Book Name:Guldasta e Durood o Salam

کے ساتھ پیش کرتے ہیں ۔  (جذبُ القلوب، ص۲۲۹)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

سَعادَتِ عُظْمٰی

            حضرت سیِّدُناشیخ عبدالحق مُحدِّثِ دہلوی عَلَیہ رَحْمۃُ اللّٰہِ الْقَوِی ’’جذبُ الْقُلوب‘‘ میں مزید فرماتے ہیں  : ’’دُرُودوسلام پیش کرنے والے کے لیے سعادت دَر سعادَت یہ ہے کہ اُسے سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبنفسِ نفیس جوابِ سلام سے مُشرَّف فرماتے ہیں ۔ ایک اَدنیٰ غُلام کے لیے اِس سے بالا تَر سعادَت اور کون سی ہوسکتی ہے کہ رَحمت ِعالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمخُود جوابِ سلام کی صُورَت میں دُعائے خَیروسَلامَتی فرمائیں ۔ اگر تمام عُمر میں صِرف ایک بار بھی یہ شَرف حاصل ہوجائے تو ہَزارہا شَرافت وکَرامت اور خَیر وسَلامتی کا مُوجب ہے ۔ ‘‘   (جذبُ القلوب، ص۲۳۰)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ تبلیغِ قُرآن وسُنَّت کی عالمگیر غیر سیاسی تَحریک دعوتِ اِسلامی کے مَہکے مَہکے مدَنی ماحول میں بکثرت سُنَّتیں سیکھی اور سِکھائی جاتی ہیں ، فَرائِض وواجبات کی پابندی کے ساتھ ساتھ سُنَن ومُسْتحبات کی پابندی کا بھی ذِہن دیا جاتا ہے ، نیز ذِکر ودُرُود کی کثرت کا بھی عادی بنایا جاتا ہے  ۔ اس کے علاوہ حمدِ خُداعَزَّوَجَلَّاور نعتِ پاکِ مُصْطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بہاریں بھی حاصل ہوتی ہیں  ۔ دعوت ِ اِسلامی کے مدَنی ماحول میں رہتے ہوئے حَمد ونعت کی بَرَکات حاصل کرنے والوں پر بعض اَوقات ایسی کرم نَوازی ہوتی ہے کہ سُننے والے اَش اَش کر اُٹھتے ہیں  ۔ چُنانچہ

مُصْطَفٰے جانِ رَحْمَت کا دِیدار

          مَرکزُالا َو ْ لیا(لاہور ) کے مُقیم اِسلامی بھائی کے بیان کالُبِّ لُباب کچھ اسطرح ہے کہ خُوش قِسمَتی سے ایک بار مجھے عاشِقانِ رسُول کے ہمراہ سُنَّتوں کی تَربیت کے لیے مدَنی قافِلے میں سَفر کی سعادَت نصیب ہوئی ۔ سَفر کے دوران ایک روز شُرکائے قافِلہ نے مَحفلِ نعت کا اِنْعِقاد کیا جس میں عاشِقانِ رسُول نے نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مَحَبَّت میں ڈوب کر پُر سو زاَنداز میں نعتِ رسُول پڑھیں جنہیں سُن کرمیرا دل چوٹ کھا گیا اور اسی سوز وگداز کے عالَم میں میری آنکھ لگ گئی ۔ ظاہری آنکھیں توکیا بند ہوئیں دل کی آنکھیں روشن ہو گئیں ۔ کیا دیکھتاہوں کہ میرے سامنے سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ، فیَض گنجینہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جلوہ فر ماہیں اور میں بِلک بِلک کے رو رہا ہوں ۔ اتنے میں سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو مجھ اَدنیٰ اُمَّتِی پر رَحم آ گیا اور آپ نے اپنے دامنِ رَحمت کو وسیع فر مایا اور مجھ عِصْیاں شعار کو آغوشِ رَحمت میں جگہ عطا فرمائی ۔  مجھے یوں لگا جیسے مجھے جہاں بھر کا خَزانہ مل گیا ہو ۔  اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ یہ سب بہاریں مدنی قافلے میں سفر کرنے کی وجہ سے ملیں ورنہ کہاں حُضُورِانور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اورکہاں مجھ سا عاصِی ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اے ہمارے پیارے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! ہمیں نبیِّکریم ، رَء ُوْفٌ رَّحیم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سچی مَحَبَّت عطافرما، زندگی بھر آپ کی سنتوں پر چلنے اورآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذاتِ طیِّبہ پر کثرت سے جھوم جھوم کر  دُرُدوسلام کے نذرانے پیش کرنے کی توفیق عطافرما ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

