Book Name:Guldasta e Durood o Salam

آگ بھی نہیں جلائے گی اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ  ۔ اس ضِمن میں ایک روایت سنئے اور جُھوم اُٹھیے ۔ چُنانچہ

آگ نے کچھ اثرنہ کیا

            مروی ہے کہ ایک بار حضرت سَیِّدتُنافاطمہ رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہا تنور میں روٹیاں لگارہی تھیں کہ حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لائے اور حضرتِ فاطمہ رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہا کے آٹے کی کچھ روٹیاں بناکر تَنُّور  میں لگائیں تو ان روٹیوں پر آگ نے کچھ اثرنہ کیا حتّٰی کہ ان کی رَطُوبت بھی خشک نہ ہوئی اور جس طرح لگائی تھیں اسی طرح رہیں ۔      (کوثر الخیرات، ص ۲۷۷)

آگ سے دُھلنے والا رومال

اسی طرح حضرتِ سیِّدُنا عُباّد بن عبدُ الصَّمد رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  :  کہ ہم ایک روز حضرتِ سیِّدُنا انَس بن مالِک رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہکے دولت خانے پرحاضِر ہوئے ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ کا حکم پا کر کنیزنے دَسترخوان بچھایا ۔  فرمایا  :  ’’رومال بھی لاؤ  ۔ ‘‘ ، وہ ایک رومال لے آئی جسے دھونے کی ضَرورت تھی ۔  حکم دیا :  اِس کو تَنُّور میں ڈال دو! اُس نے بھڑکتے تَنُّور میں ڈال دیا ! تھوڑی دیر کے بعد جب اُسے آگ سے نکالا گیا تو وہ ایسا سفید تھا جیسا کہ دُودھ ۔ ہم نے حیران ہوکر عرض کی :  اِس میں کیا راز ہے ؟ حضرتِ سیِّدُنا انَس رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ نے فرمایا : ’’ یہ وہ رومال ہے جس سے حُضُور سراپا نور ، فیض گَنجور، شاہِ غَیُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنا رُخِ پُر نور صاف فرمایا کرتے تھے  ۔  جب دھونے کی ضَرورت پڑتی ہے ہم اِس کو اِسی طرح آگ میں ڈال دیتے ہیں  ۔ ‘‘ (الخصائص الکبری، باب الآیۃ فی النار، ۲ /  ۱۳۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!عارِفِ کامِل حضرتِ سیِّدُنا مولانا رُوم عَلَیْہِ رَحمۃُ القَیوم’’مثنوی شریف ‘‘میں اِس واقِعۂ مبارَک کو لکھنے کے بعد فرماتے ہیں  :

اے دلِ تَرسِنْدہ اَ ز نارو عذاب                             با چُناں دَست و لَبے کُن اِ قْترَاب

چُوں جَما د ے راچُناں تشریف داد                                            جانِ عا شِق را چَہا خَو اہد کَشاد

(یعنی اے وہ دل جس کو عذابِ نار کا ڈر ہے ، ان پیارے پیارے ہونٹوں اور مُقدَّس ہاتھوں سے نَزدیکی کیوں نہیں حاصِل کر لیتا جنہوں نے بے جان چیز تک کو ایسی فَضلیت و بُزُرگی عطا فرمائی کہ وہ آگ میں نہ جلے ، تو ان کے جو عاشِقِ زار ہیں ان پر عذابِ نار کیوں نہ حرام ہو!)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دُرُودِ پاک پڑھنا عَظیم ترین سعادت اور اَفْضَل ترین اَعمال میں سے ہے یہ عملاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں اس قَدر محبوب ہے کہ جو اس کا عامل بن جاتا ہے تو اس پر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کی رَحمتوں کی بارش چَھماچَھم برسنا شُروع ہوجاتی ہے ۔ چنانچہ

