Book Name:Guldasta e Durood o Salam

وغیرہ وغیرہ ۔  جب یہ دُعائیں مالکِ مکان سنتا ہے تو سمجھ جاتا ہے کہ یہ بڑ امُہَذَّب سُوالی ہے ، بھِیک مانگنا چاہتا ہے مگر ہمارے بچوں کی خیر مانگ رہا ہے ، خُوش ہو کر کچھ نہ کچھ جھولی میں ڈال دیتا ہے ۔ یہاں حُکم دیا گیا : اے اِیمان والو! جب تُم ہمارے یہاں کچھ مانگنے آؤ تو ہم تو اَولاد سے پاک ہیں ، مگر ہمارا ایک پیارا حبیب ہے ، محمد مصطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماُس حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی، اُس کے اَہلِ بیت (عَلَیْھِمُ الرِّضْوان)کی اور اُس کے اَصحاب کی خیر مانگتے ہوئے ، اُن کو دُعائیں دیتے ہوئے آؤ تو جن رَحمتوں کی اُن پر بارِش ہورہی ہے اُس کا تُم پر بھی چھینٹا ڈال دیا جائے گا  ۔ (شان حبیب الرحمن، ص۱۸۴ملخصاً)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ان چھینٹوں میں سے ایک چھینٹایہ ہے کہ رِوایت میں آتا ہے  :  ’’مَنْ صَلَّی عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاحِدَۃً صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَمَلَائِکَتُہُ سَبْعِیْنَ صَلَاۃً، یعنی جس نے نبیِّکریم ، رَء ُوْفٌ رَّحیم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِوَ التَّسْلِیم  پر ایک بار دُرُود ِ پاک پڑھا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّاور اس کے فِرِشتے اس پرستَّر رَحمتیں نازِل فرماتے ہیں ۔ ‘‘(مسند احمد ، مسند عبداللّٰہ بن عَمْرو بن العاص، ۲ /  ۶۱۴ ، حدیث : ۶۷۶۶)

            دُرُود شریف پڑھنا دَرْاَصل اپنے پَرْوَرْدَگار عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ سے مانگنے کی ایک اَعلیٰ ترکیب ہے  ۔

            میرے آقا اعلیٰ حضرت، امامِ اَہلِ سُنَّت ، مُجدِّدِدین ومِلَّت، اِمام احمد رضا خان  عَلَیْہ رَحْمۃُ الرَّحمٰن اپنے مشہورِ زمانہ نعتیہ دِیوان ’’حدائقِ بخشش شریف‘‘ میں بارگاہِ رِسالت میں عرض کرتے ہیں  :

وہی رَبّ ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا

ہمیں  بھیک  مانگنے  کو  ترا  آستاں بتایا(حدائقِ بخشش، ص ۳۶۳)

          مُفَسّرِ شہیر حکیمُ الْاُمَّت حضرتِ مُفْتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمۃُ الحنَّان   مزید اِرشاد فرماتے ہیں  :  ’’اِس آیتِ مُقدَّسہ میں مُسلمانوں کوخبردار فرمادیا گیا کہ اے دُرُود و سلام پڑھنے والو! ہر گز ہر گز یہ گُمان بھی نہ کرنا کہ ہمارے محبوب  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر ہماری رَحمتیں تُمہارے مانگنے پر مَوقُوف ہیں اور ہمارے محبوب  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتُمہارے دُرُود و سلام کے مُحتاج ہیں ۔ تم دُرُود پڑھو یا نہ پڑھو، اِن پر ہماری رَحمتیں برابر برستی ہی رہتی ہیں  ۔ تُمہاری پیدائش اور تُمہارا دُرُود و سلام پڑھنا تو اب ہوا ۔  پیارے حبیب  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر رَحمتوں کی برسات تو جب سے ہے جب کہ ’’جب‘‘ اور ’’کب‘‘ بھی نہ بنا تھا ۔  ’’جہاں ‘‘ ’’وہاں ‘‘ ’’کہاں ‘‘ سے بھی پہلے اِن پر رَحمتیں ہی رَحمتیں ہیں ۔ تم سے دُرُود و سلام پڑھوانا یعنی پیارے محبوب  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لیے دُعائے رَحمت منگوانا تُمہارے اپنے ہی فائدے کے لیے ہے تم دُرُود و سلام پڑھو گے تو اِس میں تُمہیں کثیر اَجر و ثواب ملے گا ۔  ‘‘    (شان حبیب الرحمن، ص۱۸۴ملخصاً )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!شیخِ طریقت ، اَمیرِ اَہلسُنَّتدَامَتْ بَرَکاتُھُمُ الْعالِیہ ارشاد فرماتے ہیں  : ’’ کسی گُناہ سے جان چُھڑانی ہو تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ اس گُناہ کے بارے میں قُرآن و حدیث میں جو مَذَمَّت وارِد ہوئی نیز اسکے کرنے پر جو عذابات بیان ہوئے ، ان کا مُطالَعہ کریں ۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ غیرمَحسُوس طریقے پر اس گُناہ کا علاج شُروع ہوجائے گا ۔ نیز کسی نیک عمل کی عادت بنانی ہو تواسکے فَضائِل اور ثواب پر توجُّہ کریں ، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ دل اس نیک عمل کی طرف مائل ہوگا ۔ ‘‘ آئیے ! دُرُودو سلام کی عادت بنانے کی نِیَّت سے اسکے کچھ فَضائل سُنتے ہیں ۔

