Book Name:Guldasta e Durood o Salam

(الابریز ، باب فی الجنۃ وترتیبہا وعددہا، ص۳۳۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

وَسوَسہ :  میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمارے ذِہن میں یہ وَسوسہ پیدا ہوسکتاہے کہ ہمیں صرف دُرُودِ ابراہیمی ہی پڑھنا چاہئے کیونکہ احادیثِ مُبارکہ میں بھی اسی کے فَضائل بیان ہوئے ہیں ۔

جَوابِ وَسوَسہ : بے شک اَحادیثِ مُبارَکہ میں دُرُودِ اِبراہیمی کے فَضائل بیان ہوئے ہیں اوروہی اَفْضل ہے البتہ اِس سے دوسرے دُرُودِ پاک پڑھنے کی مُمانَعَت لازِم نہیں آتی بلکہ اَحادیث مُبارَکہ میں دوسرے دُرُودوں کے مُتَعَلِّق بھی فضائل آئے ہیں ۔ چنانچہ

اُونٹ کی گواہی

          حضرت سَیِّدُنا زید بن ثابت رَضِیَ اللّٰہ تَعالٰی عَنْہُ سے مروی حدیثِ پاک کا مَفہوم ہے کہ ایک اَعرابی اپنے اُونٹ کی نکیل تھامے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضِر ہوا اور سلام عَرْض کیا : آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا :  ’’صبح صبح کیسے آنا ہو ا؟ ‘‘اِسی اَثنا میں اُونٹ بَلْبلایا (یعنی آواز نکالی) پھر ایک دوسراشخص آیا گویا کوئی مُحافِظ ہو اور عَرْض کی :  ’’یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! اِس اَعرابی نے یہ اُونٹ چُرایا ہے  ۔ ‘ ‘ اُونٹ دوبارہ غم سے بَلْبلایا تو رسولِ اَکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اِس کی فریادسننے لگے ، جب اُونٹ خاموش ہوا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مُحافِظ کی طرف مُتَوَجِّہ ہوکر فرمایا :  ’’اُونٹ نے تیرے جھوٹے ہونے کی گواہی دی ہے  ۔ ‘‘ اس پر وہ شخص چلاگیا ، پھر آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اَعرابی سے اِسْتِفْسَار فرمایا : تم نے میرے پاس آنے سے پہلے کیا پڑھا تھا ؟‘‘ اُس نے عَرْض کی :  ’’میرے ماں باپ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر قربان! میں نے یہ پڑھاتھا :

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍٍ حَتّٰی لَا تَبْقٰی صَلٰوۃٌ

اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپر بے حد دُرُود بھیج ۔

اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ حَتّٰی لَا تَبْقٰی بَرَکَۃٌ

اے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ! محمدصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کوبیشمار بَرکتیں عطافرما ۔

اَللّٰھُمَّ سَلِّمْ عَلٰی مُحَمَّدٍ حَتٰی لَایَبْقٰی سَلَام

اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپر بے اِنتہا سلامَتی فرما ۔

اَللّٰھُمَّ وَارْحَمْ مُحَمَّدًا حَتٰی لَا تَبْقٰی رَحْمَۃٌ

اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر بے حد رَحمتیں نازِل فرما  ۔

            تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اِرشاد فرمایا  :  ’’اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے اِس مُعَامَلہ کو مجھ پر ظاہر فرما دیا ، اُونٹ نے اِس ( مُحافِظ) کے گناہ (جھوٹ)  کو بیان کردیا اور فِرِشتوں نے آسمان کے کناروں کوڈھانپ لیا ۔ ‘‘(معجم کبیر، سلیمان بن زیدثابت عن ابیہ، ۵ /  ۱۴۱، حدیث : ۴۸۸۷مفہوماًو ملخصاً)

