Book Name:Guldasta e Durood o Salam

سے گُزرگیا ۔  ایک شَخص پُلْ صِراط پر گِھسَٹ گِھسَٹ کر چل رہاتھا کہ اُسکا مجھ پر دُرُودِپاک پڑھنا آگیا اور( اس نیکی نے ) اُسکو کھڑاکرکے پُلْ صِراط پار کروا دیا  ۔ میری اُمّت کاایک شخص جنّت کے دروازوں کے پاس پہنچا تو وہ سب اِس پربند تھے کہ اسکا لآالٰہَ اِلَّااللّٰہُکی گواہی دینا آیا اور اُسکے لئے جنّتی دروازے کُھل گئے اور وہ جنّت میں داخِل ہوگیا ۔    (القول البدیع، الباب الثانی فی ثواب الصلاۃ والسلام علی رسول اللّٰہ، ص۲۶۵)

 

چُغُل خوری اور تُہْمَت کا وبال

          اسی طرح بَسااَوقات ہماری نظرمیں بظاہرچھوٹاسا گُنا ہ جسے ہم مَعمولی سمجھ رہے ہوتے ہیں وُہی ہماری بربادیٔ آخرت کا سبب بھی بن سکتاہے جیسا کہ بیان کردہ روایت کے آخر میں حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ بھی ارشاد فرمایا : ’’ میں نے کچھ ایسے  لوگوں کو بھی دیکھا کہ جن کے ہونٹ کاٹے جارہے تھے ، میں نے جبرئیل عَلَیْہِ السَّلام سے دَریافت کیا ، اے جبریل !یہ کون ہیں ؟‘‘ تو اُنھوں نے بتایا  : ’’اَلْمَشَّائُ وْنَ بَیْنَ النَّاسِ بِالنَّمِیْمَۃِ، یہ لوگوں کی چُغُل خَوری کرنے والے ہیں  ۔ ‘‘ اور کچھ لوگوں کو زَبانوں سے لٹکے ہوئے دیکھا ۔ میں نے جبرئیل عَلَیْہِ السَّلام سے اُن کے بارے میں پُوچھا تَو اُنہوں نے بتایا  : ’’ھٰؤُلَائِ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَیْرِمَااکْتَسَبُوْا، یہ لوگوں پر بِلاوَجہ اِلزامِ گُناہ لگا یا کرتے تھے ۔ ‘‘(شرح الصدور، باب ماینجی من عذاب القبر، ص۱۸۳)

گر تُو ناراض ہوا میری ہَلاکت ہوگی                                 ہائے ! میں نارِجہنّم میں جلوں گا یارَبّ!

عَفْوْ کراور سدا کے لئے راضی ہوجا                                 گَرکرم کردے تو جنّت میں رہوں گا یارَبّ! (وسائلِ بخشش، ص۹۱)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آپ نے مُلاحَظہ فرمایا ، اِطاعتِ والِدَین ، وُضُو، نَما ز ، روزہ ، ذِکْرُاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ، حج وعُمرہ، صِلۂ رِحمی ، اَمْرٌبِا لْمَعْرُوْفِ وَنَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَرِ، صَدَقہ ، حُسنِ اَخلاق، سَخاوت ، خَوف ِخداعَزَّوَجَلَّمیں رونا، حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُودِ پاک پڑھنا نیز اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ حُسنِ ظَن وغیرہ وغیرہ نیکیوں کے سَبَب اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے مُعَذَّبِین(یعنی جو لوگ عذاب میں مُبتَلا تھے اُن) پر کرم فرمادیا اور اُنہیں عِتاب و عَذاب سے رِہائی مِل گئی ۔ بَہَرحال یہ اُس کے فَضْل وکرم کے مُعامَلات ہیں ۔ وہ مالِک ومُختار عَزَّوَجَلَّہے ۔ جِسے چاہے بَخش دے ، جسے چاہے عذاب کرے ، یہ سب اُس کا عَدْل ہی عَدْل ہے ۔ جہاں وہ کسی ایک نیکی سے خُوش ہو کر اپنی رَحمت سے بَخش دیتا ہے وَہیں کسی ایک گُناہ پر جب وہ ناراض ہوجاتا ہے تو اُس کا قَہر وغضب جوش پر آجاتا ہے اور پھر اُس کی گرِفت نِہایت ہی سَخت ہوتی ہے ۔ جیسا کہ ابھی گزَشتہ طویل حدیث کے آخِر میں چُغُل خَوروں اور دوسروں پر گناہ کی تُہمت باندھنے والوں کا اَنجام بھی ہمارے پیارے پیارے آقاصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے مُلاحَظہ فرماکر ہمیں بتا کر مُتَنَبِِّہ(یعنی خبردار ) کیالہٰذا عقل مندوُہی ہے کہ بظاہِر کوئی چھوٹی سی بھی نیکی ہو اُسے تَرک نہ کرے کہ ہوسکتا ہے یِہی نیکی نَجات کا ذَرِیعہ بن جائے اور بظاہِر گُناہ کتنا ہی معمولی نظر آتا ہو ہر گز ہر گز نہ کرے ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          اے ہمارے پیارے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ! ہمارے حالِ زار پر رَحم فرما، ہمیں  جھوٹ ، غیبت ، چُغلی ، بُہتان طَرازی جیسے گُناہوں سے محفوظ فرماکر زِیادہ سے زِیادہ نیکیاں کرنے اورحُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر کثرت سے دُرُودِپاک پڑھنے کی تو فیق عطافرما اور اپنے کرم سے ہماری بے حساب بَخشِش و مَغْفِرت فرما ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

