Book Name:Guldasta e Durood o Salam

(فیضانِ سنت ، ص۵۱ تا۵۳)

حُسنِ یوسُف دمِ عیسیٰ پہ نہیں کچھ مَوقُوف

جس نے جو پایا ہے ، پایا ہے بدولت اُن کی (ذوقِ نعت ، ص۱۵۳)

            اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سچی مَحَبَّتعطا فرمائے اور آپ عَلَیْہِ السَّلام کی ذات پر کثرت سے دُرُودِ پاک پڑھنے کی توفیق عطافرمائے ۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

٭٭٭٭

بیان نمبر : 31

بھلائی کے طلبگار

خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ لِّلْعٰلمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ دلنشین ہے  :  ’’مَنْ قَرَأَ الْقُرْاٰنَ وَحَمِدَالرَّبَّ وَصَلَّی عَلَی النَّبِیِّ وَاسْتَغْفَرَ رَبَّہ، یعنی جس نے قرآنِ پاک کی تلاوت کی اور رَبّ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور پھر نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود شریف پڑھ کر اپنے رَبّ عَزَّوَجَلَّسے مغفرت طلب کی ، فَقَدْ طَلَبَ الْخَیْرَ مَکَانَہٗ، تو یقینااس نے بھلائی کو اپنی جگہ سے تلاش کرلیا ۔  ‘‘

( درمنثور، پ۳۰، ذکر دعاء ختم القرآن، ۸ / ۶۹۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگرہم بھی بھلائی اور مَغْفِرت کے طلبگار اور اللّٰہ عَزَّوَجَل اور اس کے رسول  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رضا کے خَواہش مند ہیں تو ہمیں بھی چاہئے کہ ہمہ وقت شوق ومَحَبَّت کے ساتھ بکمالِ خُشوع و خُضوع دل کو سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی طرف متوجُّہ کرکے آپ کی ذات ِ گرامی پردُرُود وسلام کے گجرے نچھاور کرتے رہیں تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ اسکی برکت سے سرکارِدوعالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی مَحَبَّت ہمارے دلوں میں جاگزیں ہوگی اور جسے سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کی مَحَبَّت نصیب ہوگئی یقینا وہ دنیاوآخرت میں سُرخرو ہوگیا ۔

صحابۂ کرام عَلَیْھِمُ الرِّضْوان سرکارِ دو عالم، نُورِمُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی مَحَبَّت میں اس قَدر مُنہمِک ومُستغرق رہا کرتے تھے کہ انہیں دُنیا ومافِیْہا سے کوئی رَغبت نہ ہوتی، وہ حضرات اکثر اَوقات جَلوۂ محبوب کی تابانیوں سے مَحظُوظ ہوتے اور ہر لمحہ آپ کی صُحبت بابَرَکت میں رہنا پسندکرتے ، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے جُدائی انہیں ہرگز گوارہ نہ تھی حتیٰ کہ ہمارے پیارے آقا، مکّی مَدَنی مُصْطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی ذاتِ مُقدَّسہ کو اپنے اَہلِ خانہ پر ترجیح دیتے ۔ چنانچہ

زید بن حارثہ  رَضِی اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہُ  کاعِشقِ رسول

