Book Name:Guldasta e Durood o Salam

الاحزاب  : ۵۶) پھر ستَّر مرتبہ یہ عرض کرے  :  ’’ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْکَ یَامُحَمَّد‘‘فِرِشتہ اِس کے جَواب میں یوں کہتا ہے  :  اے فُلاں ! تجھ پر اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی رَحمت  ہو ۔ اور اُس کی کوئی حاجَت باقی نہیں رہتی ۔ ‘‘ (المواہب اللدنیۃ، المقصد العاشر، الفصل الثانی فی زیارۃ قبرہ الشریف الخ، ۳ / ۴۱۲)

جہاں تک زبان ساتھ دے ، دِل جَمعی ہو مختلف اَلقاب کے ساتھ سلام عرض کرتے رہیں ، اگر اَلقاب یاد نہ ہوں تو  اَلصَّلٰوۃُوَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہکی تکرار کرتے رہیں ، جن جن لوگوں نے آپ کو سلام کے لئے کہا ہے اُن کا بھی سلام عرض کریں ۔ یہاں خُوب دُعائیں مانگیں اور باربار اِس طرح شَفاعت کی بھیک مانگیں  : اَسْئَلُکَ الشَّفَاعَۃَ یَارَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یعنی یَارَسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں آپ کی شَفاعت کا طلبگار ہوں ۔ (بہارِ شریعت ، ۱ / ۱۲۲۵-۱۲۲۶، ملخصا)

سرکار  عَلَیْہِ الصلٰوۃُوَالسَّلام  نے حوصلہ اَفزا ئی فرمائی

          مَدینہ مُنوَّرہ  ۱۴۰۵  ؁ھ کی حاضِری میں شیخِ طریقت، امیرِاَہلسنَّت دَامَت بَرَکاتُہم العالیہکو آپ کے ایک پیر بھائی مرحوم حاجی اسمٰعیل نے ایک واقعہ سُنایا کہ ایک پچاسی سالہ بُڑھیا حج کے لئے آئی تھی، مَدینہ مُنَوَّرہ میں سنہری جالیوں کے سامنے صلوٰۃ وسلام کے لئے حاضِر ہوئی اور اپنے ٹوٹے پھوٹے اَلفاظ میں صلوٰۃ وسلام عرض کرنا شُروع کیا ناگاہ ایک خاتون پر نظر پڑی جوایک کتاب میں سے دیکھ دیکھ کر بڑے ہی عُمدہ اَلقاب کے ساتھ صلوٰۃ وسلام عرض کر رہی تھی، یہ دیکھ کر بے چاری اَن پڑھ بُڑھیا کا دِل ڈوبنے لگا، عرض کیا : یَارَسُوْلَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں تو پڑھی لکھی ہوں نہیں جو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے شایانِ شان اَلقاب کے ساتھ سلام عرض کروں ، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عَظْمَت وشان واقعی بہت بُلند وبالا ہے ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  تو اُنہیں کا سلام قَبول فرماتے ہوں گے جو بہترین اَنداز میں سلام پیش کرتے ہوں گے ، ظاہِر ہے مجھ اَن پڑھ کا سلام آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو کہاں پسند آئے گا ۔  دِل بھر آیا، رو دھوکر چُپ ہورہی، رات کو جب سوئی تو قسمت اَنگڑائی لے کر جاگ اُٹھی، کیا دیکھتی ہے کہ سرہانے اُمَّت کے والی، سرکارِ عالی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لائے ہیں ، لَب ہائے مُبارَکہ کوجُنبِش ہوئی، پُھول جھڑنے لگے ، اَلفاظ کچھ یوں ترتیب پائے  : ’’مایوس کیوں ہوتی ہو؟ ہم نے تمہارا سلام سب سے پہلے قَبول فرمایا ہے  ۔ ‘‘

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اے ہمارے پیارے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ !ہمیں رَوضۂ رسول کی بااَدب حاضری، سنہری جالیوں کے رُوبَرو صلوٰۃ و سلام پڑھنے کی سَعادت اور جلوۂ محبوب میں اِیمان و عافِیَّت کے ساتھ شَہادت کی موت نصیب فرما ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

 

