Book Name:Guldasta e Durood o Salam

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

جَنَّت میں ٹھکانا

          حضرت سَیِّدُنااَنس بن مالِک رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ سے مَروِی ہے کہنبیِّ رَحمت ، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ جنَّت نشان ہے  :  ’’مَنْ صَلَّی عَلَیَّ فِیْ یَوْمٍ اَلْفَ مَرَّۃٍ، جو شخص ایک دن میں ہزار مرتبہ مجھ پر دُرُود شریف پڑھ لیا کرے ، ’’لَمْ یَمُتْ حَتّٰی یَریٰ مَقْعَدَہُ  فِی الْجَنَّۃِ، وہ اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک جنَّت میں اپنا ٹھکانانہ دیکھ لے  ۔ ‘‘ (الترغیب والترہیب ، کتاب الذکر والدعاء ، الترغیب فی اکثار الصلاۃ علی النبی، ۲ /  ۳۲۶، حدیث : ۲۵۹۱)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جنَّت ایک مَکان ہے کہ اللّٰہ  تعالیٰ نے اِیمان والوں کے لئے بنایا ہے اس میں وہ نعمتیں مُہیَّا کی ہیں جن کو نہ آنکھوں نے دیکھا ، نہ کانوں نے سنا ، نہ کسی آدمی کے دل پر ان کا خطرہ گزرا ۔  اس میں قسم قسم کے جَواہر کے مَحل ہیں ، ایسے صاف شَفاف کہ اندر کاحصّہ باہر سے اور باہر کا اندر سے دکھائی دے ، جنَّت میں چار دریا ہیں ، ایک پانی کا ، دوسرا دُودھ کا، تیسرا شہد کا، چوتھا شراب کا، پھر ان سے نہریں نکل کر ہر ایک کے مکان میں جاری ہیں ۔ جنّتیوں کوجنَّت میں ہر قسم کے لَذیذ سے لَذیذ کھانے ملیں گے ، جو چاہیں گے فوراً اُن کے سامنے موجود ہوگا اگر کسی پرند کو دیکھ کر اس کا گوشت کھانے کو جِی ہو تو اسی وقت بُھنا ہوا اس کے پاس آجائے گا ۔        (بہارشریعت ، ص۱۵۲تا۱۵۶ملتقطاً)

          دُرُودِپاک پڑھنے والا کس قَدر بَخْتْوَر ہے کہ مرنے سے پہلے ہی  جنَّت میں اپنا ٹھکانا دیکھ لیتاہے اور جس خُوش نصیب کو دُنیا ہی میں اس کا جنَّتی محل دکھا دیا جائے تو اللّٰہعَزَّوَجَلَّکی رَحمت اور حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی نظرِ عنایت سے اُمّیدِ واثِق ہے کہ نہ صرف وہ داخلِ جَنَّت ہوگا بلکہ اسکی اَبَدی نعمتوں سے مَحظُوظ بھی ہوگا اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ ۔ اسی ضِمن میں ایک اسلامی بھائی کی مَدنی بہار سُنئے اور خُوشی سے سر دُھنئے ۔  چنانچہ

