Book Name:Guldasta e Durood o Salam

 

بیان نمبر : 27

غیبت سے حفاظت کا نُسخہ

          حضرت علامہ مَجدُا لدِّین فَیروز آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْہادیسے منقول ہے  :    جب کسی مجلس میں (یعنی لوگوں میں ) بیٹھوتو یُوں کہہ لیاکرو، بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم وَصَلَّی اللّٰہ علٰی مُحَمَّدٍ، (اس کی برکت سے ) اللّٰہعزَّوَجَلَّ تم پر ایک فِرِشتہ مُقرَّرفرمادے گا جوتم کوغیبت سے بازرکھے گااورجب مجلس سے اٹھوتو اس وقت بھی  بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحیم وَصَلَّی اللّٰہ عَلٰی مُحَمَّدٍکہہ لیاکرو تو فِرِشتہ لوگوں کوتمہاری غیبت کرنے سے باز رکھے گا ۔ (القول البدیع، الباب الثانی فی ثواب الصلاۃ والسلام علی رسول اللّٰہ، ص۲۷۸)

لَمْحۂ فِکریہ

          شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیِ دعوت ِاسلامی حضرتِ علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دامَتْ بَرَکاتُہمُ الْعَالِیَہ اپنی مایہ ناز تالیف ’’غیبت کی تباہ کاریاں ‘‘ میں فرماتے ہیں  : ’’ ماں باپ ، بھائی بہن، میاں بیوی، ساس بَہو، سُسَر داماد، نَند بھاوَج بلکہ اہلِ خانہ و خاندان نیز اُستاد و شاگرد، سیٹھ و نوکر ، تاجِر و گاہگ، افسرو مزدور ، مالدار و نادار، حاکم و محکوم، دُنیا دار ودِیندار، بوڑھا ہو یا جوان اَلْغَرض تمام دینی اور دُنیوی شُعبوں سے تعلُّق رکھنے  والے مسلمانوں کی بھاری اکثریّت اِس وَقت غیبت کی خوفناک آفت کی لپیٹ میں ہے ، اَفسوس ! صد کروڑ اَفسوس! بے جابک بک کی عادت کے سبب آج کل ہماری کوئی مجلس (بیٹھک) عُمُوماً غیبت سے خالی نہیں ہوتی ۔  بَہُت سارے پرہیز گار نظر آنے والے لوگ بھی بِلاتکلُّف غیبت سنتے ، سناتے ، مُسکراتے اور تائید میں سر ہِلاتے نظر آتے ہیں ، چُونکہ غیبت بَہُت زیادہ عام ہے اِ س لئے عُمُوماً کسی کی اِس طرف توجُّہ ہی نہیں ہوتی کہ غیبت کرنے والا نیک پرہیز گار نہیں بلکہ فاسِق وگُنہگار اور عذابِ نار کا حَقدار ہوتا ہے ۔

غیبت کا اَنْجام

قرآن و حدیث اور اَقوالِ بُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ المُبِین میں غیبت کی مُتعدَّد تباہ کاریاں بیان کی گئی ہیں جنہیں سن کر شاید خائفین کے بدن میں جُھر جھری کی لہر دوڑ جائے ! جگر تھام کر چند ایک وعیدیں مُلاحَظہ فرمایئے ۔ چنانچہ  ٭غیبت اِیمان کو کاٹ کر رکھ دیتی ہے ۔ ٭ غیبت بُرے خاتمے کا سبب ہے ۔ ٭ غیبت سے نیکیاں برباد ہوتی ہیں ۔ ٭ غیبت مُردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مُترادِف ہے ۔ ٭غیبتکرنے والا جہنَّم کا بندر ہو گا ۔ ٭نیز غیبتکرنے والا قیامت میں کتّے کی شکل میں اُٹھے گا ۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! غیبت کی عادت سے سچی توبہ کیجئے ، زَبان کی حفاظت کا ذِہن بنایئے ، توبہ پر اِسْتقامت پانے کیلئے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے ہر دم وابَستہ رہئے اور ذِکر و دُرُود کی عادت بنالیجئے ۔

حضرتِ سیِّدُنا فارُوقِ اَعظم رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  :  ’’عَلَیْکُمْ بِذِکْرِ اللّٰہِ تَعَالٰی فَاِنَّہٗ شِفَاءٌ، تم پر ذِکرُاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ لازِم ہے ’’‘ کہ بیشک اِس میں شِفا ہے ‘‘، ’’وَاِیَّاکُمْ وَذِکْرَ النَّاسِ فَاِنَّہُ دَاءٌ، ا ور لوگوں کے تذکروں (مَثَلاً غیبت) سے بچو کہ یہ بیماری ہے  ۔ ‘‘ (احیاء علوم الدین، کتاب آفات اللسان، الآفۃ الخامسۃعشرۃالغیبۃ، ۳ / ۱۷۷ )

