Book Name:Guldasta e Durood o Salam

          مَروی ہے کہ ایک مرتبہ جبریلعَلَیْہِ السَّلامحاضرِ خِدْمت ہوئے اور عرض کی :  یارسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اللّٰہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے  :  ’’مَنْ صَلَّی عَلَیْکَ عَشَرَ مَرَّاتٍ اِسْتَوْجَبَ الْاَمَانُ مِنْ سَخَطِیْ، جو شخص آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر دس مرتبہ دُرُود بھیجے گا اس کے لئے میرے غَضب سے اَمان واجب ہوگئی  ۔ ‘‘ (سعادۃ الدارین، الباب الثانی فیماورد فی فضل الصلاۃ الخ، حرف القاف، ص۹۰)

مُخْلِص کا عملِ قَلیل بھی کافی ہے

          مگر یادرہے کہ ہمارا ہر عمل اِخلاص پر مبنی ہونا چاہیے کہ بے شک اِخلاص کے ساتھ کیا جانے والا بظاہر چھوٹا عمل بھی بَہُت بڑا دَرَجہ رکھتا ہے ۔ چُنانچِہ سیِّدُالمُرسَلین، رَحْمَۃٌلِّلْعٰلَمِین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ ذِیشان ہے  :  ’’اَخْلِصْ دِیْنَکَ یَکْفِیْکَ الْقَلِیْلُ مِنَ الْعَمَلِ ، تم اپنے دین میں مُخلِص ہو جاؤ تمہاراتھوڑا عمل بھی کافی ہو گا ۔ ‘‘ (شعب الایمان، باب فی إخلاص العمل للّٰہ، ۵ / ۳۴۲، حدیث : ۶۸۵۹)

گھڑی بھر کا اِخلاص باعثِ نَجات

          حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سَیِّدُناامام محمد غزالی  عَلیہ رَحمۃُ اللّٰہِ الْوَالیایک بُزُرگ سے نَقْل کرتے ہیں  :  ’’ایک ساعت کا اِخلاص ہمیشہ کی نَجات کا باعِث ہے مگر اِخلاص بَہُت کم پایا جاتا ہے  ۔ ‘‘  (احیاء علوم الدین ، کتاب النیۃ والاخلاص والصدق، الباب الثانی فی الاخلاص وفضیلتہالخ، ۵ / ۱۰۶)

حضرت ِسیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکے حواریوں نے آپعَلَیْہِ السَّلام کی خِدْمَت میں عرض کی  :  ’’کس کا عمل خالِص ہوتا ہے ؟ ‘‘ فرمایا :  ’’اُسی شخص کا عمل اِخلاص پر مَبنی مانا جائیگا جو صِرْف اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی رِضا کیلئے عمل کرے اور اِس بات کو نا پسند کرے کہ لوگ اِس عمل کے سبب اس کی تعریف کریں  ۔ ‘‘ (احیاء علوم الدین ، کتاب النیۃ والاخلاص والصدق، الباب الثانی فی الاخلاص وفضیلتہالخ، ۵ / ۱۱۰)

ترے خوف سے تیرے ڈَرسے ہمیشہ                                            میں تَھر تَھر رہوں کانپتا یاالٰہی!

مرا ہر عمل بس ترے واسطے ہو                                            کر اِخلاص ایسا عطا یاالٰہی!(وسائلِ بخشش، ص۷۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

لَمحہ بھر میں مَغْفِرت

حضرت سَیِّدُناانس بن مالک رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ مَدینے کے سلطان، رَحمتِ عالمیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ  مَغْفِرت نشان ہے  :  ’’جس نے یہ دُرُود شریف پڑھا اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍوَّعَلٰی اٰلِہٖ وَسَلِّمْاگر کھڑا تھاتو بیٹھنے سے پہلے اوربیٹھا تھا تو کھڑے ہونے پہلے اس کی  مَغْفِرت کردی جاتی ہے  ۔ ‘‘ (سعادۃالدارین، الباب الثامن فی کیفیات الصلاۃ الخ، الصلاۃ السادسۃ، ص۲۴۴)

 