            حضرت سَیِّدُنا عبدالوہَّاب شَعرانیقُدِّ سَ سرُّہُ النُّورانی’’طبقات ‘‘ میں سَیِّدی ابُوالمَواہِب شاذلی علیہ رَحمۃ  اللّٰہِ الْوَلیکا قول بیان فرماتے ہیں  :  ’’میں  نے ایک رات سیِّدُالعالَمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کوخَواب میں دیکھا تو عرض کی : ’’یارسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اللّٰہعَزَّوَجَلَّ اس شخص پر دس رَحمتیں نازل فرماتا ہے جو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر ایک مرتبہ دُرُود بھیجے ۔ کیا یہ بشارت اس کے لئے ہے جوحُضُورِ قلب سے دُرُود شریف پڑھے ؟‘‘ فرمایا : ’’ نہیں ! یہ فضیلت تو ہر اس شخص کے لئے ہے جو مجھ پر دُرُود بھیجے اگرچہ غَفْلَت سے ہی کیوں نہ پڑھے اور اللّٰہعَزَّوَجَلَّ اسے بھی ایسے فِرِشتے عطا فرماتا ہے جو اس کے لئے دُعاواِسْتِغْفار کرتے ہیں ۔ ہاں جو صِدقِ دل کیساتھ پوری توَجُّہ سے  دُرُود پڑھے تو اس کا ثواب اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے سِواکوئی نہیں جانتا ۔ ‘‘(سعادۃ الدارین، ص۶۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            اے ہمارے پیارے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! ہمیں سلام ومصافحہ کے آداب کوپیشِ نظررکھتے ہوئے ملاقات کرنے ، سلام کو عام کرنے اور اپنے پیارے حبیب  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر کثرت سے دُرُودِپاک پڑھنے کی توفیق عطا فرما اور روزِ قیامت اپنے محبوب کے دامن میں جگہ عطا فرما ۔  اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  

٭٭٭٭

بیان نمبر : 25

گھروں کو قَبْرِسْتان مت بناؤ

            حضرتِ سَیِّدُناابُوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمِیْن، شفِیْعُ الْمُذْنِبِیْنصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ دلنشین ہے  :  ’’لَا تَجْعَلُوا بُیُوْتَکُمْ قُبُورًا وَلَا تَجْعَلُوا قَبْرِی عِیْدًا، اپنے گھروں کو قَبرستان مت بناؤ اور نہ ہی میری قَبر کو عید بناؤ ‘‘ ’’وَصَلُّوا عَلَیَّ فَاِنَّ صَلَا تَکُم تَبْلُغُنِی حَیْثُ کُنْتُمْْ‘‘ اور مجھ پر دُرُود ِپاک پڑھاکرو، بے شک تمہارا دُرُود مجھ تک پہنچتا ہے چاہے تم جہاں بھی ہو ۔ ‘‘

(ابو داؤد، کتاب المناسک ، باب زیاۃ القبور، ۲  /  ۳۱۵ ، حدیث :  ۲۰۴۲)

            مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضرتِ مُفْتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحنّان ’’مراٰۃُ المناجیح ‘‘میں  اس حدیث پاک کے تَحت فرماتے ہیں  : ’’اپنے گھروں کو قبرستان کی طرح اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے ذِکر سے خالی مت رکھوبلکہ فَرائض مسجد وں میں اَدا کرو اورنَوافل گھر میں ۔ اور جیسے عیدگاہ میں سال میں صرف دوبار جاتے ہیں ایسے میری مَزار پر نہ آؤ بلکہ اکثر حاضِری دیا کرویا جیسے عید کے دن کھیل کود کے لیے میلوں میں جاتے ہیں ایسے تم ہمارے رَوضہ پر بے اَدَبی سے نہ آیا کرو بلکہ بااَدَب رہا کرو ۔ ‘‘

            مزیدفرماتے ہیں  : ’’ کہ اَرواحِ قُدسیہ بدن سے نکل کر مَلائکہ کی طرح ہوجاتی ہیں کہ وہ سارے عالَم کو کفِّ دَسْت کی طرح دیکھتی ہیں اوران کے لیے کوئی شے حجاب نہیں رہتی ۔ لہٰذا اس



Total Pages: 141

Go To