Book Name:Guldasta e Durood o Salam

بیان کردہ رِوایت سے معلوم ہوا کہ اگر دُعا مانگنے والا قَبُولیت کا طالب ہے تو اس پر لازم وضروری ہے کہ دُعا کے اَوَّل وآخر نبیِّکریم ، رَء ُوْفٌ رَّحیم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِوَ التَّسْلِیمپر دُرُودپاک پڑھا کرے جیساکہ

دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مَطْبُوعہ 318 صفحات پر مشتمل کتاب’’فضائلِ دعا‘‘صفحہ68پر والدِ اعلیٰ حضرت، رئیسُ الْمُتَکَلِّمِین حضرتِ علّامہ مولانا نقی علی خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُالمنّان دُعا کے آداب بیان کرتے ہوئے اِرشاد فرماتے ہیں  :  ’’ اَوَّل وآخر نبی صلَّی اللّٰہ تَعالٰی عَلَیْہ  وَسَلَّم اور اِن کے آل واَصحاب پر دُرُود بھیجے کہ دُرُود اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مَقْبول ہے اور  پَرْوَرْدْگار کریم اس سے برتر کہ اَوَّل وآخر کو قبول فرمائے اور وسط (دَرمیان) کو رد کردے  ۔ ‘‘

زَمین وآسمان کے دَرمیان مُعلَّق دُعا

حضرت سَیِّدُنا عُمَربن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  : ’’اِنَّ الدُّعَاء مَوْقُوْفٌ بَیْنَ السَّمَائِ وَالْاَرْضِ لَا یَصْعَدُ مِنْہُ شَیْئٌ حَتّٰی تُصَلِّیَ عَلٰی نَبِیِّکَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، یعنی دُعا زمین وآسمان کے دَرمیان روکی جاتی ہے جب تک تُو اپنے نبیصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّمپر دُرُود نہ بھیجے بلند نہیں ہوپاتی ۔ ‘‘ (ترمذی، کتاب الوتر، باب ما جاء فی فضل الصلاۃ علی النبیالخ، ۲ /  ۲۸، حدیث :  ۴۸۶) اسکے حاشیے میں میرے آقا اعلیٰ حضرت امامِ اہلسُنَّت مُجدِّدِدین ومِلَّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُالرَّحمٰن ارشاد فرماتے ہیں  : بلکہ بَیہقی وابُو الشیخ سَیِّدُنا علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے راوی ، حُضُورسَیِّدُالْمُرسَلِین  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   فرماتے ہیں  :   ’’اَلدُّعَاء مَحْجُوْبٌ عَنِ اللّٰہِ حَتّٰی یُصَلِّیَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاَہْلِ بَیْتِہٖیعنی دُعا اللّٰہتعالیٰ سے حِجاب میں ہے جب تک محمد  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور ان کے  اَہلِ بیت پر دُرُود نہ بھیجا جائے  ۔ ‘‘ (کنز العمال، کتاب الأذکار، الثامن فی الدعاء،  ۱ /  ۳۵، الجزء الثانی، حدیث :  ۳۲۱۲)اے عزیز! دُعا طَائِر ہے اور دُرُود شَہْپَر، طائر بے پَر کیا اُڑ سکتاہے !

       پرندے کے بازُو کا سب سے بڑا پَرکہ جس کے بغیر کوئی پرندہ پرواز نہیں کرسکتا اسے شَہْپر کہا جاتا ہے ۔ یعنی دُعا ایک پرندہ اور دُرُودِ پاک اسکے شَہْپر کی مانِنْد ہے لہٰذا ایسا پرندہ جس کا شَہْپر ہی نہ ہو وہ کیا اُڑے گا ایسے ہی وہ دُعا جو دُرودِ پاک سے خالی ہو کیونکر مَقبُول ہوسکتی ہے !       (فضائلِ دُعا، ص۶۹)

            لہٰذاہمیں بھی اپنی دُعا کی اِبتداواِنتہا میں نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذاتِ طیبہ پر دُرُودپاک پڑھنے کی عادت بنالینی چاہیے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ اسکی بَرَکت سے ہماری دُعائیں بارگاہِ الہٰی میں مَقبُول ہوں گی ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللّٰہتعالیٰ کے مَعصُوم فِرِشتے تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نَبُوَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے رَوضۂ انور پر حاضری دے کردُرُدوسلام کا تُحفہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں  ۔ چنانچہ

