Book Name:Guldasta e Durood o Salam

اِحتِرام کریں اور ان کی خِدمت کواپنے لئے باعثِ سَعادت سمجھیں اور ہوسکے توروزانہ کم اَز کم ایک بار ان کی قَدم بوسی بھی کریں  ۔ ہادیٔ راہِ نَجات، سر ورِ کائنا ت، شاہِ موجوداتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ جنَّت نشان ہے  : ’’اَلْجَنَّۃُ تَحْتَ اَقْدَامِ الْاُمَّہَاتِ یعنی جنَّت ماؤوں کے قدموں کے نیچے ہے ۔ (مسند الشّہاب،  ۱ /  ۱۰۲، حدیث : ۱۱۹) یعنی ان سے بھلائی کرناجنَّت میں داخلے کا سبب ہے ۔ دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 1197 صَفحات پر مشتمل کتاب ’’بہارِ شریعت‘‘ جلد 3 صَفْحَہ 445 پر ہے  : ’’والِدہ کے قدم کو بوسہ بھی دے سکتا ہے ، حدیث میں ہے  : جس نے اپنی والِدہ کا پاؤں چُوما، تو ایسا ہے جیسے جنَّت کی چوکھٹ(یعنی دَروازے ) کو بوسہ دیا ۔ ‘‘(درمختاروردالمحتار، کتاب الحظر والإباحۃ، فصل فی النظر والمس، ۹  / ۶۰۶)

سرکارِمدینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عِبرت نشان ہے  :  ’’ماں باپ تیری دَوزخ اورجنَّت ہیں  ۔ ‘‘ (اِبن ماجہ، کتاب الادب، باب برالوالدین، ۴ / ۱۸۶، حدیث : ۳۶۶۲) ایک اورمَقام پر ارشادفرمایا  : ’’ سب گُناہوں کی سزااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ چاہے تو قِیامت کیلئے اُٹھا رکھتا ہے مگر ماں باپ کی نافرمانی کی سزا جیتے جی پہنچاتا ہے  ۔ ‘‘

اور تو اور مرنے کے بعد بھی ایسے شخص کا اَنجام بہت بُرا ہوتا ہے ۔ چُنانچہ مَنقُول  ہے  :  ’’جب ماں باپ کے نافرمان کو د فْن کیا جاتا ہے توقَبْراُسے دباتی ہے یہاں تک کہ اُس کی پسلیاں (ٹوٹ پھوٹ کر) ایک دوسرے میں پَیوَست ہو جاتی ہیں  ۔ ‘‘ (الزواجر عن اقتراف الکبائر، کتاب النفقات علی الزوجات والاقارب الخ، عقوق الوالدین اواحدہماالخ، ۲ /  ۱۳۹)

اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں ماں باپ کی اَہَمِّیَّتسمجھنے کی توفیق بخشے اور ان کا اَدب نصیب فرمائے ۔ آمین

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

{3}دُرُود و سَلام کی کثرت

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بیان کردہ حدیث پاک کے ضمن میں  اَہَمِّیَّت واَفْضَلِیَّت کی حامل تیسری چیز’’دُرُودِ پاک کی کثرت ‘‘ہے کہ اس میں دُنیا و آخرت کی سَعادت ہی سَعادت ہے جبکہ دُرُودِ پاک پڑھنے میں سُسْتی باعثِ مَحرومی وہَلاکت ہے جیسا کے آپ نے حدیث پاک سَماعت فرمائی کہ تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’مَنْ ذُکِرْتُ عِنْدَہٗ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیََّ فَقَدْ شَقِی، جس کے پاس میرا ذِکر ہوا اور اُس نے مجھ پر دُرُود پاک نہ پڑھا وہ بھی شَقِی (یعنی بَد بَخت) ہے  ۔ ‘‘ لہٰذا ہمیں بھی دُرُودِپاک کی کثرت کرنی چاہئے اس کی بَرَکت سے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہماری شَقاوَت دُور ہوگی اور ہمیں سَعادَتوں کی مِعْراج نصیب ہوگی ۔  

