Book Name:Guldasta e Durood o Salam

{1}کَسْبِ حَلال

محنت ومشقت کرکے اپنے ہاتھ سے جو رِزق کمایاجائے اسے کسبِ حلال کہا جاتاہے ۔ حلال روزی میں بڑی برکت ہوتی ہے اورحدیثِ پاک کی رُوسے پتاچلتاہے کہ اس سے بہترکوئی کمائی نہیں ۔ چنانچہ

سب سے بہتر اور پاکیزہ کھانا

حضرتِ سَیِّدُنامِقْدام بِن مَعْدِیکرب رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہسے مَروی ہے کہ راحتِ قلبِ ناشاد، محبوبِ ربُّ الْعِبادصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ارشادِ حقیقت بُنیاد ہے  :  ’’مَااَکَلَ اَحَدٌ طَعَامًا قَطُّ خَیْراً مِّنْ اَنْ یَاْکُلَ مِن عَمَلِ یَدِہِ سب سے بہتر وہ کھانا ہے جو انسان اپنے ہاتھ سے کماکر کھائے ، وَاَنَّ نَبِیَ اﷲِدَاؤدَ کَانَ یَاکُلُ مِنْ عَمَلِ یَدِہِ، اور بے شک اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے نبی داودعَلَیْہ الصَّلٰوۃُ والسَّلاماپنی دَسْتکاری (ہاتھ کی کمائی) سے کھاتے تھے  ۔ ‘‘ (بخاری، کتاب البیوع ، باب کسب الرجل الخ ، ۲  / ۱۱، حدیث  : ۲۰۷۲)

اُم المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُناعائشہ صدِّیقہ رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہا سے روایت ہے کہ حُضُورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا  : ’’اِنَّ اَطْیَبَ مَا اَکَلْتُمْ مِنْ کَسْبِکُمْ، تُمہارے کھانوں میں پاکیزہ کھانا وہ ہے جوتُمہاری محنت کی کمائی کا ہو ۔ (ترمذی، کتاب الاحکام ، باب ماجاء ان الوالد یاخذ من مال ولدہ، ۳ / ۷۶، حدیث :  ۱۳۶۳ )

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جائز ذَرائعِ آمدَنی اِختیار کرتے ہوئے اپنے اَہل وعَیال کے لئے بَقدرِ ضَرورت مال کمانے میں کوئی قَباحت نہیں مگر یہ خیال رکھنا بے حَد ضَروری ہے کہ ہماری لاپرواہی کی وَجہ سے ہماری حَلال روزی میں حَرام کی آمیزِش ہرگز ہرگز نہ ہونے پائے وَرنہ بڑی حَسرت ہوگی ۔ یاد رکھئے ! بندہ اپنے حصّے کی روزی کھاکر ، زِندَگی گزار کر لوگوں کے کاندھوں پر جنازے کے پنجرے میں سُوار ہوکر جب جانبِ قبرستان سِدھارتا ہے تو دُنیا میں اپنے اَہل و عَیال کیمَحَبَّت میں اَندھاہوکر ان کی خاطِر جائز و ناجائز کی پَروا کئے بِغیر کمائے ہوئے مال پر مَلال کرتے ہوئے لوگوں کوجونصیحت کرتا ہے اسے بیان کرتے ہوئے سر ورِ کائنا ت، شاہِ موجوداتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ارشاد فرماتے ہیں  :  ’’جب مُردے کوتَخت پر رکھ کر اُٹھایا جاتا ہے تو اُس کی رُوح پَھڑپَھڑا کرتَخت پر بیٹھ کرنِداکرتی ہے کہ اے میرے اَہل وعَیال ! دُنیا تُمہارے ساتھ اِس طرح نہ کھیلے جیساکہ اس نے میرے ساتھ کھیلا، میں نے حَلال اور غیرِ حَلال مال جَمْع کیا اور پھر وہ مال دوسروں کے لئے چھوڑ آیا  ۔ اس کا نَفْع اُن کیلئے ہے اور اس کا نُقْصان میرے لئے ، پس جو کچھ مجھ پر گُزری ہے اس سے ڈرو ۔  ‘‘(یعنی عبرت حاصل کرو ۔ ) (التذکرۃ قُرطبی، ص۷۶)

