Book Name:Guldasta e Durood o Salam

آپ رَحمۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِکے وصال کے ستتر(۷۷)سال کے بعد آپ کے جسدِمُبارک کو مقامِ ’’سَوْس‘‘ سے ’’ مراکش‘‘منتقل کرنے کے لیے قَبر سے نکالا گیا تو آپ کا کَفنِ مبارک بھی بوسیدہ نہ ہوا تھا ۔  آپ کا جسمِ مبارک بالکل صحیح و سالم تھا ۔  وِصال سے قَبْل آپ رَحمۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے داڑھی مُبارک کاخَط بنوایا تھا، ایسا لگتا تھا جیسے آج ہی خَط بنوا کر لیٹے ہیں ۔ بلکہ کسی نے اِمتحاناً آپ رَحمۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے رُخسارِ مُبارک کو اُنگلی رکھ کر دَبایا، جب اُنگلی اُٹھائی تو اُس جگہ سے خُون ہٹ گیا اور وہ جگہ سفید ہوگئی، جیسے زِندوں کا ہوتا ہے ۔ پھر تھوڑی دیر کے بعد وہ جگہ سُرخ ہوگئی ( یعنی جس طرح زِندوں کے جسم میں خُون رَواں ہوتاہے اور دبانے سے یُوں ہی ہوتا ہے ) اور یہ ساری بہاریں دُرُودِپاک کی کثرت کی بَرَکت سے ہیں ۔ (مطالع المسرات مترجم، ص۵۴ملخصاً)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! فُضُول وبیکار باتوں کی عادت چُھڑاکر اپنی زبان کو ذِکر ودُرُود، تِلاوَت ونعت اور دیگر اچھی باتوں کا عادی بنانے کیلئے ہر دَم تبلیغِ قُرآن وسُنَّت کی عالمگیر غیر سیاسی تَحریک دعوتِ اِسلامی کے مُشکبارمَدَنی ماحول سے وابَستہ رہئے ۔ اپنے اپنے شہروں میں ہونے والے ہفتہ وار اِجتِماعات میں اَوَّل تا آخر شِرکَت کو اپنا مَعمول بنالیجئے  ۔ ہراِسلامی بھائی اپنا یہ مَدنی ذِہن بنائے کہ’’مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اِصلاح کی کوشش کرنی ہے  ۔ ‘‘ اپنی اِصلاح کی کوشش کیلئے مَدَنی اِنعامات پر عمل اور ساری دنیا کے لوگوں کی اِصلاح کی کوشش کیلئے مَدنی قافِلوں میں سَفر کرنا ہے ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ عاشقان رسول کے ساتھ مدنی قافلے میں سَفرکی بڑی بَرَکتیں ہیں ، بے شُمار اَفراد جو گُناہوں بھری زِندَگی بَسر کررہے تھے مَدَنی قافِلے کی بَرَکت سے تائِب ہوکر پابندِ صلوۃ وسُنَّت بن گئے ۔ چُنانچہ

