Book Name:Guldasta e Durood o Salam

، یوں ہونا چاہئے تھا ۔ جب جھوٹی فانی (اور) مَجازی سلطنتوں کے سامنے چُون وچرا کی مَجَال نہیں ہوتی تو اس مَلِکُ الْمُلُوک، بادشاہِ حقیقی، اَزَلی، اَبَدی کے حُضُور کیوں اور کس لئے ، کا دم بھرنا کیسی سخْت نادانی ہے ۔ ‘‘(فتاویٰ رضویہ، ۱۷ / ۳۵۹ )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اے ہمارے پیار ے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ! ہمیں سُود کی نُحوست سے بچتے ہوئے رزقِ حلال کمانے کی توفیق عطا فرما اور اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذاتِ اطہر پر زیادہ سے زیادہ دُرُودِ پاک پڑھنے کی توفیق عطا فرما ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

بیان نمبر : 36

تمام مَخْلُوق کو کِفایت کرنے والا نُور

            امیرُ الْمُؤمِنِینحضرتِ مولائے کائنات، علیُّ المُرتَضٰی شیرِخدا  کَرَّمَ اللّٰہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے کہ شہنشاہِ خُوش خصال، پیکرِ حُسن و جمال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ بے مثال ہے  :  ’’مَنْ صَلَّی عَلَیَّ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ مِائَۃَ مَرَّۃٍ، جو شخص روزِ جُمُعہ مجھ پر سو بار دُرُود ِ پاک پڑھے ‘‘’’ جَاءَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَمَعَہُ نُوْرٌ، جب وہ قیامت کے روز آئے گا تو اُس کے ساتھ ایک ایسا نور ہوگا‘‘ ’’لَوْ قُسِّمَ ذَلِکَ النُّوْرُ بَیْنَ الْخَلْقِ کُلِّہِمْ  لَوَسَعَہُمْ ، کہ اگر وہ نُور پوری مَخلُوق میں بھی تقسیم کردیا جائے تو سب کے لئے کافی ہو جائے  ۔ ‘‘ (حلیۃ الأولیاء، ۸ /  ۴۹، حدیث : ۱۱۳۴۱)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمیں بھی چاہیے کہ ہم فُضُول گُفْتگُو میں مَشغول رہنے کے بجائے اپناتمام تر وَقت سلطانِ بَحرو بَر، دو جہاں کے تاجْوَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذاتِ اَطہر پر دُرُود وسلام پڑھنے کے لئے مختص کردیں ، ہمارے اسلافِ کرام رَحِمہُمُ اللّٰہُ السَّلام کا طریقہ بھی یہی رہا ہے کہ وہ اس عَظِیم کام کے لیے کچھ نہ کچھ وَقت مُقرَّر فرما لیاکرتے تھے ، پھر سَفرہویا حَضر چاہے کیسی ہی صُعُوبت ومَصرُوفیت ہوتی وہ اپنے معمول کوہر گز ترک نہ فرماتے جیساکہ

          صَدْرُ الشَّرِیْعَہ، بَدْرُالطَّرِیْقَہ مُفْتی محمد امجد علی اَعْظَمِی علیہ رَحمۃُ اللّٰہ الغنیکا یہ معمول تھا کہ نَمازِ فَجْر کے بعد ایک پارہ کی تلاوت فرماتے اور پھر ایک حِزْب (باب) دَلائِلُ الْخَیْرَات شریف کا پڑھتے ۔ اِس میں کبھی ناغہ نہ ہوتا اور بعدِنَمازِ جُمُعَہ بِلا ناغہ 100 بار دُرُودِ رَضویَّہ (یعنی صَلَّی اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَاٰلِہٖ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلٰوۃً وَّسَلَامًا عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ) پڑھتے ۔ حتّٰی کہ سفر میں بھی جُمُعَہ ہوتا تو نمازِ ظُہْر کے بعد دُرُودِ رَضویَّہ نہ چھوڑتے ، چلتی ہوئی ٹرین میں کھڑے ہو کر پڑھتے ۔ ٹرین کے مُسافر اِس دِیوانگی پر حیرت زَدَہ ہوتے مگر اِنہیں کیا معلوم

دیوانے کو تحقیر سے دیوانہ نہ کہنا

دیوانہ بَہُت سوچ کے دیوانہ بنا ہے (تذکرہ ٔ صدر الشریعۃ، ص۳۳)

کیا کھڑے ہو کر دُرُودِ پاک پڑھنا واجب ہے ؟

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کسی کے ذِہن میں یہ وَسوسہ پیداہوسکتا ہے کہ صرف دُرُودوسلام پڑھ لینے سے ہی اللّٰہعَزَّوَجَلَّکے حکم پر عمل ہوجاتاہے تو کیاپھر کھڑے ہوکر پڑھناضروری ہے ؟

