Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

کرسکتا۔ ‘‘  ٭ ’’ اور غور سے سن لو! میں    اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مال کے معاملے میں   اپنے آپ کو یتیم کے ولی کی جگہ رکھتا ہوں  ۔ ‘‘  ٭ ’’ اگر میں   بذات خود مالدار ہوا تو اس مال سے دور رہوں   گا اور اگر مالدار نہ ہوا تو جائز طریقے سے اس میں   سے کھاؤں   گا۔ ‘‘  ([1])

فاروقِ اعظم کے نصیحت آموز اشعار:

            حضرت سیِّدُنا ابو خالد غسانی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے روایت ہے کہ مجھے شامی مشایخ نے بیان کیا کہ انہوں   نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دیکھا کہ جب ان کو خلیفہ بنایاگیا تو وہ منبر پر چڑھے  ،  جب انہوں   نے لوگوں   کو نیچے دیکھا تو  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حمد وثنا بیان کی ،   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حمد اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی  ثناء کے بعد جو اُن کا پہلا کلام تھا وہ یہ اَشعار تھے:

هَوِّنْ عَلَيْكَ فَاِنَّ الْاُمُوْرَ ،  بِكَفِّ الْإلٰهِ مَقَادِيْرَهَا

فَلَيْسَ بِآتِيْكَ مَنْهِيْهًا ،  وَلَا قَاصِرٍ عَنْكَ مَامُوْرَهَا

ترجمہ:   ’’ اپنی ذات پر نرمی وآسانی کرو کیونکہ تمام معاملات کی ڈور  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے دست قدرت میں   ہے۔ منہیات یعنی جن کاموں   سے منع کیا گیا ہے ان کی ادائیگی نہ کرواور مامور بہا یعنی جن کاموں   کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے ان کے کرنے میں   کوتاہی نہ کرو۔ ‘‘   ([2])

(2)خیر کی اتباع کرنے والااسے پالیتاہے:

حضرت سیِّدُنا حسن رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کرتے تھے:  ’’ يَا اَيُّهَا النَّاسُ ! اِنَّهُ مَنْ يَّتَّقِ الشَّرّ يُوْقَهُ ،  وَمَنْ يَّتَّبِعُ الْخَيْرَ يُؤْتَهُاے لوگو! جو شر سے ڈرتا ہے تو اس سے بچا لیاجاتاہے اور جو شخص بھلائی چاہتا ہے تو اسے عطا کر دی جاتی ہے۔ ‘‘  ([3])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واقعی جو شخص برائیوں   سے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرتا ہے  ،   نیکیاں   کرنے میں   سبقت کرتا ہے تو رب عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت اس کی حامی وناصر ہوتی ہے۔

(3)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نیک بندوں   کی صفات:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن زبیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک بار ارشاد فرمایا:

٭ ’’ بے شک  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے کچھ بندے ایسے ہیں   جو باطل کو چھوڑ کر اسے مردہ کردیتے ہیں  ۔ ‘‘  ٭ ’’ اور حق کا بول بالا کرکے اسے زندگی بخشتے ہیں  ۔ ‘‘  ٭ ’’ وہ بھلائی کے کاموں   میں   رغبت رکھتے ہیں   تو انہیں   رعب عطا کردیا جاتاہے۔ ‘‘   

٭ ’’ اور وہ ڈرتے بھی ہیں   اور انہیں   ڈر عطا بھی کیا جاتاہے۔ ‘‘  ٭ ’’ اگر فقط وہی ڈرتے رہیں   تو لوگوں   سے امن میں   نہیں   رہ سکتے۔ ‘‘  ٭ ’’ جن اشیاء کا مشاہدہ نہیں   کیا انہیں   بھی یقین سے دیکھتے ہیں  ۔ ‘‘  ٭ ’’ کیونکہ وہ نہ ختم ہونے والی زندگی یعنی آخرت کو ترجیح دیتے ہیں  ۔ ‘‘  ٭ ’’ انہیں   خوف ہی کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ ‘‘  ٭ ’’ اور یہ لوگ آخرت کے بدلے دنیا کو چھوڑ دیتے ہیں  ۔ ‘‘  ٭ ’’ حیات ان کے لیے نعمت اور موت ان کے لیے کرامت ہے ۔ ‘‘  ٭ ’’ کل بروز قیامت حور عین سے ان کی شادی کرائی جائے گی اور جنتی خدام ان کی خدمت پر مامور ہوں   گے۔ ‘‘  ([4])