٭٭٭٭

بیان نمبر : 24

جُداہونے سے پہلے پہلے بَخْشِش

          حضرتِ سَیِّدُنا انس رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہسے روایت ہے سرکارِنامدار، مَدینے کے تاجدار ، دوعالَم کے مالِک ومُختارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ مَغْفِرت نشان ہے  : مَا مِنْ عَبْدَیْنِ مُتَحَابَّیْنِ فِی اللّٰہ یَسْتَقْبِلُ أحَدُہُمَا صَاحِبَہٗ، جب اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کیلئے آپس میں مَحَبَّت کرنے والے دو دوست مُلاقات کرتے ہیں ’’فَیَتَصَافَحَانِ وَ یُصَلِّیَانِ عَلَی النَّبِیِّصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ، اور وہ مُصافَحہ کرتے ہیں اور سرکار مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُودِ پاک پڑھتے ہیں ‘‘’’إلَّالَمْ یَتَفَرَّقَا حَتّٰی تُغْفَرَ ذُنُوْبُہُمَا مَا تَقَدَّمَ وَ مَا تَأَخَّرَ، تو اُن دونوں کے جُدا ہونے سے پہلے پہلے دونوں کے اگلے پچھلے گُناہ بَخش دیئے جاتے ہیں ۔ ‘‘ (شعب الایمان، فصل فی المصافحۃ والمعانقۃ و غیرہماالخ، ۶ /  ۴۷۱، حدیث  : ۸۹۴۴ )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            ہمیں بھی اپنی یہ عادت بنالینی چاہیے کہ ہم جب بھی کسی سے مُلاقات کریں تو سَلام کی سُنَّتیں اور آداب کا خیال رکھتے ہوئے مُصافَحہ کیا کریں اور اپنے پیارے پیارے آقا، مکّی مَدَنی مصطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  پر دُرُودِپاک بھی پڑھ لیا کریں کہ سلام کرنے سے آپس میں مَحَبَّت بڑھتی ہے  اوردُرُودِپاک پڑھنے سے ہمارے دل میں حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی مَحَبَّت پیدا ہوتی ہے اور یہ ہمارے گُناہوں کی بَخشِش کا ذَرَیعہ بھی ہے ۔

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !بیان کردہ حدیثِ مُبارک میں سَلام ومُصافَحہ کا ذِکر ہے اور یہ ہمارے پیارے آقاصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بہت ہی پیاریسُنَّت بھی ہے لہٰذا ہمیں بھی اپنی یہ عادت بنالینی چاہیے کہ ہم جب بھی کسی سے مُلاقات کریں تو سلام کی سُنَّتوں اور آداب کا خیال رکھتے ہوئے سلام و مُصافَحہ کیا کریں اورحُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  پر دُرُودِپاک بھی پڑھ لیا کریں ۔

          اللّٰہعَزَّوَجَلَّنے ہمیں قرآنِ پاک میں ایک دوسرے کو سلام کرنے کی ترغیب دلائی ہے چُنانچہ ارشادِباری تعالیٰ ہے  :  

 



Total Pages: 141

Go To