دُرُود و سَلام کی عادت بنانے کا نُسْخہ

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دُرُودِ پاک کی کثرت کا عادی بننے کے لئے ہمیں چاہئے کہ دعوتِ اسلامی کے مَدنی ماحول سے وابستہ ہوجائیں لہٰذا اس ضِمن میں ایک مَدنی بہار سنئے اورجُھوم اُٹھئے  ۔

بروز اتوار ۲۶ ربیعُ النُّور شریف ۱۴۲۰؁ ھ بمطابِق 11 جولائی 1999؁بوقت دوپہرپنجاب کے مشہور شہرلالہ مُوسیٰکی ایک مَصروف شاہراہ پرکسی ٹرالر نے ایک ذِمَّہ دار، مُبلِّغ دعوتِ اسلامی محمدمُنیر حسین عطاّری علیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْباری (مَحَلّہ ساکِن اِسلام پُورہ لالہ موسیٰ) کو بُری طرح کُچل دیا ۔  یہاں تک کہ ان کے پیٹ کی جانب سے اُوپر اور نیچے کا حصّہ الگ الگ ہوگیا ۔  مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ پھر بھی وہ زِندہ تھے ، اور حیرت بالائے حیرت یہ کہ حَواس اتنے بَحال تھے کہ بُلند آواز سے الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامُ عَلَیْکَ یا رَسُوْلَ اللّٰہ اور لآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پڑھے جا رہے تھے ۔ لالہ مُوسیٰ کے اَسپتال میں ڈاکٹروں کے جواب دے دینے پر انہیں شہر گُجرات کے عزیز بَھٹّی اَسپتال لے جایا گیا ۔ انہیں اَسپتال لے جانے والے اسلامی بھائی کا بَقَسم بیان ہے ،  اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ محمدمُنیر حسین عطاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَاریکی زَبان پرپورے راستے اِسی طرح بُلند آواز سے دُرُودو سَلام اور کَلِمَۂ طَیِّبہ کا وِرْد جاری تھا ۔  یہ مَدنی منظر دیکھ کر ڈاکٹر ز بھی حیران و شَشْدَر تھے کہ یہ زِندہ کس طرح ہیں اور حَواس اتنے بَحال کہ بُلند آواز سے دُرُود وسلام اور کَلِمَۂ طَیِّبہ پڑھے جارہے ہیں  ۔ انکا کہنا تھا کہ ہم نے اپنی زِندگی میں ایسا باحَوصَلہ اور باکمال مَرْد پہلی مرتبہ ہی دیکھا ہے ۔ کچھ دیر بعد وہ خُوش نصیب عاشقِ رسول محمدمُنیر حسین عطاّری  عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْبَاری نے بارگاہِ محبوب ِباری  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں بَصد بیقراری اِس طرح اِستِغاثہ کیا :  

یارسُولَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآ بھی جایئے

یارسُولَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیری مَدد فرمایئے

یارسُولَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مجھے مُعاف فرما دیجئے

اِس کے بعد بآوازِبُلند لَآ اِلٰہَ اِلَّاا للّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپڑھتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے ۔ جی ہاں جو مُسلمان حادِثہ میں فوت ہو وہ شَہید ہے ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            اے ہمارے پیارے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! ہمیں بھی دعوتِ اسلامی کے مَدنی ماحول سے وابستگی عطافرما اور سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذات پر کثرت سے دُرُودوسَلام پڑھنے کی توفیق عطافرما ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

٭٭٭٭

بیان نمبر : 17

دُعاؤں کا مُحافظ

امیرُالْمُؤمِنِینحضرت سیِّدُنا علیُّ المُرتَضٰی شیرِ خدا  کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے روایت ہے نبیِّ مُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ مُعظَّم ہے  :  ’’تمہارا مجھ پر دُرُودِپاک پڑھنا تمہاری دُعاؤ ں کا محافظ، رَبّ تعالی کی رضا کا باعث اور تمہارے اَعمال کی پاکیزگی کا سبب ہے  ۔ ‘‘(القول البدیع، الباب الثانی فی ثواب الصلاۃ الخ، ص۲۷۰)

 



Total Pages: 141

Go To