Book Name:Beta Hoto Aisa

     اکثر  مدنی منے ٹافیاں ،  گولیاں ،  چاکلیٹ ، گولاگنڈا اور دیگر رنگ برنگی میٹھی چیزیں کھانے کے شوقین ہوتے ہیں لیکن ان چیزوں کے غیر معیاری  (یعنی گھٹیا)  ہونے اور ان کے کھانے میں بے احتیاطی برتنے کے سبب ان کے دانتوں،  گلے ، سینے ،  معدے اور آنتوں وغیرہ کو نقصان پہنچنے کا خطرہ رہتا ہے ۔   لہٰذا مسلمانوں کو نفع پہنچانے کی نیّت سے ٹافیوں وغیرہ کے بارے میں مختلف ویب سائٹس سے حاصل کردہ طبّی تحقیقات کہیں کہیں الفاظ وغیرہ کی تبدیلی کے ساتھ پیش خدمت ہیں :

دانتوں کی ٹوٹ پھوٹ

 اینیمل (Enamel) نامی ایک مضبوط چمک دار تہ دانتوں پر ہوتی ہے جو ان کی حفاظت کرتی ہے،  مضر صحت چیز کھانے کے سبب منہ میں بیکٹیریا  (یعنی جراثیم) پیدا ہوتے ہیں جو اس تہ کو نقصان پہنچاتے ہیں جس کی وجہ سے دانتوں میں ٹوٹ پھوٹ شروع ہوجاتی ہے۔ 

 منہ میں چھالے اور گلے میں سوزِش کی ایک وجہ

      ٹافیاں وغیرہ کھانے کے بعد بچے عموماً دانت صاف نہیں کرتے جس کی وجہ سے مٹھاس دانتوں میں جم جاتی ہے اور جراثیم پلنے شروع ہوجاتے ہیں جو کہ دانتوں میں کیڑا لگنے،  منہ میں چھالوں اورگلے میں تکلیف کا سبب بنتے ہیں ۔   

ناقص کھٹ مٹھی گولیوں کی تباہ کاریاں

      پاکستان کے گلی محلوں میں بکنے والی اکثر ٹافیاں اور کھٹ مٹھی گولیاں ناقص اور گھٹیا ہوتی ہیں چنانچہ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق منی (یعنی چھوٹی)  فیکٹریوں میں ناقِص خام مال سے تیار شدہ گولیاں ٹافیاں بچوں کی صحت پر خطرناک اثرات مرتب کر رہی ہیں ۔   گھروں میں قائم ان فیکٹریوں میں گولیوں ٹافیوں کی تیاری میں گلوکوز، سکرین اور تیسرے درجے کی  (یعنیThird



Total Pages: 15

Go To