Book Name:Guldasta e Durood o Salam

بِہَااَعْلَی الدَّرَجَاتِ وَتُبَلِّغُنَا بِہَا اَقْصَی الْغَایَاتِ

مِنْ جَمِیْعِ الْخَیْرَاتِ فِی الْحَیَاۃِ وَبَعْدَ الْمَمَاتِ

 اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          سَعادَۃُ الدَّارَیْن میں ہے ایک مرتبہ دَربارِ رسالت میں ایک شخص حاضِر ہوااورفَقرو فاقہ اور تنگیٔ مَعاش کی شکایت کی تومَحبوبِ ربِّ ذُو الجَلال، پیکرِ حُسن و جمال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  ’اِذَادَخَلْتَ مَنْزِلَکَ فَسَلِّمْ اِنْ کَانَ فِیْہِ اَحَدٌ اَوْلَمْ یَکُنْ فِیْہِ اَحَدٌ، یعنی جب تم اپنے گھر میں داخل ہو تو السَّلَامُ عَلَیْکُمکہہ لیا کرو چاہے گھر میں کوئی ہو یا نہ ہو ۔ پھر مجھ پر سلام کہا کرو اورایک مرتبہ قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌپڑھ لیا کرو ، اس شخص نے ایسا ہی کیا تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے اس کا رزق کُشادہ فرمادیا حتی کہ اس کے ہمسایوں اور رشتہ داروں کو بھی اس رِزق سے حصّہ پہنچا ۔  (سعادۃ الدارین، الباب الثانی فیماورد فی فضل الصلاۃ والتسلیمالخ، حرف الجیم، ص۸۴)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے دُرُودِپاک کس قَدر باعثِ ِبَرَکت ہے کہ ایک شخص جو پہلے تنگیٔ معاش کے سبب فَقرو فاقہ کی زِندگی بسر کررہا تھا لیکن جب اس نے حَبِیبِ مُکَرَّم ، نَبِیِّ مُعَظَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود وسلام کو اپنے روزو شب کا وَظِیفہ بنالیا تو اللّٰہعَزَّوَجَلَّنے اسے اس قَدر عطا فرمایا کہ اس نے اپنے ہمسایوں اورقَرابت داروں کی بھی مَدد کی ۔

            فی زمانہ اگرہم اپنے گرد و نواح میں نظر دوڑائیں تو ہر دوسرا شخص تنگدستی و بے روزگاری کا رونا روتا نظر آتا ہے ۔ اگر ہم بھی صُبح وشام بکمالِ خُشوع وخُضوع دل کو سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف مُتوجِّہ کرکے آپ کی ذات ِ گرامی پر دُرُود وسلام کے گجرے نچھاور کرتے رہیں تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ اسکی بَرَکت سے نہ صرف سرکارِدوعالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کیمَحَبَّت ہمارے دلوں میں جا گزیں ہوگی بلکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہمارے رِزقِ حلال میں بَرَکت بھی عطا فرما دے گا ۔  اسی ضِمن میں ایک عاشقِ رسول کا ایمان افروز واقعہ سنئے اور جُھوم جُھوم کر سرکارِنامدار، مَدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دربارِ گوہر بار میں بَصد اِحتِرام دُرُود وسلام کا نذرانہ پیش کیجئے ۔ چُنانچہ