حضرت سیِّدتُناخدیجہ رَضِی اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہا نے حُضُور عَلَیْہِ السَّلام سے نکاح کے بعد اپنے غلام حضرت زید بن حارثہ  رَضِی اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہُ کو سرکار عَلَیْہِ السَّلامکی خِدْمت میں بطورتُحفہ پیش کردیا، آپ  رَضِی اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہُ صِغَرسِنی (بچپن) ہی سے بارگاہِ رسالت میں رہا کرتے اور آپ کی صُحبت با بَرَکت میں رہ کر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دیدار پُر بہار سے فیضیاب ہوا کرتے ، حُضُور عَلَیْہِ السَّلام کی بے پناہ شفقتوں کی وجہ سے آپ کی مَحَبَّتمیں ایسے گرفتار ہوئے کہ ماں ، باپ اور دیگر اہل خانہ کی یاد نہ آتی ۔  ایک بار ان کے والد اور چچا فِدیہ کی رقم لے کر ان کو غلامی سے چھڑانے کی خاطر مکہ مکرمہ پہنچے ، تحقیق کی ، پتا چلایا اور حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خِدْمت میں پہنچ کر عرض کی  :  اے ہاشم کی اولاداور قوم کے سردار! آپ حرم کے رہنے والے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے گھر کے پڑوسی ہیں ، قیدیوں کو رہا کراتے اور بھوکوں کو کھانا کھلاتے ہیں ۔ ہم اپنے بیٹے کی طلب میں آپ کے پا س پہنچے ہیں ہم پر احسان فرماتے ہوئے فِدیہ قبول کریں اور اس کو رِہا کردیں بلکہ جو فدیہ ہو اس سے زِیادہ لے لیں ، حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : بس اتنی سی بات ہے ؟ عرض کی ! جی ہاں ! آپ عَلَیْہِ السَّلام نے ارشاد فرمایا :  اس کو بلا ؤاور اس سے پوچھ لو اگر وہ تمھارے ساتھ جانا چاہے تو بغیر فدیہ ہی کے وہ تمہاری نذر ہے اور اگر نہ جانا چاہے تو میں ایسے شخص پر جبر نہیں کرسکتا جو خود نہ جاناچاہے ۔ اُنھوں نے عرض کی کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِستحقاق سے بھی زِیادہ اِحسان فرمایایہ بات خُوشی سے منظور ہے ۔ جب حضرت زید  رَضِیَ اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہُ بلائے گئے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  تم ان کو پہچانتے ہو؟ عرض کیا جی ہاں ! پہچانتا ہوں یہ میرے باپ اور یہ میرے چچا ہیں ۔ حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ میرا حال بھی تمہیں معلوم ہے ۔ اب تمہیں اِختیار ہے کہ میرے پاس رہنا چاہو تو میرے پاس رہو، انکے ساتھ جانا چاہوتو اِجازت ہے ۔ حضرت زید  رَضِی اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہُ نے عرض کی :  حُضُور! میں آپ کے مقابلے میں بَھلا کس کو پسند کر سکتا ہوں آپ میرے لئے باپ کی جگہ بھی ہیں اور چچا کی جگہ بھی ۔   ا ن کے والد اور چچا نے کہا کہ زید غلامی کو آزادی پر ترجیح دیتے ہو؟باپ چچا اور سب گھر والوں کے مقابلہ میں غلام رہنے کو پسند کرتے ہو؟ حضرت زید  رَضِی اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہُ نے (حُضُور عَلَیْہِ السَّلام کی طرف اشارہ کرکے ) فرمایا : ’’ ہاں میں نے ان میں ایسی بات دیکھی ہے جس کی وجہ سے میں ان کے مقابلے میں کسی چیزکو بھی پسند نہیں کرسکتا  ۔ ‘‘ حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جب یہ جواب سنا تو فرطِ مَحَبَّت سے ان کو گود میں اُٹھا لیا اور فرمایا : ’’ میں نے اس کو اپنا بیٹا بنا لیا ۔ ‘‘حضرت زید  رَضِی اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہُ کے والد اور چچا بھی یہ منظر دیکھ کر بہت خُوش ہوئے اور بَخوشی ان کو چھوڑ کر چلے گئے ۔ (الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، زید بن حارثۃ، ۲ / ۴۹۵ ملخصًا)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے حضرت زید رَضِی اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہُ نے بچپن کی حالت میں بے چین دلوں کے چَین، رَحمتِ دارَین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے مَحَبَّتکی خاطر اپنے  گھر والوں اور عزیز و اَقارب کے پاس جاناپسند نہیں کیا ، تو کیا ہم مَحَبَّتِ رسول کا دم بھرنے والے اپنا تھوڑا سا وَقت نکال کر اِہتمام کے ساتھ آپ عَلَیْہِ السَّلام پر دُرُودِپاک بھی نہیں پڑھ سکتے حالانکہ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان توحُضُور کیمَحَبَّت میں اپنے دن رات دُرُودِپاک پڑھنے میں صرف فرمادیا کرتے تھے ۔ چنانچہ

 



Total Pages: 141

Go To