لُقمۂ حَرام کا وَبال

مَنْقُوْل ہے کہ جب انسان کے پیٹ میں حرام کا لُقْمہ پڑتا ہے تو زَمین و آسمان کا ہرفِرِشتہ اُس پر اُس وَقت تک لَعْنت کرتا ہے جب تک کہ وہ حَرام لُقْمہ اُس کے پیٹ میں رہے اور اگر اسی حالت میں مر گیا تو اس کا ٹھکانا جہنَّم ہو گا ۔ (مکاشفۃ القلوب، ص ۱۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

{2}صَدَقَہ

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حدیث شریف میں صَدَقہ کاتَذکرہ بھی ہے جیسا کہ خَلْق کے رَہبر، شافعِ محشر، محبوبِ داوَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے  : ’’ جس نے حَلال مال کمایا اورمَخلُوقِ خُدا میں سے کسی کو کھلایا یا پہنایاتو وہ اس کے لئے زکوٰۃ ہے  ۔ ‘‘

قُرآنِ پاک اوراحادیثِ کریمہ میں جا بَجا صَدقے کی ترغیب کے ساتھ ساتھ اس کے فَضائل بھی بیان کیے گئے ہیں  ۔ چُنانچہاللّٰہعَزَّوَجَلَّ قُرآنِ پاک میں اِرشادفرماتاہے  :  

وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا(۸) (پ۲۹، الدہر : ۸)

ترجمہ کنز الایمان  : اور کھانا کھلاتے ہیں اس کیمَحَبَّتپرمِسکین اور یتیم اور اَسیر کو ۔

حضرتِ صدر الْافاضِل مولانا سیِّدمحمد نعیمُ الدِّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِیخَزائنُ العرفانمیں اس آیتِ کریمہ کا شانِ نُزُول بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں  : ’’یہ آیت حضرت علیِ مرتضٰی رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہاور حضرت فاطمہ رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہا اور ان کی کنیزفِضَّہ کے حق میں نازِل ہوئی ، حَسنینِ کریمینرَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہمابیمار ہوئے ، ان حضرات نے ان کی صِحَّت پر تین روزوں کی نَذر مانی، اللّٰہعَزَّوَجَلَّنے صِحَّت دی ، نَذر کی وَفا کا وقت آیا ، سب صاحبوں نے روزے رکھے ، حضرت علیِ مرتضٰیرَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ ایک یہودی سے  تین صاع (صاع ایک پیمانہ ہے ) جَو لائے ، حضرتِ خاتُونِ جنّت رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہانے ایک ایک صاع تینوں دن پکایا لیکن جب اِفطار کا وقت آیا اور روٹیاں سامنے رکھیں تو ایک روز مسکین ، ایک روز یتیم ، ایک روز اَسیر آیا اور تینوں روز یہ سب روٹیاں ان لوگوں کو دے دی گئیں اور صرف پانی سے اِفطار کرکے اَگلا روزہ رکھ لیا گیا ۔  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کو ان حضرات کی یہ اَدا اس قَدر پسند آئی کہ اس نے انہیں جنَّت کا حَقْدار قَرار دیتے ہوئے ان کی بابت ارشاد فرمایا :  

وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ(۱۲) (پ۲۹، الدہر : ۱۲)

ترجمہ کنز الایمان : اور ان کے صبر پر انہیں  جنّت اور ریشمی کپڑے صلہ میں دئیے  ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!صَدَقہ وخَیرات ڈھیروں بَرَکات کے ساتھ ساتھ آفات وبَلیَّات سے نَجات حاصل کرنے کا بھی بہترین ذَرِیعَہ ہے ۔

صَدَقے سے اَمراض دُور کرو

حضرت سیِّدُنا عبدُاللّٰہ بن عُمررَضِیَ اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہماسے مروی سے کہ شہنشاہِ خُوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ رَحمت نشان ہے  :    ’’تَصَدَّقُوْا وَ دَاوَوْا مَرَضَاکُمْ بِالصَّدَقَۃِ ، صَدَقہ دو اور صَدقے کے ذَرِیعے اپنے مریضوں کامُداوا کیاکروفَاِنَّ الصَّدَقَۃَ تَدْفَعُ عَنِ الْاَعْرَاضِ وَ الْاَمْرَاضِ، بے شک صَدَقہ حادثوں اور بیماریوں کی روک تھام کرتا ہے وَہِیَ زِیَادَۃٌ فِیْ أَعْمَالِکُمْ وَحَسَنَاتِکُم اور یہ تُمہارے اَعمال اور



Total Pages: 141

Go To