Book Name:Guldasta e Durood o Salam

بنادے گا لیکن تیرے والد کی یہ عادت تھی کہ سونے سے پہلے ہر رات مجھ پر سو مرتبہ  دُرُود بھیجتا تھا ۔  جب وہ اِس تکلیف میں مُبْتَلا ہوا تو میری اُمَّت کے اَعمال مجھ پر پیش کرنے والا فِرِشتہ میرے پاس آیا اور مجھے تیرے والد کی حالت کے بارے میں بتایا، میں نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے اِس کی سِفَارِش کی تو میری سِفَارِش اِس کے حق میں مقبول ہوگئی ۔ ‘‘ وہ شخص کہتا ہے  :  پھر میں بیدار ہوگیا، والد صاحِب کا چِہْرہ دیکھا تو واقعی وہ چودھویں کے چاند کی طرح چمک رہا تھا ۔  میں نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا شکْر ادا کیا ۔  پھر والد صاحِب کی تَکْفِیْن و تَدْفِیْنکے بعد کچھ وَقْت قَبْر کے قریب بیٹھ گیا ۔  اتنے میں غَیْب سے آواز آئی :  کہ تیرے والد پر یہ عِنایت صرف رسولُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر  دُرُودِ پاک پڑھنے کی بدولت کی گئی ہے  ۔ اِس کے بعد میں نے قَسَم اٹھائی کہ کسی حالت میں  دُرُود و سلام ترْک نہ کروں گا ۔ (القول البدیع، الباب الخامس فی الصلاۃ علیہ فی اوقات مخصوصۃالخ، ص۴۴۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمیں ہرگز اس خیال میں نہیں رہنا چاہئے کہ جتنے گُناہ کرنے ہیں کرلو ، خواہ ساری زِندگی سُود کی کمائی کھاتے رہو، حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تو رَحْمَۃُ لِّلْعَالَمِین ہیں آپ پر  دُرُود پڑھنے کے سبب نَجات مل جائے گی اور اللّٰہعَزَّوَجَلَّ مُعاف فرمادے گا ۔

            یقینا  حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رَحْمَۃُ لِّلْعَالَمِین، شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن ہیں لیکن اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے ہم پر کچھ اَحکام نازل فرمائے ہیں جن کی پاسداری کرنا ہم پر فرض ہے ۔ سود قَطْعِی حرام اور جَہَنَّم میں لے جانے والا کام ہے ۔ اس کی حُرْمَت کا مُنکِر ، کافر اور جو حرام سمجھ کر اِس بیماری میں مُبْتَلا ہو ، وہ فاسق اور مردُودُ الشَّہَادَۃ ہے ۔ (یعنی اس کی گواہی قَبول نہیں کی جائے گی) (بہار شریعت، ج۲،  حصہ۱۱، ص۷۶۸) ہمیں کیا معلوم اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کا غَضَب کس گُناہ کے سبب نازِل ہوجائے ، ہمیں ہر گناہ سے بچتے رہنا چاہیے ۔ سودی کاروبار اور سودی لین دین کی وجہ سے اگر اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ناراض ہو گیا، اُس کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمروٹھ گئے اور عذاب نے آلیا تو کیا کریں گے ؟

گرتو ناراض ہوامیری ہَلاکت ہوگی

ہائے میں نارِ جہنَّم میں جلوں گایارب! (وسائلِ بخشش، ص۹۱)

سُود کی خَرابیاں

            حضرتِ صدر ا لْافاضِل مولانا سیِّدمحمد نعیم ُالدِّین مُراد آبادی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْہَادِی خَزائنُ العرفان میں پارہ  3 ، سُوْرَۃُ الْبَقَرۃ آیت نمبر 275 کے تَحت سُود کی حُرمت اور سُود خوروں کی شامت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں  :  سُود کو حرام فرمانے میں بہت حکمتیں ہیں بعض ان میں سے یہ ہیں  : (۱)سُود میں جو زِیادتی لی جاتی ہے وہ مُعاوَضۂ مالیہ میں ایک مقدارِ مال کا بغیر بدل وعِوض کے لینا ہے یہ صریح نااِنصافی ہے  ۔ (۲)  سُود کا رواج تجارتوں کوخَراب کرتا ہے کہ سُود خوار کو بے محنت مال کا حاصل ہونا تِجارت کی مشقتوں اور خطروں سے کہیں زیادہ آسان معلوم ہوتا ہے اورتِجارتوں کی کمی انسانی مُعاشرت کوضَرر پہنچاتی ہے ۔ (۳) سُود کے رواج سے باہمی مَوَدَّت کے سُلوک کونُقصان پہنچتا ہے کہ جب آدمی سُود کا عادی ہوا تو وہ کسی کو قرضِ حسن سے امداد پہنچانا گوارا نہیں کرتا  ۔ (۴) سُودسے انسان کی طبیعت میں درندوں سے زِیادہ بے رحمی پیدا ہوتی ہے اور سُود خوار اپنے مدیون (مقروض)کی تباہی و بربادی کا خَواہش مند رہتا ہے اس کے علاوہ بھی سُود میں اور بڑے بڑے نُقصان ہیں اور شریعت کی مُمانَعَت عین حکمت ہے مُسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے سُود خوار اور اس کے کار پرداز اورسُودی دستاویز کے کاتب اور اس کے گواہوں پر لعنت کی اور فرمایا وہ سب گُناہ میں برابر ہیں ۔