بَلْخ کا سودا گر

            شہربَلْخ میں ایک سوداگَر رہتا تھا ۔ اِس کے دو بیٹے تھے ۔ سوداگر کا اِنْتِقَال ہوگیا ۔ اُس نے تَرکہ میں مال و زَر کے علاوہ حُضُور سراپائے نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے تین مُوئے مُبارَک بھی چھوڑے ۔ دونوں بیٹوں میں تَرِکہ تقسیم ہوا ۔ دُنْیَوِی مال آدھا آدھا بانٹ لیا مگر مُوئے مُبارَک کی تقسیم میں یہ مَسئلہ کھڑا ہوگیا کہ اِن کو کیسے تقسیم کریں ؟ چُنَانْچہ بڑے لڑکے نے یہ تَجویز پیش کی کہ دونوں ایک ایک بال رکھ لیں اور بَقِیَّہ ایک کو قَطْع کرکے آدھا آدھا بانٹ لیا جائے ۔ چھوٹا لڑکا جو کہ نِہایت ہی عاشقِ رسول تھا، یہ تَجْوِیز سُن کر کانپ گیا اور اُس نے کہا  :  ’’میں ہر گز ہرگز ایسی بے اَدَبی کی جُرأت نہیں کرسکتا ۔ میرا دِل سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بالِ مُبارَک کے دو حصے کرنے کی اِجازت نہیں دیتا ۔  ‘‘یہ سن کر بڑے بھائی نے بگڑ کر کہا :  ’’اگر تجھے بالوں کی عَظْمَت کا اِتنا ہی اِحساس ہے تو یوں کر کہ تینوں بال تُو رکھ لے اور سارا مال و دولت مجھے دے دے ۔ ‘‘چھوٹے بھائی نے اِس فیصلے کو قَبول کرتے ہوئے تینوں مُقَدَّس بال لے کر سارا مال بخوشی بڑے بھائی کے حوالے کردیا ۔ اَب چھوٹے بھائی نے اَپنا یہ معمول بنالیا کہ تینوں مُبارَک بالوں کو سامنے رکھ کرحُضُورعَلَیْہِ السَّلام کی بارگاہِ بے کَس پناہ میں  دُرُود ِپاک کے پھول پیش کیا کرتا ۔ اِس کی بَرَکت سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اُس کے مختصر سے کاروبار میں اُسے ترقی عطا فرمائی اور وہ مالدار ہوگیا ۔  دوسری طرف بڑے بھائی کو دُنْیَوِی مال میں خَسارے پر خَسارہ آنے لگا حتی کہ وہ کَنگال ہوگیا ۔ دَرِیں اَثْنا چھوٹے بھائی کا اِنْتِقَال ہوگیا ۔ کسی نیک آدمی نے اُس چھوٹے بھائی اور سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو خَواب میں دیکھا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرمارہے ہیں  :  جاؤ! لوگوں سے کہہ دو کہ اگر اِنہیں کوئی حاجت دَرپیش ہو تو میرے اِس عاشِق کی قَبْر کی زِیارت کریں اور اللّٰہعَزَّوَجَلَّ سے اَپنی حاجتیں طلَب کریں ۔

            اُس نیک آدمی نے اپنا خَواب لوگوں پر ظاہر کیا اور حُضُورعَلَیْہِ السَّلام کا پیغام سُنایا ۔  پھر کیا تھا، لوگ نِہایت اَدَب وتَکْرِیم کے ساتھ جوق در جوق اُس عاشَقِ رسول کے مزار ِپُر اَنوار کی زِیارت کے لیے آنے لگے ۔ صاحِبِ مزار رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکی بَرَکتوں سے لوگوں کے مُعامَلات حل ہونے لگے ۔ لوگ اِس مزار کا کافی اَدَب کرتے تھے یہاں تک کہ اگر کوئی سُوار مزار کے پاس سے گزرتا تو اَدباً سواری سے نیچے اُترآتا ۔ (القول البدیع ، الباب الثانی فی ثواب الصلاۃ والسلام علی رسول اللّٰہ، ص۲۷۰ )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہوسکتا ہے کہ شیطانِ لَعین کسی کے ذِہن میں یہ وَسوَسہ ڈالے کہ سرکار صَلّٰی اﷲُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے پردۂ ظاہری کو تو چودہ سو سال گزر گئے ہیں ، مگر آج تک لوگوں کے پاس آپ کے بال مُبارک موجود ہیں ، یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے اور پھر دُنیا کے کونے کونے میں لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی پاک صَلّٰی اﷲُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلِہ وَسَلّمَ کے بال مُبارک ہیں تو اِس بات کا کیا ثُبوت ہے کہ یہ واقعی حُضُور پاک صَلّٰی اﷲُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلّمَ ہی کے مُوئے مُبارک ہیں ؟

            جواباً عرض ہے کہ جب سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مُوئے مُبارک تَراشے جاتے تھے تو صحابۂ کرامعَلَیْھِمُ الرِّضْوان انہیں حاصل کرنے کی خاطِر پروانہ وار ٹوٹ پڑتے اور جسے کچھ مِل جاتا وہ اُسے دُنیا کی ہر چیز سے عزیز تر سمجھتا اور بَحفاظتِ تمام سنبھال کر رکھتا ۔ پھر رَفتہ رَفتہ صحابۂ کرامعَلَیْھِم الرِّضْوان نیکی کی دعوت عام کرنے کی غرض سے دُنیا کے چپّہ چپّہ میں پھیلتے گئے اور اِس طرح دوسری اشیا کے ساتھ ساتھ مُوئے مُبارک بھی دُنیا کے کونے کونے میں پہنچے اور یہ بات تو بچہ بچہ جانتا ہے کہ انبیائے کرام عَلَیْھِمُ السَّلام کے اجسامِ طاہرہ کو زمین نہیں کھاسکتی جیسا کہ حدیثِ پاک میں آتا ہے  :  

اِنَّ اللّٰہ حَرَّمَ عَلیَ الْاَرْضِ اَنْ تأکُلَ اَجْسادَ الْانْبِیاء

 



Total Pages: 141

Go To