Book Name:Guldasta e Durood o Salam

          حضرت سیِّدُنا اَبُوایُّوب اَنصْاری   رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں  :  ہم تاجدارِ رسالت ، محبوبِ ربُّ العزّتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خِدْمتِ سراپا رَحْمت میں حاضِر تھے ۔ کھانا پیش کیا گیا ، اِبتِدا میں اِتنی بَرَکت ہم نے کسی کھانے میں نہیں دیکھی مگر آخِر میں بڑی بے بَرَکتی دیکھی ۔ ہم نے عرض کی  :   یارسُولَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  !ایسا کیوں ہوا؟ ارشاد فرمایا : ’’ ہم سب نے کھانا کھاتے وَقْت بِسْمِ اﷲ پڑھی تھی ۔  پھر ایک شخص بِغیر بِسْمِ اﷲ پڑھے کھانے کو بیٹھ گیا ، اُس کے ساتھ شیطان نے کھانا کھا لیا ۔ ‘‘ (شرح السنہ، کتاب الاطعمہ ، باب التسمیۃ علی الاکل والحمد فی آخرہ، ۶ /  ۶۲، حدیث : ۲۸۱۸)

            یاد رکھئے ! کھانے یاپینے سے قبل بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پڑھ لینے سے جہاں آخِرت کا عَظِیم ثواب ہے وہیں دُنیا میں بھی اس کا فائدہ ہے کہ اگر کھانے یاپینے کی چیز میں کوئی مُضِر (یعنی نُقصان دہ ) اَجزاء شامل ہوں بھی تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ وہ نُقصان نہیں دیں گے اسی ضِمن میں ایک حکایت سُنئے اور جُھوم اُٹھئے ۔ چُنانچہ

زہرِ قاتل بے اثرہوگیا

حضرتِ سیِّدُناخالِدبن ولید  رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ  نے مقامِ ’’حیرہ‘‘ میں جب اپنے لشکر کے ساتھ پڑاؤ کیا تو لوگوں نے عرض کی  :  یاسیِّدی ! ہمیں اندیشہ ہے کہ کہیں یہ عجمی لوگ آپ کوزہر نہ دے دیں لہٰذامُحتاط رہئے گا ۔  آپ رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’لاؤ میں دیکھ لوں کہعَجَمِیّوں  کازہر کیسا ہوتا ہے ؟‘‘ لوگوں نے آپ رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ کو دیا تو آپ  رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ نے   ’’بِسمِ اللّٰہ ‘‘ پڑھ کر کھا لیا ۔  اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ آپ  رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ  کو بال برابر بھی ضَرَر (یعنی نقصان) نہ پہنچا اور ’’کلبی‘‘کی روایت میں یہ ہے کہ ایک عیسائی پادری جس کا نام عبدُالْمَسِیْح تھا ۔ ایک ایسا زَہر لے کر آیا کہ اُس کے کھا لینے سے ایک گھنٹہ کے بعد موت یقینی ہوتی ہے ۔ آپ    رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ  نے اُس سے زَہر مانگ کر اُس کے سامنے ہی’’ بِسْمِ اللّٰہِ وَ بِاللّٰہِ رَبِّ الْاَرْضِ وَ السَّمَاء بِسْمِ اللّٰہِ الَّذِیْ لَایَضُرُّ مَعَ اسْمِہٖ دَاءٌ‘‘پڑھا اور زَہر کھا گئے ۔ یہ منظر دیکھ کر عبدُالْمَسِیح نے اپنی قوم سے کہا  :  ’’اے میری قوم! انتِہائی حیرتناک بات ہے کہ یہ اتنا خطرنا ک زَہر کھا کر بھی زِندہ ہیں ، اب بہتر یِہی ہے کہ ان سے صُلْح کر لی جائے ، ورنہ ان کی فَتْح یقینی ہے  ۔ ‘‘ (حجۃُ اللّٰہ علی الْعلمین، المطلب الثالث، من کرامات خالد بن الولید، ۶۱۷ملخصا)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے بِسْمِ اللّٰہ شریف کی بَرَکت سے خطرناک زہر نے حضرت سَیِّدُناخالد بن ولید رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ پر کوئی اثرنہ کیا ۔ ہمیں بھی ہرکام کی ابتدا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ذِکر سے کرنی چاہیے اورجب بھی فارغ وقت ملے تو ذِکرُاللّٰہمیں مشغول رہنے کے ساتھ ساتھ نبیِّ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذاتِ بابَرَکات پرکثرت کے ساتھ دُرُودِپاک بھی پڑھنا چاہیے ۔ کیونکہ قرآنِ پاک میں بھی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے جابجااپنے پاک نام کے ساتھ اپنے محبوبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا مُبارک نام بھی ذِکر فرمایا ہے ۔ جیسا کہ خُود اپنی ذات پرایمان لانے کیساتھ اپنے حبیب پرایمان لانے کا حُکم ارشاد فرمایا ، توکہیں اپنی اِطاعت کے ساتھ اپنے رسول کی اِطاعت کو بھی لازِم فرمایا اور کہیں اپنی اور اپنے حبیب کی نافرمانی کرنے والے کو مستحقِ عذابِ نار قرار دیا ۔ اسی طرح مُتَعدَّد مَقامات پر اپنے نام کے ساتھ اپنے محبوب کے نام کو جُدا نہیں فرمایا تو ہمیں بھی چاہیے کہ ذِکرُاللّٰہ کے ساتھ ساتھ ذِکرِ رسول سے بھی اپنی زبانیں تررکھا کریں اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ رَحمتوں اور بَرَکتوں کا ڈھیروں خزانہ ہمارے ہاتھ آئے گا ۔

وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ کی تَفْسیر

حضرتِ صدرا لْافاضِل مولانا سیِّدمحمد نعیم الدین مُراد آبادیعَلَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہِالْہَادی خَزائنُ العرفان میں آیۂ مبارکہ ’’وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ (اور ہم نے تمہارے لئے تمہارا ذِکر بلند کردیا  ۔ )‘‘کے تَحت فرماتے ہیں  :  حدیث شریف میں ہے سیّدِعالَمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے حضرت جبریل سے اس آیت کو دَریافت فرمایا تو اُنہوں نے کہا  :  اللّٰہ تعالی فرماتا ہے کہ آپ کے ذِکر کی بُلندی یہ ہے کہ جب میرا ذِکر کیا جائے میرے ساتھ آپ کا بھی ذِکر کیا جائے ۔ حضرت ابنِ عباس  رَضِی اللّٰہ تَعالٰیعَنْہُما فرماتے ہیں  :  ’’ اس سے مُرادیہ ہے کہ اذان میں ، تَکْبِیْر میں ، تَشَہُّد میں ، منبروں پر ، خُطبوں میں (اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ذِکر کے ساتھ اس کے رسول کو بھی یاد رکھاجائے ) ۔  اگر کوئی اللّٰہ تعالیٰ کی عِبادت کرے ہر بات میں اس کی تصدیق کرے اور سیّدِ عالَمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رسالت کی گواہی نہ دے تو یہ سب بے کارہے اور وہ (شخص) کافر ہی رہے گا ۔

اسی طرح حضرت علَّامہ محمدمہدی فاسیعَلَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہالْکَافِی مَطَالِعُ الْمَسَرَّات میں علامہ فاکہانی  قُدِّ سَ سرُّہُ النُّورانی سے منقول ایک قول بیان فرماتے ہیں ہے  :  ’’ہرمُصنِّف، دَرس دینے والے ، خطیب، شادی کرنے والے اور نکاح پڑھانے والے کے لئے اور تمام اَہم اُمور سے پہلے مُسْتَحَب یہ ہے کہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی حَمد وثنا کے ساتھ ساتھ بارگاہِ رسالت میں ہدیۂ دُرُود وسلام بھی پیش کرے ۔ ‘‘(مطالع المسرات مترجم، ص ۶۲  ملخصاً وملتقطاً)

مزید فرماتے ہیں  : ’’شب اسریٰ کے دولہا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرود پاک بھیجنے میں اللّٰہ تعالیٰ کا بھی ذِکرہے اور رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ذِکر بھی ہے جبکہاللّٰہ تعالیٰ کا ذِکر کرنے میں نبیِّ پاک کا ذِکر نہیں ہے ، اگر کوئی ہمیشہ ذِکرِالہٰی کرتارہے تو اس کی بَرَکت سے گناہوں سے بچ جاتاہے  اوراُسے ایسی نُورانِیَّت حاصل ہوتی ہے جو اس کے تمام بُرے اَوصاف کوخَتم کردیتی ہے اور ذکرِ الٰہی کی ہیبت وجَلالت کے سبب طبیعت میں جوگرمی پیدا ہوجاتی ہے حُضُور عَلَیْہِ السَّلام پر دُرُودِپاک پڑھنے کی بَرَکت سے طبیعت کی یہ حَرارَت دُور ہوجاتی اور نَفس کو قُوَّت حاصل ہوتی ہے  ۔ (مطالع المسرات، ص ۷۰  ملخصاً وملتقطاً)

ذکرِخُدا جو اُن سے جُدا چاہو نجدیو!

واللّٰہ! ذکرِ حق نہیں کُنجی سَقَر کی ہے (حدائقِ بخشش، ص۲۰۷)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 



Total Pages: 141

Go To