دَربارِ نبی میں فِرِشْتوں کی حاضِری

حضرتِسَیِّدُناابنِ وَہَب رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِسے روایت ہے کہ حضرتِ سَیِّدُنا کَعب  رَضِیَ اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ اُمُّ الْمؤمِنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدّیقہ  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاکی خِدْمَت میں حاضِر ہوئے ۔ لوگوں نے رسُول اللّٰہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا تذکرہ کیا تو حضرتِ سَیِّدُناکَعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’ہر دن ستَّر ہزار فِرِشتے اُترتے ہیں جو رسُولُ اللّٰہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی قَبر شریف کو گھیرلیتے ہیں اپنے پر بچھادیتے ہیں اور رسُول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  پر  دُرُودشریف پڑھتے رہتے ہیں ، حتّٰی کہ جب شام پاتے ہیں تووہ چڑھ جاتے ہیں اور ان کی مِثْل(دوسرے فِرِشتے ) اُترتے ہیں وہ بھی اِسی طرح کرتے ہیں ’’حَتّٰی اِذَاانْشَقَّتْ عَنْہُ الْاَرْضُ خَرَجَ فِی سَبْعِیْنَ اَلْفًا مِّنَ الْمَلَائِکَۃِ یَزِفُّوْنَہٗ،  حتیّٰ کہ جب زمین کھلے گی توحُضُور ستَّرہزارفِرِشتوں میں نکلیں گے جوحُضُورکو پہنچائیں گے ۔ ‘‘(مشکاۃ، کتاب احوال القیامۃ وبدء الخلق، باب الکرامات، ۲ / ۴۰۱ ، حدیث :  ۵۹۵۵)

اس روایت کے تحت  مُفَسّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  تِ مُفْتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحنّان ارشاد فرماتے ہیں  : ’’خیال رہے کہ ہمیشہ سارے ہی فِرِشتے حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود بھیجتے ہیں مگر یہ ستَّرہزارفِرِشتے وہ ہیں جن کو عمر میں ایک بار حاضِریٔ دَربار کی اِجازَت ہوتی ہے ۔ یہ حضرات حُضُور  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بَرَکت حاصل کرنے کو حاضِری دیتے ہیں ۔ جوفِرِشتہ ایک بار حاضِری دے جاتا ہے اسے دوبارہ حاضِری کا شَرف نہیں ملتا ۔

ساری عمر میں صِرف چند گھنٹے یعنی آدھے دن کی حاضِری نصیب ہوتی ہے ۔ یَزِفُّوْن بنا ہے زَفٌّ سے ، زَفٌّ کے معنیٰ ہیں  :  محبوب کو محبوب تک پہنچانا، اسی سے ہے  زَفَاف (یعنی رخصتی ) کہ اس میں دُولہا کو دُلہن کے گھر تک پہنچایا جاتا ہے ، یعنی قِیامت کے دن اس دن کی ڈیوٹی والے فِرِشتے حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دُولہاکی طرح اپنے جُھرمٹ میں لے کر رَبّ تعالیٰ تک پہنچائیں گے ۔ ‘‘(مراٰۃ، ۸  / ۲۸۲تا ۲۸۳)

میرے آقااعلیٰ حضرت امامِ اَہلسُنَّت مُجدِّدِدین ومِلَّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن ’’حدائقِ بخشش شریف‘‘ میں اسی بات کی طرف اِشارہ کرتے ہوئے کیا خُوب ارشاد فرماتے ہیں  :

سَتّر ہزار صبح ہیں سَتّر ہزار شام

یوں بندگِیٔ زُلف و رُخ آٹھوں پہر کی ہے

جو ایک بار آئے دوبارہ نہ آئیں گے

رُخصَت ہی بار گاہ سے بس اس قَدَر کی ہے

تڑپا کریں بدل کے پھر آنا کہاں نصیب

بے  حُکْم کب مجال پرندے کو پَر کی ہے

اے وائے بے کسی تمنّا کہ اب اُمید

 



Total Pages: 141

Go To