Book Name:Guldasta e Durood o Salam

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللّٰہعَزَّوَجَلَّنے قُرآنِ مجیدمیں ہمیں اپنا ذِکر کرنے کا حکم ارشاد فرمایا اور ذِکر کو اپنی ایسی عِبادت بنایا جو ہر وَقت کی جا سکتی ہے  اس کے لئے کوئی خاص مَقام اور خاص وَقت مُقَرَّ ر نہیں فرمایا ہم جس وَقت چاہیں ، جہاں چاہیں ، اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کا ذِکر کرسکتے ہیں ایسے ہی اپنے پیارے  مَحبوب، دانائے غُیُوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپردُرُود پڑھنے کو بھی ایسی مُنفرِدعِبادت بنادیا جوکسی وَقت کے ساتھ خاص نہیں ، صُبح وشام ، دن رات ،  چلتے پھرتے ، اُٹھتے بیٹھتے ، دُعا سے پہلے اور دُعاکے بعد ، الغرض جب چاہیں جس جگہ چاہیں جن الفاظ کے ساتھ چاہیں دُرُودپاک پڑھ سکتے ہیں ۔ لہٰذاجس وَقت بھی ہم دُرُودشریف پڑھیں گے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کی بَرَکتوں سے مُسْتفِیض ہوں گے اوریہ دُرُودشریف ہمارے تمام رَنج و اَلم کودُور کرنے اور گُناہوں کی مُعافی کے لئے کافی ہوگا ۔ جیساکہ حضرت سَیِّدُنا اُبی بن کَعْب رَضیَ اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہنے بارگاہِ رسالت میں عرض کی  :  ’’اَجْعَلُ لَکَ صَلَاتِیْ کُلَّہَا، میں اپنا سارا وَقت آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود شریف پڑھتا رہوں گا ۔ ‘‘ توحضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا  :  ’’اِذاً تُکْفٰی ہَمَّکَ وَیُغْفَرُ لَکَ ذَنْبُک، تب یہ دُرُودشریف تیرے رَنج واَلم دُور کرنے کے لئے کافی ہے اور تیرے سارے گُناہ بَخش دیئے جائیں گے  ۔ ‘‘(ترمذی ، کتاب صفۃ القیامۃ ، باب ۔ ۲۳، ۴ /  ۲۰۷، حدیث :  ۲۴۶۵ )

اس سے معلو م ہوا کہ دُرُود شریف ہروَقت پڑھ سکتے ہیں اَلْبتَّہ بعض اَوقات ایسے ہیں جن میں بطورِخاص دُرُودشریف پڑھنااحادیثِ مُبارکہ میں مذکور ہے اورعُلمائے کرام نے بھی کچھ مواقع بیان فرمائے ہیں  ۔ ان میں سے ایک مَقام تَشَہُّدہے ، تَشَہُّدکے بعد اور دُعا سے قَبل دُرُود شریف پڑھنے کی آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ترغیب دی ہے جیسا کہ

حضرتِ سَیِّدُنا فَضَالَہ بن عُبید رَضیَ اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ بحرو بر کے بادشاہ ، دو عالم کے شَہَنشاہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک شخص کو نماز میں صرف دُعامانگتے ہوئے سنا ، نہ تو اس نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی عظمت وکبریائی بیا ن کی اور نہ ہی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر دُرُودشریف پڑھا ۔  حُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ اس نے جلدی کی پھر اسے بلایا اسے اور دوسروں کو اس بات کی تعلیم فرمائی کہ جب تم نَمازپڑھو تو اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی حمدوثنا سے شُروع کیا کرو پھرمجھ پردُرُود شریف پڑھا کرو پھر جو چاہو دُعا مانگو ۔  (ابوداود ، کتا ب الوتر ، باب الدعاء، ۲ / ۱۱۰، حدیث : ۱۴۸۱)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس روایت سے معلوم ہوا کہ تَشہُّد کے بعد اور دُعا سے قَبل دُرُود شریف پڑھنے کی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ترغیب دی ہے لہٰذہمیں بھی اس موقع پردُرُود شریف پڑھنا چاہیے اوراس کو ہرگز ہرگز ترک نہیں کرنا چاہیے ۔

امیرُالْمُؤمِنِینحضرتِ سیِّدُنا فارُوقِ اعظمرَضِی اﷲ تَعالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  : ’’ اِنَّ الدُّعَاء مَوْقُوفٌ بَیْنَ السَّمَاء وَالْاَرْضِ، دُعا زَمین و آسمان کے دَرمیان روک دی جاتی ہے ‘‘، ’’لَا یَصْعَدُ مِنْہُ شَیْء ٌحَتَّی تُصَلِّیَ عَلٰی نَبِیِّکَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وہ بُلَنْد نہیں ہوتی جب تک کہ تُم اپنے نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُودِ پاک نہ پڑھو ۔ ‘‘(ترمذی ، کتاب الوتر، باب ماجاء فی فضل الصلاۃ علی النبی، ۲ / ۲۸، حدیث : ۴۸۶)