رَحْمتِ حَق’’ بہانہ‘‘می جُویَد

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جب اللّٰہعَزَّوَجَلَّ رَحمت کرنے پر آتا ہے تو یوں بھی سبب بنا تا ہے کہ کسی ایک عمل کواپنی بارگاہ میں شَرَف ِ قَبولیَّت عطا فرمادیتا ہے اور پھر اسی کے باعِث اُس پررَحمتوں کی بارِش کردیتا ہے ۔ اس ضِمن میں ایک اورحدیثِ مُبارَک پیش کی جاتی ہے جس میں مُتَعَدَّد ایسے لوگوں کا بیان کیا گیا ہے کہ وہ کسی نہ کسی نیکی کے سبب اللّٰہعَزَّوَجَلَّکی گرِفت سے بچ گئے اور رَحمتِ خُداوَندی عَزَّوَجَلَّ نے انہیں اپنی آغوش میں لے لیا ۔ چُنانچِہ حضرت سَیِّدُنا عبدالرَّحمن بِن سَمُرہ رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ ایک بار حُضُورِ اکرم، نُورِمُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے پا س تشریف لائے اور ارشاد فرمایا :  ’’آج رات میں نے ایک عجیب خَواب دیکھا کہ ایک شخص کی رُوح قَبض کرنے کیلئے مَلکُ الموتعَلَیْہِ السَّلام تشریف لائے لیکن اُس کاماں باپ کی اِطاعت کرناسامنے آگیا اور وہ بچ گیا ۔  ایک شخص پر عذابِ قَبْرچھاگیا لیکن اُس کے وُضو(کی نیکی)نے اُسے بچالیا ۔ ایک شخص کوشَیاطین نے گھیر لیا لیکن ذِکرُاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ(کرنے کی نیکی نے )  اُسے بچا لیا ۔  ایک شخص کو عذاب کے فرِشتوں نے گھیر لیا لیکن اُسے (اُس کی)نَماز نے بچالیا ۔ ایک شخص کو دیکھا کہ پیاس کی شِدّت سے زَبان نکالے ہوئے تھا اور ایک حَوض پر پانی پینے جاتا تھا مگر لوٹادیا جاتا تھا کہ اتنے میں اُس کے روزے آگئے اور (اِس نیکی نے )اُس کو سَیراب کردیا ۔  ایک شخص کو دیکھا کہ جہاں اَنبِیائے کرام عَلَیْھِمُ السَّلام حَلقے بنائے ہوئے تشریف فرما تھے ، وہاں ان کے پاس جانا چاہتا تھا لیکن دُھتکار دیا جاتا تھا کہ اتنے میں اُس کاغُسلِ جَنابت آیا اور(اُس نیکی نے )اُس کو میرے پاس بٹھادیا ۔  ایک شخص کو دیکھا کہ اُس کے آگے پیچھے ، دائیں بائیں ، اوپر نیچے اَندھیرا ہی اَندھیرا ہے اور وہ اس اَندھیرے میں حیران وپریشان ہے تو اُس کے حجّ وعُمرہ آگئے اور (ان نیکیوں نے )اُس کو اَندھیرے سے نکال کر روشنی میں پہنچا دیا ۔  ایک شخص کو دیکھا کہ وہ مُسلمانوں سے گُفْتگُو کرنا چاہتا ہے لیکن کوئی اُس کو مُنہ نہیں لگاتا توصِلۂ رِحمی (یعنی رشتہ داروں سے حُسنِ سلوک کرنے کی نیکی)نے مؤمنین سے کہا کہ تم اِس سے بات چیت کرو ۔  تو مسلمانوں نے اُس سے بات کرنا شروع کی ۔  ایک شَخص کے جِسْم اور چِہرے کی طرف آگ بڑھ رہی ہے اور وہ اپنے ہاتھ سے بچا رہا ہے تواُس کاصَدَقہ آگیا اور اُس کے آگے ڈھال بن گیااور اُسکے سر پر سایہ فِگن ہوگیا ۔  ایک شَخص کو زَبانِیہ (یعنی عذاب کے مَخصوص فِرِشتوں )نے چاروں طرف سے گھیر لیا لیکن اُس کا  اَمْرٌبِا لْمَعْرُوفِ وَنَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَرآیا (یعنی نیکی کا حُکم کرنے اور بُرائی سے مَنْع کرنے کی نیکی آئی) اور اُ س نے اُسے بچالیا اور رَحمت کے فِرِشتوں کے حوالے کردیا ۔ ایک شَخص کو دیکھا جو گُھٹنوں کے بَل بیٹھا ہے  لیکن اُس کے اوراللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے درمیان حِجاب(ـیعنی پَردہ)ہے مگر اُس کا حُسنِ اَخْلاق آیااِس (نیکی) نے اُس کو بچالیا اوراللّٰہعَزَّوَجَلَّسے مِلادیا ۔  ایک شَخص کواُس کا اَعمال نامہ اُلٹے ہاتھ میں دیا جانے لگا تو اُسکا خوفِ خُدا عَزَّوَجَلَّ آگیا اور(اِس عظیم نیکی کی بَرَکت سے ) اُس کا نامۂ اَعمال سیدھے ہاتھ میں دے دیا گیا ۔  ایک شخص کی نیکیوں کا وَزْن ہلکا رہا مگر اُس کی سَخاوت آگئی اور نیکیوں کا وَزن بڑھ گیا ۔  ایک شَخص جہنَّم کے کَنارے پر کھڑا تھامگر اُس کا خوفِ خُدا عَزَّوَجَلَّآگیا اور وہ بچ گیا ۔  ایک شخص جہنَّم میں گر گیا لیکن اُس کے خوفِ خُدا عَزَّوَجَلَّ میں بہائے ہوئے آنسوآگئے اور (اِن آنسوؤں کی بَرَکت سے )وہ بچ گیا ۔  

ایک شَخص پُلْ صِراط پر کھڑا تھا اور ٹہنی کی طرح لرزرہا تھا لیکن اُس کا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ حُسنِ ظَن (یعنیاللّٰہعَزَّوَجَلَّسے اچھا گُمان کہ وہ رَحمت ہی کرے گا ) آیا اور (اِس نیکی نے )  اُسے بچالیا اور وہ پُلْ صِراط



Total Pages: 141

Go To