          جواب  :  جی نہیں ! جس طرح چاہیں دُرودِ پاک پڑھ سکتے ہیں ، بیٹھ کر پڑھیں یا کھڑے ہوکریا پیدل چلتے ہوئے یا پھر لیٹ کر مگر لیٹنے میں یہ احتیاط رہے کہ پاؤں سمٹے ہوئے ہوں ، البتہ کھڑے ہوکر ہاتھ باندھ کر دُرُودِپاک پڑھنے میں تَعْظِیم کا پہلو زِیادہ ہے ۔

          یاد رکھئے !کسی مُعَظَّمِ دینی کی تَعْظِیمکے لئے کھڑے ہونا مَسنون ومُسْتحَب عمل ہے چُنانچہ مُفَسّرِ شہیر حکیمُ الْاُمَّت حضرتِ مُفْتی احمد یار خان عَلَیْہ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناپنی کتاب  ’’جاء الْحق‘‘ میں فرماتے ہیں  :  ’’جب کوئی دینی پیشوا آئے تو اس کی تَعْظِیم کے لئے کھڑا ہوجانا سُنَّت ہے اسی طرح جب دِینی پیشوا سامنے کھڑا ہو تو اُ س کے لئے کھڑارہنا سُنَّت  اور بیٹھا رہنا بے اَدبی ہے ۔ مشکوٰۃ شریف میں ہے کہ جب سَعَد اِبن معاذ رَضِیَ اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہ مسجدِ نَبْوِی میں حاضِر ہوئے تو حُضُورعَلیْہ السَّلام نے اَنصار کو حکم دیا ۔ ’’قُوْمُوْا اِلٰی سَیِّدِکُمْ یعنی اپنے سردار کے لئے کھڑے ہوجاؤ ۔ ‘‘یہ قِیام تعظیمی تھا نہ یہ کہ ان کومَحض مجبوری کی وَجہ سے قِیام کرایا گیا ۔ نیز گھوڑے سے اُتارنے کے لئے ایک دو صاحب ہی کافی تھے (اگر تعظیماً کھڑا ہونا جائزنہ ہوتا تو سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ) سب کو کیوں فرمایاکہ کھڑے ہوجاؤ، نیز گھوڑے سے اُتارنے کے لئے تو حاضرینِ مجلسِ پاک میں سے کوئی بھی چلا جاتا ، خاص اَنصار کو کیوں حکم فرمایا ؟ تو ماننا پڑے گا کہ یہ قِیام تعظیمی ہی تھا ۔  اَشْعَۃُ الَّلمعات کتابُ الاَدَب بابُ الْقِیام میں اس حدیث ’’قُوْمُوْااِلٰی سَیِّدِکُمْ‘‘کے تَحت مَذکور ہے  ۔ جمہور عُلما نے علمائے صالحین کی تَعْظِیم کرنے پر اِتفاق کیا ہے اِمام نَووِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوی نے فرمایا  : ’’کہ بُزُرگوں کی تشریف آوَری کے وَقت کھڑا ہونا مُسْتحَب ہے اس بارے میں اَحادیث آئی ہیں اور اس کی مُمانَعت میں صَراحۃً کوئی حدیث نہیں آئی، قنیہ سے نَقل کیا کہ بیٹھے ہوئے آدَمی کا کسی آنے والے کی تَعْظِیم کے لئے کھڑا ہوجانا مَکرُوہ نہیں ۔ عالمگیری کتابُ الکَراہۃ باب ملاقات الملوک میں ہے ۔ ’’تَجُوْزُ الْخِدْمَۃُ بِغَیْرِ اللّٰہِ تَعَالٰی بِالْقِیَامِ وَاَخذِ الْیَدَیْنِ وَالْاِنْحِنَائِ، غیرِ خُدا کی عَظْمَت کرنا کھڑے ہوکر، مُصافَحہ کرکے ، جُھک کر ہرطرح جائز ہے ۔ ‘‘ اس جگہ جُھکنے سے مُراد رُکوع سے کم جُھکناہے ۔ تاحدِ رُکوع جُھکنا تو ناجائز ہے ۔ ‘‘

            شامی جلد اَوَّل باب ُالاِمامَت میں ہے کہ اگر کوئی شخص مسجد میں صفِ اَوَّل میں جَماعت کے اِنتظار میں بیٹھا ہے اور کوئی عالِم آدَمی آگیا ، اس کے لئے جگہ چھوڑدینا خُود پیچھے ہٹ جانا مُسْتَحب ہے بلکہ اس کے لئے پہلی صف میں نماز پڑھنے سے اَفضل ہے یہ تَعْظِیْم تو عُلمائے اُمَّت کی ہے لیکن صِدِّیق اَکبررَضِیَ اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہ نے توعَین نَماز پڑھاتے ہوئے جب حُضُورعَلَیْہِ السَّلام کو تشریف لاتے دیکھا تو خُود مقتدی بن گئے اور بیچ نَماز میں حُضُورعَلَیْہ السَّلام امام ہوئے  ۔ (جاء الحق ، ص۲۰۴تا۲۰۵ ملتقطاً وملخصاً)

 



Total Pages: 141

Go To