٭…٭…٭…٭

بیان نمبر  : 2

شَفاعَت واجِب ہوگئی

حضرتِسَیِّدُنا رُوَیفَع بن ثابِت  رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا :

 ’’جس شخص نے یہ دُرُود شریف پڑھا  :  ’’اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاَنْزِلْہُ الْمَقْعَدَ الْمُقَرَّبَ عِنْدَکَ یَوْمَ الْقِیَامَۃ‘‘تو اس کیلئے میری شفاعت واجب ہوگئی  ۔ ‘‘(معجم کبیر، رویفع بن ثابت الانصاری، ۵   /  ۲۶، حدیث  : ۴۴۸۰ )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس دُرُود کو یاد کرلیجئے اور اُٹھتے بیٹھتے ، چلتے پھرتے کثرت کیساتھ پڑھتے رہئے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ اِسکی برکت سے روزِ قیامت ہم گُناہ گاروں کو رَحْمَۃُ لِّلْعٰلمِیْن، شفیعُ المُذْنبین  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شفاعت نصیب ہوگی ۔ اس کے علاوہ دُرُودپاک کے بے شُمار فوائد میں سے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہدُرُودپاک  کی بَرَکت سے دُعائیں قَبول ہوتی ہیں جیساکہ

قَبُولیتِ دُعا کا پَروانہ

حضرتِ سَیِّدُنافُضَالہ بن عُبَید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سیِّدُ الْمُبلِّغِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم(مسجد میں ) تشریف فرما تھے کہ ایک آدَمی آیا، اس نے نماز پڑھی اور پھر ان کَلِمات سے دُعا مانگی  :  ’’اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِیْ وَارْحَمْنِیْ ، یعنی اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ! مجھے بخش دے اور مجھ پر رَحم فرما ۔  ‘‘ رسولُ اللّٰہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ عَجِلْتَ اَیُّہَاالْمُصَلِّیْ اے نمازی تُو نے جلدی کی ۔  اِذَاصَلَّیْتَ فَقَعَدْتَّ فَاحْمِدِ اللّٰہَ بِمَا ہَُوَاَہْلُہٗ وَصَلِّ عَلَیَّ ثُمَّ ادْعُہٗ، جب تو نماز پڑھ کر بیٹھے تو (پہلے ) اللّٰہتعالیٰ کی ایسی حَمد کر جواس کے لائق ہے اور مجھ پر دُرُودِپاک پڑھ، پھر اسکے بعد دُعا مانگ ۔ ‘‘

راوی کا بیان ہے کہ اسکے بعدایک اور شخص نے نماز پڑھی ، پھر(فارِغ ہوکر ) اللّٰہتعالیٰ کی حَمدبیان کی اورحُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلام پر دُرُودپاک  پڑھا تو سرکارِ مدینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا :  ’’ اَیُّہَا الْمُصَلِّی اُدْعُ تُجَبْ، اے نمازی ! تُو دُعا مانگ ، قبول کی جائے گی ۔ ‘‘  (ترمذی،  کتاب الدعوات،  ماجاء فی جامع الدعواتالخ، ۵ /  ۲۹۰،  حدیث :  ۳۴۸۷)

 



Total Pages: 141

Go To