وہ ہی بھرتے ہیں جھولیاں سب کی ، وہ سمجھتے ہیں بولیاں سب کی

آؤ دربارِ مصطفی کو چلیں ، غم خوشی میں وہیں پہ ڈھلتے ہیں

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو!آپ نے دیکھا کہ اس اعرابی نے دُرُودِ اِبراہیمی کے علاوہ دُرُود ِپاک پڑھا تو اس کی بَرَکت سے اللّٰہ تعالیٰ نے اُس کی حفاظت فرمائی ، نیز مذکورہ حدیث ِپاک سے اس دُرُودشریف کی فضیلت بھی معلوم ہوئی اور ضمناً یہ بھی پتا چلا کہ دُرُودِ اِبراہیمی کے علاوہ دیگر دُرُود شریف بھی پڑھ سکتے ہیں ۔ ہاں ! یہ ضَرور ہے کہ دُرُودِ اِبراہیمی پڑھنا اَفضل ہے جیسا کہ میرے آقا اعلیٰ حضرت مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں  :  ’’سب سے اَفضل  دُرُود وہ ہے جو سب اَعمال سے اَفضل یعنی نماز میں مُقَرَّر کیا گیا ہے  ۔ ‘‘ آگے چل کر فرماتے ہیں  : ’’اُٹھتے بیٹھتے ، چلتے پھرتے باوُضو بے وُضو ہر حال میں دُرُود جاری رکھے ا ور اس کے لئے بہتر یہ ہے کہ ایک صیغہ ٔ خاص کا پابند نہ ہو بلکہ وقتًا فوقتًامختلف صیغوں سے عَرْض کرتا رہے تاکہ حُضُورِقَلْب میں فَرْق نہ ہو  ۔ ‘‘ (فتاوی رضویہ، ۶ / ۱۸۳ )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

سُود کا وَبال

حضرتِ سیِّدُناشیخ ابوحَفْص رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے اُستاد کے والد فرماتے ہیں  :  میں نے ایک شخص کو حَرَم شریف، بَیْتُ اللّٰہ، عَرَفَہ اورمِنٰی ہر جگہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپرکثرت سے دُرُود ِپاک پڑھتے دیکھا تو پوچھا  :  کہ ہر جگہ کے لیے ایک علیحدہ وِرْد ہے مگر تُوہے کہ صِرْف نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر دُرُودِ پاک پڑھ رہا ہے ، اِس کی کیا وَجہ ہے ؟ اُس نے کہا :  میں اپنے والد کے ساتھ حج کرنے کے لیے خُراسان سے نکلا ۔  جب ہم کُوفہ پہنچے تو میرے والد سخْت بیمار ہوگئے ا ور اِسی بیماری میں فَوت ہوگئے ۔ میں نے اُن کامنہ ڈھانپ دیا، کچھ دیر بعد دیکھا تو ان کا چہرہ گدھے کی شَکْل میں تبدیل ہوگیا تھا، جب میں نے یہ کَیْفِیَّت دیکھی تو بَہُت پریشان ہوااور اِسی حالت میں مجھے اُونگھ آگئی، کیادیکھتاہوں کہ ایک صاحِب میرے والد کے پاس تشریف لائے اُن کا چہرہ دیکھ کر مجھ سے کہنے لگے  :  ’’کیا اِسی وجہ سے تم غمگین ہو؟‘‘ پھرفرمایا : ’’ تجھے مُبارک ہو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے تیرے والد کی تکلیف دُور کردی  ۔ ‘‘اس پر میں نے والد صاحِب کا چِہرہ دیکھا کہ چاند کی طرح روشن تھا ۔  میں نے اُس ہستی سے پوچھا  :  ’’آپ کون ہیں ؟‘‘ اُنہوں نے جواب دیا : ’’ میں تُمہارا نبی محمد مُصْطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہوں ۔ یہ سن کر میں نے دامنِ اَقْدَس تھام کر اَصْل حقیقت کے بارے میں پوچھا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :  ’’تیرا والدسُود کھاتا تھااور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا حُکْم ہے کہ جو سود کھائے گااس کی شَکْل دنیا میں مرتے وَقْت یا آخرت میں گدھے کی طرح



Total Pages: 141

Go To