          دُرَّۃُ النَّاصِحِیْنمیں ہے ایک بُزُرگ نماز پڑھ رہے تھے جب تَشہُّد میں بیٹھے تورسولِ اکرم، نُورِ مُجَسَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُودشریف پڑھنا بھول گئے رات جب آنکھ لگی تو خَواب میں سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زِیارت سے مُشرَّف ہوئے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’اے میرے اُمَّتِی! تونے مجھ پر دُرُودِ پاک کیوں نہیں پڑھا؟عرض کی :  یَارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !میں اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی حمدوثناء میں ایسا محو ہوا کہ دُرُودِ پاک پڑھنا یاد نہیں رہا ، یہ سُن کر سردارِ مکۂ مکرمہ ، سلطانِ مدینۂ منوّرہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’کیا تو نے میری یہ حدیث نہیں سنی کہ ساری نیکیاں ، عبادتیں اور دُعائیں روک دی جاتی ہیں جب تک مجھ پر دُرُودِپاک نہ پڑھا جائے  ۔ ‘‘سن لے ! اگر کوئی بندہ قِیامت کے دن دربارِالٰہی میں سارے جہان والوں کی نیکیاں لے کرحاضِر ہوجائے اور ان نیکیوں میں مجھ پر دُرُودِ پاک نہ ہوا توساری کی ساری نیکیاں اس کے مُنہ پر ماردی جائیں گی اور ایک بھی قَبول نہ ہو گی ۔

(درۃ الناصحین، المجلس الرابع فی فضیلۃشہر رمضان، ص۱۸)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بیان کردہ روایت و حکایت سے دُرُود شَریف کی اَہَمِّیَّت کا اندازہ ہوتا ہے کہ دُرُودشریف جہاں اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی رَحمتوں کے نُزُول کا سبب ہے وہیں عِبادتوں ، نیکیوں اور دُعاؤں کی قَبولیت کا سبب بھی ہے ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اسی طرح دُرُودشریف پڑھنے کا ایک مَقام دُعا کا اَوَّل وآخِر بھی ہے کہ جب بھی دُعا مانگیں تو اس کے آداب کا لحاظ رکھتے ہوئے ، اَوَّل و آخر دُرُودشریف پڑھتے ہوئے دُعا مانگیں اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کی بَرَکت سے ہماری دُعائیں اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں مَقبول ہوں گی کیونکہ دو دُرُودوں کے درمیان دُعا کبھی رَد نہیں ہوتی ۔ مگر یاد رکھئے !ہماری دُعا دَرَجۂ قَبولیت کو اسی صُورت میں پہنچے گی کہ جب ہم دُعا کے آداب کوملحوظِ خاطر رکھیں گے ، آج ہم دُعائیں تو مانگتے ہیں لیکن وہ قبول نہیں ہوتیں اس کی کیا وجہ ہے حالانکہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے قُرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا  :

اُدْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْؕ- (پ۲۴، المؤمن : ۶۰)

ترجمۂ کنزالایمان : مجھ سے دُعا کرو  میں قَبول کروں گا ۔

تین قِسم کے لوگوں  کی دُعا قَبول نہیں

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! شاید اس کی وَجہ یہ ہے کہ ہم لوگ دُعا کے آداب کا خیال نہیں رکھتے ، بے توَجُّہی کے ساتھ دُعامانگتے ہیں اور پھر دُعاکی قَبولِیَّت میں بہت جلدی مچاتے بلکہمَعَاذاللّٰہباتیں بناتے ہیں کہ ہم تو اتنے عَرصے سے دُعائیں مانگ رہے ہیں ، بُزُرگوں سے بھی دُعائیں کرواتے رہے ہیں ، کوئی پیر فقیر نہیں چھوڑا، یہ وَظائِف پڑھتے ہیں ، وہ اَوْراد بھی پڑھتے ہیں ، فُلاں فُلاں مَزار پر بھی گئے مگر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہماری حاجت پوری کرتا ہی نہیں ۔ حالانکہ بسا اَوقات قَبولِیَّتِ دُعاء کی تاخِیر میں کافی مصلحتیں بھی ہوتی ہیں جو ہماری سمجھ میں نہیں آتیں لہٰذا دعامیں جلدی نہیں مچانی چاہئے کہ یہ دُعاکے آداب کے خِلاف ہے ۔ جیسا کہ رئیسُ الْمُتَکَلِّمِین حضرتِ علامہ مولانا نَقی علی خانعَلَیْہِ رحمۃُ الرَّحمٰن اَحسَنُ الْوِعَائِ لِاٰدابِ الدُّعائمیں فرماتے ہیں  : ’’(دُعا کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ)دُعا کے قَبول میں جلدی نہ کرے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ خُدائے تعالیٰ تین آدمیوں کی دُعا قَبول نہیں کرتا ایک وہ کہ گُناہ کی دُعا