مارشل آرٹ کا ماہر مُبَلِّغ کیسے بنا؟

            سَردارآباد (فیصل آباد) میں مُقیم اسلامی بھائی کے بیان کاخُلاصہ ہے کہ دعوتِ اِسلامی کے مَدَنی ماحول میں آنے سے قَبل میں بگڑے ہوئے کِردار کا مالک تھا، جُھوٹ، غیبت، چُغْلی جیسے گُناہ میری نوکِ زبان پر رہتے اور بَدنِگاہی کرنا میرے روز کے معمولات میں شامل تھا ۔  میں مارشل آرٹ سیکھا ہوا تھا جس کے بَل بوتے پر لوگوں سے خواہ مخواہ جھگڑا مول لیتا ۔  ہر نئے فیشن کواَپنانا میرا وَطِیرہ تھا ۔  آہ! نمازوں سے اس قَدَر دُوری تھی کہ مجھے یہ بھی معلوم نہ تھاکہ کس نمازکی کتنی رَکعتیں ہوتی ہیں ۔ آخرکارعِصْیاں کے دِن خَتْم ہوئے ، رَحمت کا دَر کُھلا اور میری قِسمت یُوں چمکی کہ میری مُلاقات اپنے ایک دوست سے ہوئی جو تبلیغِ قُراٰن وسُنَّت کی عالمگیرغیر سیاسی تَحریک  دعوتِ اِسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہوگئے تھے ۔ اُنہوں نے اِنفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھیمدَنی قافِلے میں سَفر کرنے کی دعوت دی، دوست کی بات نہ ٹال سکا اور ہاتھوں ہاتھ تین دن کے مَدَنی قافلے کا مُسافِر بن گیا ۔  مَدَنی قافِلے میں عاشِقانِ رسُول کی صُحبت کی برکت سے مجھے مَقْصدِ حیات معلوم ہوا تو اپنے گناہوں پر ندامت ہونے لگی کہ زِندگی کا طویل حصَّہ میں نے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی میں گُزاردیا! میری آنکھوں سے غَفْلَت کا پردَہ ہَٹ چکا تھا، میری قَلبی کیفیت ہی بدل گئی میں جب بھی بیان سُنتا میری آنکھوں سے سَیلِ اَشک رَواں ہوجاتا حتّٰی کہ مَدَنی قافِلے کی واپَسی کے وَقت بھی مجھ پر رِقَّت طاری تھی ۔  چند دنوں بعدمجھے اَمیرِاَہلسُنَّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی زِیارت نصیب ہوئی دیکھتے ہی ان کیمَحَبَّت میرے دل میں گھر کر گئی، میں ہاتھوں ہاتھ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہسے مرید ہو کر عَطَّارِی ہو گیا ۔  تمام گُناہوں سے توبہ کی اور دعوتِ اِسلامی کے مَدَنی ماحول میں زِندگی گزارنے لگا ۔  یہ بیان دیتے وَقت میں ڈویژن مُشاوَرَت میں مَدَنی قافِلہ ذِمَّہ دارکی حیثیت سے مدَنی کاموں کی دُھومیں مچانے میں مَصرُوف ہوں ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اے ہمارے پیارے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ!ہمیں نبیِّ کریم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پرکثرت سے دُرُودِپا ک پڑھنے کی تَوفیق عطا فرما اورتادَمِ حیات دعوتِ اِسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ رہنے کی سعادَت نصیب فرما ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

٭٭٭٭

بیان نمبر :  3

ساری مَخْلُوق کی آواز سُننے والا فِرِشتہ

          سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب وسینہ، فیض گنجینہ ، صاحِبِ مُعطَّر پسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ شَفاعت نِشانَّ  ہے  ۔ ’’ اِنَّ اللّٰہَ وَکَّلَ بِقَبْرِیْ مَلَکًا، بے شک اللّٰہ تعالیٰ نے ایک فِرِشتہ میری قَبْرپر مُقرَّر فرمایا ہے  ۔ ‘‘ اَعْطَاہُ اَسْمَاعَ الْخَلَائِقِ، جسے تمام مَخلُوق کی آوازیں سُننے کی طاقَت عطا فرمائی ہے ، فلَاَ یُصَلِّیْ عَلَیَّ اَحَدٌ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ اِلَّا اَبْلَغَنِیْ بِاِسْمِہٖ وَاِسْمِ اَبِیْہِ ہٰذَا فُلانُ بْنُ فُلانٍٍ قَدْ صَلّٰی عَلَیْکَ‘‘ پس قِیامت تک جوکوئی مجھ پر دُرُودِپاک پڑھتا ہے تو وہ مجھے اُس کااور اُسکے باپ کا نام پیش کرتاہے ۔ کہتاہے ، فُلاں بن فُلاں نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُودِپاک پڑھا ہے  ۔ ‘‘(مجمع الزوائد، کتاب الادعیۃ، باب فی الصلاۃ علی النبیالخ، ۱۰ / ۲۵۱،  حدیث :  ۹۱ ۱۷۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

فِرِشتے کی قُوَّتِ سَماعت

          سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ! دُرُود شریف پڑھنے والا کس قَدَربَخْتوَرہے کہ اُس کانام بمع وَلدیت بارگاہِ رِسالت میں پیش کیا جاتا ہے ۔ یہاں یہنُکتہ بھی اِنتہائی اِیمان اَفروزہے کہ قبرِ مُنورعلٰی صاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسّلام پر حاضِرفِرِشتے کو اس قَدَر زِیادہ قُوَّتِ سَماعت دی گئی ہے کہ وہ دُنیا کے کونے کونے میں ایک ہی وَقْت کے اندر دُرُودشریف پڑھنے والے لاکھوں مسلمانوں کی انتِہائی دِھیمی آواز بھی سُن لیتاہے اور اسے علمِ غیب بھی عطا کیا گیا ہے کہ وہ دُرُودِ پاک پڑھنے والوں کے نام بلکہ ان کے والِد صاحِبان تک کے نام جان لیتا ہے  ۔ جب خادِمِ دربارِ رِسالت کی قُوَّتِ سَماعت اورعلمِ



Total Pages: 141

Go To