ہمارے بُزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ المُبِینکا یہ عالم تھا کہ وہ ذکر و دُرُود سے کسی بھی صورت میں  غافل  نہیں ہوتے تھے  ۔ جیسا کہ

قِیامت کی ذِلَّت و نُحُوست کا ایک سبب

            امام شعرانی  قُدِّ سَ سرُّہُ النُّورانینے سَلَف صالحین کے اَخلاق پر ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ’’تَنْبِیْہُ الْمُغْتَرِّیْن ‘‘ہے ۔ اس میں فرماتے ہیں  :  ’’سَلَف صالحین کی عادات میں سے یہ بھی ہے کہ وہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے ذِکر اور رسُول اللّٰہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود بھیجنے سے کسی مجلس میں غافل نہیں ہوتے ۔ حُضُور  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمان پر عمل کرتے ہوئے  :  ’’لا یَجْلِسُ قَوْمٌ مَجْلِسًا لَمْ یَذْکُرُوا اللّٰہَ فِیہِ وَلَمْ یُصَلُّوْا عَلٰی نَبِیِّہِ مُحَمَّدٍ، جو قوم کسی مجلس میں بیٹھے اور اس میں نہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا ذِکر کرے اور نہ ہی اس کے نبی محمد  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود بھیجے ، اِلَّا کَانَ عَلَیْہِمْ تِرَۃً یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، تو قیامت کے دن اس قوم پر ذِلَّت ونُحوست مُسلط ہوگی ۔  ‘‘   (سعاد ۃ الدارین، الباب الثالث فیماورد عن الانبیاء والعلماء فی فضل الصلاۃ علیہ، ص۱۰۹)

            سَیّدِی ابُو العبَّا س تیجانی قُدِّسَ سرُّہُ الرَّباّنی نے ’’اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ صَلاتَنَا عَلَیْہِ مِفْتَاحاً‘‘(یعنی یاالٰہَ الْعَالَمِیْن! ہماراحُضُور عَلَیْہِ السَّلام پر دُرُود پاک پڑھنا چابی بنادے  ۔ ) کی شرح میں فرمایا  : ’ ’دُرُود پرھنے والا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے دُعاکرتا ہے کہ اس کا پڑھاہوادُرُودِ پاک غُیوب و مَعارف اور اَنوار و اَسرار کے بند دَروازوں کے لئے چابی بن جائے ۔ جب اس میدانِ( معرفت و اسرار) کی چابی خود حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذاتِ مقدسہ ہے تو اس کے حُصول کے لئے بہتر یہ ہے کہ آپ عَلَیْہِ السَّلام کی بارگاہ میں دُرُود و سلام کے نَذرانے بھیجے جائیں ۔ جواس فَریضہ سے الگ رہا اور اس راہ پر چلنے والے تمام مسلمانوں سے کٹ گیا تو کٹ ہی گیا اوردُھتکارا گیا اور اس کی قِسمت میں قُرب خُداوَندی نہیں ۔ ‘‘        (سعاد ۃالدارین، ص۱۰۹، ایضاً)

            علَّا مہ شَعرانی قُدِّسَ سرُّہُ الرَّبَّانیفرماتے ہیں  : ’’ دُرُودِ پاک وہ عَظیم الشَّان عہد ہے جو رسُول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مُتعلِّق ہم سے کیا گیا ہے کہ ہم رسولِ پاک  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر رات دن کثرت سے دُرُود و سلام بھیجیں اور ہم اپنے بھائیوں کے سامنے اس کا اَجر و ثواب بیان کریں اور آپعَلَیْہِ السَّلام کی مَحَبَّتکے اِظہار کے پیشِ نظر ان کو اسکی کامل ترغیب دیں  ۔ ‘‘(سعادۃ الدارین، ص۱۰۹ ایضاً )

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانامحمدالیاس عطارقادری رَضَوی دَامَتْ بَرَکاتُہمُ الْعَالیَہ نے اس پُر فِتن دور میں آسانی سے نیکیاں کرنے اورگُناہوں سے بچنے کے طریقوں پر مشتمل شریعت و طریقت کاجامع مجموعہ (اسلامی بھائیوں کے لئے ) ’’72 مدنی انعامات ‘‘ بصورتِ سُوالات عطا فرمایا ہے اس میں ایک مَدنی اِنعام یہ بھی ہے  :  



Total Pages: 141

Go To