            اندرونِ سِندھ کے مُقیم اسلامی بھائی کے بیان کاخُلاصہ ہے کہ میرے بھائی نعمان عطاری (عمر تقریباً 18سال)2002؁ء میں دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوئے ۔ سر پرمُستقِل طور پر سَبْزسَبْز عمامہ شریف سجا لیا ۔  فرائض و واجبات کی اَدائیگی کی کوشش کے ساتھ ساتھ سُنَن ومُسْتحبات پر عمل کی کوشش کیا کرتے ۔ نماز فجر کیلئے مسلمانوں کو بیدار کرنے کیلئے ’’صَدائے مَدینہ‘‘ لگانااُن کامعمول تھا ۔  دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وارسُنّتوں بھرے اجتماع میں پابندی سے شرکت کرتے ۔ ان کا خاص عمل جو ہم مَحسوس کرتے تھے وہ کثرت کے ساتھ دُرُود شریف پڑھناتھا ۔  2004؁ء میں وہ شدید بیمار ہوگئے یہاں تک کہ چارپائی سے جا لگے ۔ اس حالت میں بھی چارپائی کے قریب ہی مُصَلّٰی بچھا کر نماز ادا کیا کرتے ۔ جب حالت زِیادہ بگڑی تو انہیں ہسپتال میں داخل کروادیاگیا ۔  ایک بار مجھ سے فرمانے لگے کہ آج میں بیٹھ کر آنکھیں بند کئے دُرُودِ پاک پڑھ رہا تھا اور آگے پیچھے جُھوم رہا تھا تومیری خُوش نصیبی اپنی مِعْراج کو پہنچ گئی ، میں نے دیکھا کہ سامنے سرکارِ مدینہ، سلطانِ باقرینہ، قرارِ قلبُ و سینہ، فیض گنجینہ، صاحبِ مُعَطَّرِ پسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  جلوہ فرما ہیں ۔ لب ہائے مُبارَکہ کو جُنبِش ہوئی، رَحمت کے پُھول جَھڑنے لگے اَلفاظ کچھ یُوں ترتیب پائے ’’جب دُرُود شریف پڑھو تو آگے پیچھے نہیں دائیں بائیں جُھومو ۔ ‘‘  اپنے بھائی کی بَخْت آوری کا بیان سُن کر میں بھی جُھوم اُٹھا ۔ اب تو وہ کئی کئی گھنٹے آنکھیں بندکئے مُسلسل دُرُودِ پاک، الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہاور کَلِمَۂ طَیِّبہ لَآاِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰہکا وِرْد کرتے رہتے ۔ والدصاحب جب کبھی جَوان اَولاد کی بیماری کے باعِث زِیادہ رَنْجِیدَہ ہوتے اور ڈاکٹر پر اپنی تَشْوِیش کا اِظہار کرتے تو ڈاکٹر صاحب والد صاحب کوتَسلِّی دیتے ہوئے کہتے  :  ’’موت تو بَرحق ہے مگر ہم آپ کے بیٹے کے عِلاج پرخُصُوصی توَجُّہ دے رہے ہیں اور رَشک کررہے ہیں کہ آپ کتنے خُوش نصیب باپ ہیں ، جن کی اَولاد ایسی نیک ہے کہ برابر ذِکْر و دُرُود میں مَصروف رہتی ہے  ۔ ‘‘

            10رَمَضان المُبارَک ۱۴۲۴؁ھ بروز جُمُعہ رات کم و بیش2 بجے بھائی کی طبیعت زِیادہ خراب ہونے پر آکسیجن لگادی گئی  ۔ پھر بھی عالمِ غُنودگی میں کچھ پڑھے جارہے تھے ۔ حتّٰی کہ ُانہوں نے آنکھیں بند کرلیں  ۔ میں نے ہونٹوں سے کان لگائے تو nاس وقت اُن کی زبان پر کَلِمَۂ طَیِّبہ لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰہکے اَلفاظ تھے  ۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے بھائی نے دَم توڑ دیا ۔  چند دنوں بعد اہل خانہ میں سے کسی نے خَواب دیکھا کہ بھائی نعمان عطاری جَنَّتُ الْفِردوس میں سَبْز عمامہ شریف سجائے تشریف فرما ہیں اور چہرہ خُوشی سے دَمک رہا ہے ۔ پوچھا : ’’تمہیں یہ مقام کیسے ملا ؟‘‘فرمایا  :  سَبْز عمامہ شریف اپنانے کی بَرَکت سے ، جب مجھے قَبر میں سب چھوڑ کر چلدئیے اور جب سرکارِ مدینہ ، راحَتِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی تشریف آوری ہوئی تو میں نے ادباً ہاتھ باندھ لئے ، آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  مُسکرادیئے اور کچھ یوں ارشاد فرمایا :  ’’ جو ہماری سُنَّت سے راضی ہیں وہ ہمارے ہیں اور جنہیں ہماری سُنَّت سے پیار نہیں ان سے ہمار ا بھی کوئی واسطہ نہیں  ۔ ‘‘

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اے ہمارے پیارے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! ہمیں بھی دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول پر اِسْتِقامت ِجاوِدانی اور توفیقِ کثرتِ دُرُود خوانی عطا فرما ۔ اٰمین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

٭٭٭٭

بیان نمبر : 20

سب سے اَفْضَل دن

            خاتَمُ النَّبِیِّین، صاحِبِ قراٰنِ مُبین، محبوبِ ربُّ العٰلَمِینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ دِلنشین ہے  :  ’’اِنَّ مِنْ اَفْضَلِ اَیَّامِکُمْ یَوْمُ الْجُمُعَۃِیعنی بے شک تمہارے دنوں میں اَفْضَل تَرین دن جُمُعہ کا دن ہے  ۔ ‘‘ ’’فِیْہ خُلِقَ آدَمُ وَفِیْہِ قُبِضَ، اسی دن آدم کی پیدائش ہوئی اور اسی دن انکی رُوح قَبض کی گئی ۔ ‘‘ ’’وَفِیْہ النَّفْخَۃُ وَفِیْہِ الصَّعْقَۃُ، ا وراسی دن  صُور پھونکاجائے گا  ۔ ‘‘’’فَاَکْثِرُوْاعَلَیَّ مِنَ الصَّلَاۃِ فِیْہِ، لہٰذا اس دن مجھ پر



Total Pages: 141

Go To