Book Name:Guldasta e Durood o Salam

 

          سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّوَجَلَّ!صحابۂ کرام کااَدب تودیکھئے کہ امیرُالْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدُنا صدِّیقِ اکبر رَضِی اﷲ تَعالٰی عَنْہ نماز کی حالت میں تھے اور جب آپ کو علم ہوا کہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لاچُکے ہیں تو آپ کی تَعْظِیم کی خاطِر پیچھے آکرمقتدی بن گئے اور حُضُور عَلَیْہِ السَّلام نے نماز کی امامت فرمائی ۔

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  اللّٰہعَزَّوَجَلَّ بھی ہمیں اپنے محبوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی تَعْظِیْم وتَوقِیرکاحُکم ارشادفرماتاہے  ۔ چُنانچہ ارشاد ہوتا ہے  ۔

وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ- (پ۲۶ ، الفتح  : ۹)

ترجمۂ کنزالایمان  : اور رسول کی تَعْظِیم و تَوقِیر کرو  ۔

            لیکن فی زَمانہ شیطان نے لوگوں کے ذِہنوں میں نبیِّ کریمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالتَّسلِیْم کی تَعْظِیم سے مُتعلِّق طرح طرح کے وَسوَسے ڈال دیئے ہیں حالانکہ اس فرمانِ خُداوَندی پر صحابۂ کرام و اَہلبیت اَطہار سے بڑھ کر عمل کرنے والا کون ہوسکتا ہے ؟ یہ نُفُوسِ قُدْسِیہ تو ہر َوقت حُضُور عَلَیْہِ السَّلام  کی بارگاہ میں رہتے تھے ، حَلال و حرام کوبھی بَخُوبی جانتے تھے ۔ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب ان کے پاس تشریف لاتے تو یہ حضرات آپ کی تَعْظِیم میں کھڑے ہوجایا کرتے ۔ چنانچہ

            مشکوٰۃ شریف میں ہے کہ جب خاتُونِ جنَّت حضرتِسَیِّدَتُنا فاطمۃُ الزَّہرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا حُضُورعَلَیْہِ السَّلام کی خِدْمَت میں حاضِر ہوتیں ۔ تو  آپ عَلَیْہ السَّلام ان کیلئے کھڑے ہوجاتے اور ان کا ہاتھ پکڑتے اس پربوسہ دیتے اور اپنی جگہ ان کو بٹھاتے ۔ اسی طرح جب حُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرتِ فاطمہ رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہا کے پاس تشریف لے جاتے تو آپ بھی کھڑی ہوجاتیں اور ہاتھ مُبارک کو بوسہ دیتیں اور اپنی جگہ حُضُور کو بٹھا لیتیں  ۔ (مشکاۃ، کتاب الآداب ، باب المصافحۃ والمعانقۃ، ۲ / ۱۷۱، حدیث :  ۴۶۸۹)

                مرقاۃ شرح مشکوٰۃمیں ہے ۔ (اس روایت سے ) معلوم ہوا کہ فُضلا (یعنی علما) کے لئے قیامِ تعظیمی جائز ہے ۔

دُشمنِ احمد پہ شدَّت کیجئے                                                      مُلحدوں سے کیا مُروَّت کیجئے

شِرک ٹھہرے جس میں تَعْظِیمِ حبیب                                 اُس بُرے مَذہب پہ لعنت کیجئے

ظالمو! محبوب کا حق تھا یہی                                                    عِشْق کے بدلے عَداوت کیجئے (حدائقِ بخشش ، ص۱۹۹)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتاہے  :

وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآىٕرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ(۳۲) (پ۱۷، الحج  : ۳۲)

ترجمۂ کنزالایمان : اور جو اللّٰہ کے نشانوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے  ۔