اِنعامات کی بَرسات

            حضرت سیِّدُناشیخ عبدالحق مُحدِّثِ دہلوی عَلَیہ رَحْمۃُ اللّٰہِ الْقَوِی ’’جذبُ الْقُلوب ‘‘میں ارشادفرماتے ہیں  : ’’جب بندئہ مُومن ایک بار دُرُود شریف پڑھتا ہے تو اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ)اس پردس بار رَحمت بھیجتا ہے ، (دس گُناہ مٹاتا ہے ) دس دَرَجات بُلَند کرتا ہے ، دس نیکیاں عطا فرماتا ہے ، دس غلام آزاد کرنے کا ثواب (الترغیب والترھیب، کتاب الذکر والدعاء، الترغیب فی اکثارالصلاۃ علی النبی، ۲ /  ۳۲۲، حدیث :  ۲۵۷۴) اور بیس غَزَوات میں شُمولیت کا ثواب عطا فرماتا ہے ۔ (فردوس الاخبار، باب الحاء، ۱ / ۳۴۰ ، حدیث : ۲۴۸۴) دُرُودِپاک سببِ قُبولیتِ دُعا ہے ، (فردوس الاخبار، باب الصاد، ۲ / ۲۲، حدیث : ۳۵۵۴) اِس کے پڑھنے سے شَفاعتِ مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمواجب ہوجاتی ہے ۔ (معجم الاوسط، من اسمہ بکر، ۲ /  ۲۷۹ ، حدیث :  ۳۲۸۵) مصطفٰیصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کابابِ جنَّت پر قُرب نصیب ہوگا، دُرُودِپاک تمام پریشانیوں کو دُور کرنے کے لیے اور تمام حاجات کی تکمیل کے لیے کافی ہے ، (درمنثور، پ ۲۲، الاحزاب، تحت الآیۃ۵۶، ۶ /  ۶۵۴، ملخصًا) دُرُودِپاک گُناہوں کاکَفَّارہ ہے ، (جلاء الافہام، ص۲۳۴) صَدَقہ کا قائم مَقام بلکہ صَدَقہ سے بھی اَفضل ہے  ۔ ‘‘  (جذبُ القلوب، ص۲۲۹)

            حضرت سیِّدُناشیخ عبدالحق مُحدِّثِ دہلوی عَلَیہ رَحْمۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مزید فرماتے ہیں  :  ’’دُرُود شریف سے مصیبتیں ٹلتی ہیں ، بیماریوں سے شِفاء حاصل ہوتی ہے ، خوف دُور ہوتاہے ، ظُلم سے نَجات حاصل ہوتی ہے ، دُشمنوں پرفَتْح حاصل ہوتی ہے ، اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ)کی رِضا حاصل ہوتی ہے اور دل میں اُس کی مَحَبَّت پیدا ہوتی ہے ، فِرِشتے اُس کا ذِکر کرتے ہیں ، اَعمال کی تکمیل ہوتی ہے ، دل و جان، اسباب و مال کی پاکیزگی حاصل ہوتی ہے ، پڑھنے والاخُوشحال ہوجاتاہے ، بَرَکتیں حاصل ہوتی ہیں ، اَولاددَر اَولاد چار نسلوں تک بَرَکت رہتی ہے ۔ ‘‘(جذبُ القلوب، ص۲۲۹)

          دُرُود شریف پڑھنے سے قِیامت کی ہولناکیوں سے نَجات حاصل ہوتی ہے ، سَکَرَاتِموت میں آسانی ہوتی ہے ، دُنیا کی تَباہ کارِیوں سے خَلاصی (نَجات) ملتی ہے ، تنگدستی دُور ہوتی ہے ، بھولی ہوئی چیزیں یاد آجاتی ہیں ، مَلائکہ دُرُود پاک پڑھنے والے کو گھیر لیتے ہیں ، دُرُود شریف پڑھنے والا جب پُل صِراط سے گُزرے گا تو نُور پھیل جائے گااور وہ اُس میں ثابِت قدم ہو کر پَلک جھپکنے میں نَجات پا جائے گا ۔  عظیم تر سَعادت یہ ہے کہ دُرُود شریف پڑھنے والے کا نام حُضُور سراپا نُور، فیض گنجور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں پیش کیا جاتاہے ، تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی محبت بڑھتی ہے ، محَاسِنِ نبویہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دل میں گھر کر جاتے ہیں اور کثرتِ دُرُود شریف سے صاحبِ لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا تصوُّر ذِہن میں قائم ہوجاتا ہے اورخُوش نَصیبوں کو دَرَجہ قُربتِ مُصْطفوِی  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حاصل ہوجاتا ہے اورخَواب میں سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا دِیدار ِ فیضِ آثار نصیب ہوتا ہے ۔ روزِقیامت مَدَنی تاجدار  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مُصافَحہ کی سعادَت نصیب ہوگی



Total Pages: 141

Go To