٭ ’’ بہت ساری قومیں   کہتی ہیں   کہ ہم نے جہاد کیا حالانکہ جہاد تو یہ ہے کہ  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں   دشمنوں   سے لڑا جائے اور حرام سے اجتناب کیا جائے۔ ‘‘  ٭ ’’ کئی قومیں   فریضہ جہاد بحسن خوبی انجام دیتی ہیں   ،  لیکن نہ ہی ان کا مطلوب اجروثواب ہوتاہے اور نہ ہی شہرت۔ ‘‘  ٭ ’’ جان لو کہ ایسا روزہ حرام ہے جس میں   مسلمانوں   کو اذیت دی جاتی ہے ،  مسلمان کو اذیت پہنچانا اسی طرح ممنوع ہے جس طرح بحالت روزہ کھانا پینا اور بیوی سے ہمبستری کرنا ممنوع ہے اور جس روزے میں   یہ صفات ہوں   وہی کامل روزہ ہے۔ ‘‘  ٭ ’’  جس زکوۃ کو حضور نبی کریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پاکیزگیٔ نفس کے لیے فرض فرمایا تھا اسی کی ادائیگی کو یہ لوگ نیکی نہیں   سمجھتے۔ ‘‘  ٭ ’’ نصیحت آموز باتیں   اچھی طرح سمجھا کرو۔ ‘‘  ٭ ’’ اور خوش بخت ہے وہ انسان جسے غیر کے ذریعے نصیحت کی جائے بدبخت تو اپنی ماں   کے پیٹ ہی میں   بدبخت ہوتاہے۔ ‘‘  ٭ ’’ سب سے برے امور خلاف شریعت باتیں   ہیں   ، سنتوں   کے معاملے میں   میانہ روی اختیار کرنا بدعت کے معاملے میں   کوشش کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔ ‘‘  ٭ ’’ بلا شبہ لوگوں   میں   ان کے حکمرانوں   کے متعلق نفرت پائی جاتی ہے ،  میں   نفر ت سے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی پناہ مانگتا ہوں  ۔ ‘‘  ٭ ’’ تم پر لازم ہے کہ دلوں   میں   پیدا ہونے والے کینے سے بچو ،  گناہوں   بھری خواہشات اور برے اثرات والی دنیا سے بچو۔ ‘‘  ٭ ’’ اور یقینا میں   اس بات سے ڈرتا ہوں   کہ تم لوگ ظالم لوگوں   کی طرف مائل ہو لہٰذا مالداروں   سےمطمئن نہ ہوا کرو۔ ‘‘  ٭ ’’ اور قرآن پاک کو مضبوطی سے تھامے رکھنا تم پر لازم ہے ،  کیونکہ اس میں   نور اور شفاء ہے اور جو شے قرآن کے مخالف ہے اس میں   سراسر بدبختی ہے۔ ‘‘  ٭ ’’ اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے تمہارے جن امور کا والی بنایا اس کے متعلق میں   نے فیصلہ کردیا ہے۔ ‘‘  ٭ ’’ اور میں   نے تمہاری خیر خواہی کے لیے نصیحت کی ،  غذا کے انتظام کا حکم دیا ،  تمہارے لشکر تیار کرکے سامان جنگ مہیا کیا۔ ‘‘  ٭ ’’ ان تمام باتوں   کے بعد اب تمہارے لیے اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر کوئی حجت نہیں   ،  بلکہ اللہ تعالی کی تم پر حجت ہے ،  میں   بس تم سے یہی کہنا چاہتا تھا اور میں    اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اپنے لیے اور تم سب کے لیے معافی مانگتا ہوں۔ ‘‘  ([2])

(7)جو رحم نہیں   کرتااس پر بھی رحم نہیں   کیا جائے گا:

حضرت سیِّدُنا قبیصہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے منبر پر تشریف فرما ہو کر خطبہ دیتے ہوئےارشاد فرمایا:  

٭… ’’ مَنْ لَا يَرْحَمْ لَا يُرْحَمْ یعنی جو رحم نہیں   کرتا اس پر بھی رحم نہیں   کیا جاتا۔ ‘‘ 

٭… ’’ وَمَنْ لَا يَغْفِرْ لَا يُغْفَرْ لَهُ اور جو معاف نہیں   کرتا اسے بھی معاف نہیں   کیا جاتا۔ ‘‘ 

٭… ’’ وَمَنْ لَا يَتُوْبُ لَا يُتَابُ عَلَيْهِ اور جو رجوع نہیں   کرتا اس کے معاملے میں   بھی رجوع نہیں   کیا جاتا۔ ‘‘ 

 



[1]     مسند امام احمد ،  مسند عمر بن الخطاب ،  ج۱ ،  ص۹۴ ،  حدیث: ۲۸۶ ملتقطا۔

[2]     کنزالعمال ،  کتاب المواعظ ،  خطب عمر ومواعظہ ،  الجزء: ۱۶ ،  ج۸ ،  ص۶۹ ،  حدیث: ۴۴۲۰۶۔



Total Pages: 349

Go To