            حضرتِ مُفْتی جَلالُ الدِّین اَمجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی اپنی کتاب ’’تعظیمِ نبی‘‘ صفحہ 18پر اس آیت کریمہ کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں  :  ’’کہ جس کے  دل میں تَقْویٰ اورپرہیزگای ہوگی وہ شَعَائِرُ اللّٰہ کی تَعظیم کرے گا اور شعائرُاللّٰہ کے معنی ہیں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے دِین کی نشانیاں اورسرکارِ اَقْدس عَلَیْہِ السَّلام اللّٰہ تعالیٰ کے دِین کی نشانیوں میں سے عَظِیم تَرین نشانی ہیں تووہ ساری نشانیوں میں سب سے زِیادہ تَعْظِیم کے مُسْتحق ہیں اور آیت ِمُبارکہ میں اس بات کا واضح اِشارہ ہے کہ جو لوگ حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تَعْظِیم کا اِنکار کرتے ہیں وہ اگرچہ بظاہر اچھے نظرآتے ہوں مگر ان کے قُلوب تَقْویٰ وپَرہیز گاری سے خالی ہیں ۔ ‘‘

            حضرتِ مُفْتی احمدیار خان نعیمی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنی فرماتے ہیں  : ’’تَعْظِیم میں کوئی پابندی نہیں بلکہ جس زَمانہ میں اور جس جگہ جو طریقہ بھی تَعْظِیم کا ہوا سی طرح کرنی چاہئے بشر طیکہ شریعت نے اس کو حَرام نہ کیا ہو جیسے کہ تعظیمی سجدہ ورُکوع ۔ (ذِکرِمُصْطفٰے کرتے وقت تَعْظِیماً کھڑا ہونااَفضل ہے اس بارے میں ارشادفرماتے ہیں  :  ) ہمارے زمانے میں (تَعْظِیم کی نِیَّت  سے )شاہی اَحکام کھڑے ہو کر بھی پڑھے جاتے ہیں لہٰذا محبوب کا ذِکر بھی کھڑے ہوکر ہونا چاہیے ۔ دیکھو ’’کُلُوْا وَ اشْرَبُوْا ‘‘میں مُطلقاً کھانے پینے کی اِجازت ہے کہ ہرحَلال غذا کھاؤپیؤ، تو بریانی ، زَردہ ، قورمہ سب ہی حلال ہوا خواہ خَیرُالقُرون (یعنی دَورصحابہ وتابعین ) میں ہو یا نہ ہو ۔ ایسے ہی  ’’تُوَقِّرُوْہُ‘‘کا امر مُطلق ہے کہ ہر قسم کی جائز تَعْظِیم کرو ۔  (چاہے ) خَیرُالقُرون سے ثابت ہو یا نہ ہو ۔ (جاء الحق ، ص۲۰۷، ملتقطاً و ملخصاً)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بیان کردہ گُفتُگو سے یہ بات واضح ہوگئی کہ شَعَائِرُاللّٰہکی تَعْظِیم بَحکمِ خُداوَندی جائز اورمُسْتحَب عَمل ہے اور حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی  اللّٰہ تعالی کی نشانیوں میں سے ایک عظیم نشانی ہیں تو جب شَعَائِرُاللّٰہ کی تَعْظِیم جائزومُسْتَحْسَنہوئی توحُضُورعَلَیْہِ السَّلام کی تَعْظیم بَدَرَجہ اَوْلی جائز ہوگی، جب آپ کی ذاتِ بابَرَکت لائقِ تَعْظِیم ہے تو آپ کا ذِکرِمُبارک بھی مُعَظَّم ہوا اِسی وَجہ سے سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں کھڑے ہوکر دُرُودوسلام پڑھنااَفضل ہے ۔

رِفعتِ ذِکر ہے تیرا حصَّہ، دونوں عالَم میں ہے تیرا چرچا

مرغِ فردوس پس اَز حمدِ خدا، تیری ہی مَدح وثنا کرتے ہیں   (حدائقِ بخشش، ص۱۱۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کثرت کے ساتھ  دُرُودِپاک پڑھنے نیز نَمازوں اور سُنَّتوں کی عادت بنانے کیلئے دعوتِ اِسلامی کے مَدَنی ماحول سے ہر دم وابَستہ رہئے ۔ سُنَّتوں کی تربِیَت کیلئے مَدَنی قافِلوں میں عاشقانِ رسول کے ساتھ سُنَّتوں بھرا سفر کیجئے ۔ نہ جانے کب کس پر کرم ہو جائے اور اس کی بگڑی بن جائے ! آپ کی ترغیب کیلئے ایک مَدَنی بہار گوش گزار کی جاتی ہے ۔ چُنانچہ

دُرُود کی بَرَکت سے سرکار کا دِ یدار

 



Total Pages: 141

Go To