(4)کون سی چیز اِسلام کو منہدم کردیتی ہے؟

حضرت سیِّدُنا زیاد بن حدید رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:   ’’ يَا زِيَادَ ابْنَ حَدِيْرٍ هَلْ تَدْرِيْ مَا يَهْدِمُ الْاِسْلَامَ؟یعنی اے زیاد بن حدیر! کیا تم جانتے ہو کہ کونسی چیز یں  اسلام کو منہدم کردیتی ہیں  ؟ ‘‘   پھر خود ہی ارشاد فرمایا:

٭ ’’ گمراہ امام۔ ‘‘  ٭ ’’ منافق کا قرآن کے ساتھ جھگڑا کرنا۔ ‘‘  ٭ ’’ وہ قرض جو تمہاری گردنوں   کو توڑ ڈالے۔ ‘‘  ٭ ’’ اورمجھے تمہارے اوپر اہل علم کی لغزشوں   کا خدشہ ہے۔ ‘‘  ٭ ’’ بہرحال اگر کسی علم والے کی لغزش درست ہوجائے تو تم لوگ اس لغزش کی پیروی نہ کرو۔ ‘‘  ٭ ’’ اور اگر وہ گمراہ ہی رہے تو اس کی ہدایت کے معاملے میں   مایوس نہ ہو جاؤ کیونکہ صاحب علم سے لغزش ہوجائے تو وہ توبہ کرلیتا ہے۔ ‘‘  ٭ ’’  اور جس کے دل میں     اللہ عَزَّ وَجَلَّ غنا یعنی لوگوں   سے بے پرواہی ڈال دے تو وہ فلاح پاگیا۔ ‘‘   ([5])

(5)جس نے بھلائی کی ہم اس کی بھلائی کا خیال رکھیں   گے:

حضرت سیِّدُنا ابو فراس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

٭  ’’ اے لوگو! خبردار ہم تمہیں   اس وقت سےجانتے ہیں   جب خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ہمارے درمیان موجود تھے۔ ‘‘  ٭ ’’ یاد رکھو اس وقت وحی کا نزول ہوتاتھا اورہمیں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہارے متعلق سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے ذریعے خبردار فرمادیتا تھا۔ ‘‘  ٭ ’’ لیکن خبردار! حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اب دنیا سے تشریف لے جا چکے ہیں   اور وحی کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے۔ ‘‘  ٭ ’’ لہٰذا اب ظاہری معاملات میں   ہم تمہیں   اپنے قول سے پہچانیں   گے



[1]     المجالسۃ و جواھر العلم ، الجزء التاسع ، ج۲ ، ص۴۷ ، الرقم: ۱۲۹۱۔

[2]     کنزالعمال ،  کتاب المواعظ ،  خطب عمر ومواعظہ ،  الجزء: ۱۶ ،  ج۸ ،  ص۶۶ ،  حدیث: ۴۴۱۸۷۔

[3]     کنزالعمال ،  کتاب المواعظ ،  خطب عمر ومواعظہ ،  الجزء: ۱۶ ،  ج۸ ،  ص۶۸ ،  حدیث: ۴۴۲۰۴۔

[4]     حلیۃ الاولیاء ،  عمر بن الخطاب ،  ج۱ ،  ص۹۲۔

[5]     کنزالعمال ،  کتاب المواعظ ،  خطب عمر ومواعظہ ، الجزء: ۱۶ ،  ج۸ ،  ص۶۸ ،   حدیث: ۴۴۲۰۳۔

                                                سنن دارمی ،  باب فی کراھیۃ اخذ الرای ،  ج۱ ،  ص۸۲ ،  الرقم: ۲۱۴۔



Total Pages: 349

Go To