بیان نمبر : 40

اِسْتِقامَت کے ساتھ تھوڑا عَمل بھی بہتر ہے

        حضرت سیِّدُنا شیخ عبدُالحق مُحدِّث دِہْلَویعلیْہ رحْمۃُ اللّٰہِ القوی فرماتے ہیں  :  مومنِ صادِق اورمُحِبِّ مُشْتَاق پر لازِم ہے کہ  دُرُود شریف کی کثرت کرے اور دوسرے اَعمال پر اِسے مُقَدَّم (یعنی بڑھ کر) جاننے میں کمی نہ کرے ۔ جس قَدرعَدد مَخصوص کرسکے ، کرے اور پھر اُس مُقَرَّرہ عَدد کو روزانہ کا وِرْد بنائے (تاریخ مدنیہ، ص ۳۲۸) کیونکہ بہترین عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے اگرچہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو ۔  علَّامہ عبدُالرَّؤف مناویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فَیضُ الْقَدِیر میں فرماتے ہیں  :  ’’فَالْقَلِیْلُ الدَّائِمُ اَحَبُّ اِلَیْہِ مِنْ کَثِیْرٍ مُّنْقَطِعٍ ، یعنی تھوڑاعمل جو ہمیشگی کے ساتھ ہو، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے نَزدیک اُس عمل سے بہتر ہے جو کثیر ہو لیکن ہمیشہ نہ ہو ۔ ‘‘

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو! ہمیں بھی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود و سلام پڑھنے کو اپنے صُبح و شا م کا وَظِیفہ بنالینا چاہئے ، جب بھی مَوقع ملے اُٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے دُرُودِپاک ہی پڑھتے رہیں کہ یہ ہمارے اسلافِ کرام رَحِمہُم اللّٰہ السَّلام کا بھی محبوب عمل ہے ۔ چنانچہ

            حضرتِ سیِّدُنا امام شافعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  : ’’ میں اِس بات کو پسند کرتا ہوں کہ آدمی اپنے خُطبے اور اپنے ہر مطلوب سے پہلے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی حَمد و ثنا کرے اور ہر حال میں رسُول اللّٰہصلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم پر کثرت سے  دُرُودِ پاک پڑھتا رہے  ۔ ‘‘  (سعادۃ الدارین ، الباب الثالث فیما وردعن الانبیاء والعلماء فی فضل الصلاۃ علیہ، ص ۱۰۷،   ملخصًا)

وسوسہ : پیارے اسلامی بھائیو! کسی کے ذِہن میں یہ وَسوَسہ آسکتاہے کہ میں تو سارا دن کام کاج میں مَصروف رہتاہوں تو میں کثرت کے ساتھ  دُرُودِ پاک کس طرح پڑھ سکتا ہوں ؟

جواب ِوسوسہ : کثرت سے  دُرُودِپا ک پڑھنے والوں کی فِہْرِسْت میں خود کو شامل کرنے کے لیے نہ تو کاروبار بند کرنے کی حاجت ہے اورنہ ہی دیگر مُعَامَلات روکنے کی ضَرورت، بلکہ عُلَمَائے کرام رَ حِمہُم اللّٰہُ السّلام نے جواَعداد ذِکْر فرمائے اُن میں سے کسی بھی عدَد کے مُطابق دُرُودِ پاک پڑھنے کا معمول بنالیا جائے توہم بھی کثرت کے ساتھ  دُرُودِ پاک پڑھنے والوں کی فِہْرِسْت میں شامل ہوسکتے ہیں ۔ پھر یہ بھی ضَروری نہیں کہ زِیادہ اَلفاظ والا طویل  دُرُودِ پاک ہی پڑھا جائے ۔ اگر کسی نے ’’ صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد‘‘ پڑھنے کا معمول بنا لیا تو بھی کثرت میں شُمار ہوگا اور اِس  دُرُود شریف کی فَضیلت کے بھی کیا کہنے ’’جو کوئی یہ  دُرُود ِپاک ایک بار پڑھتاہے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اُس پر رَحمت کے سَتَّر دروازے کھول دیتاہے ۔ ‘‘

(القول البدیع ، الباب الثانی فی ثواب الصلاۃ والسلام علی رسول اللّٰہ، ص۲۷۷ )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            لہٰذا اگر مَذْکورَہ  دُرُود ِپاک (یعنی صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد) 313 بار پڑھنے کی عادت بنالی جائے تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کثرت کے ساتھ دُرُودِ پاک پڑھنے والوں میں شامل ہوجائیں گے اور مَدَنی



Total Pages: 141

Go To