            یاد رکھیے ! سودکا مال دُنیا وآخرت میں مَحض باعثِ وَبال ہے اور اس کا کھانا ایسا ہی ہے جیسے اپنی ماں سے زِنا کرنا ۔  چنانچہ

سُود کے ستَّردَروازے

            مَکِّی مَدَنی سلطان ، نبیِّ آخر الزّمان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے  :  ’’ اَلرِّبَا سَبْعُوْنَ بَابًا اَدْنَاہَا کَالَّذِیْ یَقَعُ عَلٰی اُمِّہٖ‘‘یعنی سُود کے ستَّر دروازے ہیں ، اِن میں سے کم تر ایسا ہے جیسے کوئی اَپنی ماں سے زِنا کرے  ۔ ‘‘ (شعب الایمان، باب فی قبض الیدعلی الاموال، ۴ / ۳۹۴، حدیث : ۵۵۲۰ )

            میرے آقا اَعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مجدِّدِ دِین و مِلَّت مولانا شاہ امام احمدرضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰناِس حدیثِ پاک کو نَقْل کرنے کے بعد لکھتے ہیں  :  ’’تو جو شخص سُود کا ایک پیسہ لینا چاہے اگر رسولُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا اِرشاد مانتا ہے تو ذرا گریبان میں مُنہ ڈال کر پہلے سوچ لے کہ اس پیسہ کا نہ ملنا قَبول ہے یا اَپنی ماں سے سَتَّر سَتَّر بار زنا کرنا  ۔ ‘‘ مزید فرماتے ہیں  :   ’’سود لینا حرام قَطْعِی و کبیرہ و عظیمہ ہے  ۔ ‘‘ (فتاویٰ رضویہ، ۱۷ /  ۳۰۷ )

            اِس پُر فتن دور میں بعض اَفراد سُود کے بارے میں بَہُت کلام کرتے ہیں اور طرح طرح سے سُودی مُعَامَلات میں راہیں نکالنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ کبھی کہتے ہیں کہ سُود کی اِتنی سَخْت رِوایات اور وعیدوں کی کیا حکمت ہے ؟ کبھی کہتے ہیں  :  ’’اگر سُودی کاروبار بند کردیں گے توبَینَ الاقوامی منڈی میں مُقَابَلہ کیسے کر سکیں گے ؟ ‘‘ کبھی کہتے ہیں  :  ’’دوسری قوموں سے پیچھے رہ جائیں گے اور کبھی اِنتہائی کم شرْحِ سُود کی آڑ لے کر لوگوں کو اُکساتے ہیں ، طرح طرح کی بَد ترین راہیں کھولنے کی کوشش کرتے ہیں  ۔ ‘‘ میرے آقا اعلیٰ حضرت ، امامِ اَہلسنَّت، مُجدِّدِ دین و مِلَّت ، پروانۂ شَمْعِ رِسالت، مولانا شاہ اِمام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرََّحْمٰن فتاویٰ رضویہ شریف میں فرماتے ہیں کافروں نے اِعتراض کیا تھا : ’’ اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰواۘ (بیشک بَیْع بھی تو سود کی مِثْل ہے  ۔ ) تم جو خرید و فَرُوخْت کو حلال اورسُود کو حرام کرتے ہو اِن میں کیا فرْق ہے ؟ بَیْع  میں بھی تونَفْع لینا ہوتا ہے ! یہ اِعتراض نَقْل کرنے کے بعد اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّتْ نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا یہ فرمان نَقْل کیا  : ’’ وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰواؕ- (پ۳، البقرہ : ۲۷۵) یعنی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے حلال کیبَیْع اور حرام کیا سُود ۔  ‘‘اور پھر اِرشاد فرمایا  :  ’’تم ہوتے ہو کون؟ بندے ہو سرِبندگی خَم کرو ۔  حُکْم سب کو دئیے جاتے ہیں حِکْمَتیں بتانے کے لئے سب نہیں ہوتے ۔ آج دُنیا بھر کے مَمالِک میں کسی کی مَجَال ہے کہ قانونِ مُلْکِی کی کسی دَفْعَہ پر حرْف گِیری کرے کہ یہ بیجا ہے ، یہ( ایسا) کیوں ہے ؟ (اسے ) یوں نہ چاہئے



Total Pages: 141

Go To