Book Name:Guldasta e Durood o Salam

              سَعَادَۃُ الدَّارَیْنمیں ہے  : ’’کچھ مَلائکہ مُقرِّبین ہیں ، کچھ حامِلینِ عرش ہیں ، کچھ ساتوں آسمانوں میں رہنے والے ہیں ، کچھ  جَنَّت کے پہرے دار ، کچھ دَوزخ کے دَروغے اور کئی بنی آدم کے اَعمال کومَحفُوظ کرنے والے ہیں جیسے ارشاد ہے ’’ یَحْفَظُوْنَہٗ مِنْ اَمْرِاللّٰہِ کہ بحکم خدا اس کی حِفاظت کرتے ہیں ‘‘کئی سمندروں ، پہاڑوں ، بادلوں ، بارشوں ، رِحْموں ، نُطْفوں ، اورصُورَتیں بنانے کے کام کے مُؤکِّل ہیں ، کچھ جسموں میں رُوح پھونکنے ، نَباتات کو پیدا کرنے ہواؤں کو چلانے ، اَفلاک و نُجوم کو چلانے پر مامُورہیں ، کچھ رسول اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر ہمارے دُرُود کو پہنچانے ، نمازِ جُمُعہ کے لئے آنے والوں کو لکھنے ، نمازیوں کی قراء ت پر آمین کہنے پر مَصْرُوف ہیں ، کچھ صِرف رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدکہنے والے ہیں ، کچھ نماز کے مُنْتَظِرِیْن کے لئے دُعا کرنے والے ہیں  اور کچھ اس عَورت پر لعنت کرنے کے لئے ہیں جو اپنے خاوَند کا بِستر چھوڑ کر غیر کے پاس جاتی ہے ، اس کے علاوہ بھی کئی فِرِشتوں کا ذِکر ملتا ہے جن کے مُتعلِّق اَحادِیث وارِدہیں  ۔

(سعادۃ الدارین، الباب الاول فی تفسیرآیۃاِنَّ اللّٰہ وملائکتۃیُصلُّونالخ ، ص۶۹)

          سُبْحٰنَ اللہِ عَزّوَجَلَّ!اس ساری گُفْتگُو سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے کچھ فِرِشتوں کو اس کام پر مامُور کررکھاہے کہ جب ہم آقائے نامدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپردُرُودِ پاک پڑھیں تو وہ ہمارا دُرُود سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں پہنچائیں بلکہ ایک رِوایت میں تو یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ بعض فِرِشتوں کی مَحض یہ ذِمَّہ داری ہے کہ وہ ہمارے مُنہ سے نکلا ہوا دُرُودمَحفُوظ کر لیتے ہیں  ۔ چُنانچہ

          حضرت سیِّدُنا عثمان  رَضِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے نبی کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اِن فِرِشتوں کی تعداد پوچھی جو انسان پرمُتَعَیَّنہیں ، آپ نے اِرشاد فرمایا  :  ’’ہر آدمی پر رات کو دس فِرِشتے اور دن کو دس فِرِشتے مُتَعَیَّن ہوتے ہیں ۔ ایک دائیں جانِب ، ایک بائیں جانِب ، دو آگے پیچھے ، دو اس کے ہونٹوں پر جو صِرف محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر پڑھا جانے والا دُرُودمَحفوظ کرتے ہیں ، دو پَیشانی پراور ایک اس کی پَیشانی کے بالوں کو پکڑے ہوئے ہے اگر وہ تَواضُع کرتا ہے تو وہ اُسے بُلَنْد کرتا ہے اواگر تَکَبُّرکرتا ہے تو وہ اُسے جُھکا دیتا ہے ، دَسواں سانپ سے اس کی حِفاظَت کرتاہے کہ کہیں اس کے مُنہ میں داخل نہ ہو جائے یعنی جب وہ سویا ہوا ہو ۔ ‘‘

            یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہر انسان کے ساتھ 360 فِرِشتے ہیں ، زَمین وآسمان میں کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جو ان فِرِشتوں سے مَعْمور نہ ہو جن کی صِفَت ہے ۔ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ(۶) ترجمۂ کنزالایمان :  (جو اللّٰہ کا حکم نہیں ٹالتے اور جو انہیں حکم ہو وہی کرتے ہیں  ۔ ) (پ۲۸، التحریم : ۶)(سعادۃ الدارین، ایضاً، ص۶۹)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بیان کردَہ رِوایات سے معلوم ہوا کہ بیشمار فِرِشتے ہَمہ وَقت سرکار ِدوعالم صلّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّمکی بارگاہ میں دُرُود و سَلام پیش کرتے رہتے ہیں اور غور طلب بات تویہ ہے کہ اِن مَذکورہ رِوایات میں بلکہ آیتِ کریمہ میں بھی کسی وَقت ، حالت اور دُرُودپاک کے اَلفاظ کی تَخْصِیْص و تَعْیِیْن کے بغیر مُطلقاً دُرُودِ پاک پڑھنے کا ذِکر ہے لہٰذا اگر شیطان یہ وَسْوَسہ ِدلائے کہ فُلاں وَقت میں دُرُودِ پاک نہیں پڑھنا چاہئے یا فُلاں حالت میں پڑھنا مَنْع ہے یافُلاں فُلاں دُرُودِ پاک نہیں پڑھناچاہئے تویہ شَیْطانی وَسْوَسے قُرآن و حدیث کے مُطلَق مَفْہُوم کے خِلاف ہیں ایسے کسی بھی وَسْوَسے کو ذِہن میں جگہ دے کر دُرُودِ پاک جیسے عَظِیْم فعل سے مَحروم ہونے کے بجائے عِشْق ومَحَبَّت کا دامن تھامتے ہوئے اپنے قیمتی اَوقات فُضُولیات میں برباد کرنے کے بجائے اُٹھتے بیٹھتے ، چلتے پھرتے ہروَقت حُضُور کی ذاتِ بابَرَکات کے ذِکرخَیر سے اپنی زبانیں تَررکھیں کیونکہ یہ دُنیاو آخرت کی سَعادت کے ساتھ ساتھ مَحَبَّت کی عَلامت بھی ہے جیساکہ حدیث پاک میں ہے مَنْ اَحَبَّ شَیْئاً اَکْثَر َذِکْرَہ،  (یعنی انسان جس سے مَحَبَّت کرتا ہے اس کا ذِکر کثرت سے کرتا ہے )

ذِکر و دُرُود ہر گھڑی وِرْدِ زباں رہے

میری فُضُول گوئی کی عادَت نکال دو (وسائلِ بخشش ، ص۲۹۰)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمیں چاہئے کہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے مَحَبَّترکھیں اوربتقاضائے مَحَبَّت آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر کثرت سے دُرُود ِپاک پڑھیں ، کوئی بعید نہیں کہ دُرُود ِپاک کی بَرَکت سے روزِ  قِیامت سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا قُرب نصیب ہوجائے ۔ جیساکہ

قُرْبِ خاص

          حضرت سیِّدُ ناابُوعبدُاللّٰہ محمد بن سلیمان جَزُوْلی علیہ رَحمۃُ اللّٰہِ الْقَوی اپنے مایہ نازو مشہورِ زمانہ مَجمُوعۂ دُرُودو سَلام ’’دَلائلُ الْخَیْرَات‘‘میں ایک حدیث پاک نقل کرتے ہیں کہ شہنشاہِ خُوش خِصال، پیکرِ حُسن وجَمال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ تَقرُّب نشان ہے  : ’’ اِنَّ اَوْلَی النَّاسِ بِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اَکْثَرُہُمْ عَلَیَّ صَلٰوۃً، یعنی قِیامت کے دِن لوگوں میں سے میرے سب سے زِیادہ قَریب وہ شخص ہوگاجس نے مجھ پر کثرت سے دُرُودِ پاک پڑھے ہونگے  ۔ ‘‘(دلائل الخیرات، ص ۸)

            سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّوَجَلَّ!اس حدیث پاک میں کثرت سے دُرُودِ پاک پڑھنے والوں کے لئے کیسی عَظِیمُ الشَّان بِشارت ہے کہ انہیں قِیامت کے دن سیّدُالمُرسَلِین، جنابِ رحمۃٌ لِّلْعٰلمِینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کاقُرب نصیب ہوگا  ۔

            قیامت کے دن کے بارے میں سُورۃُالْمَعارِج کی آیت نمبر 4میں ارشاد ہوتا ہے  :  ’’ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍۚ(۴) ، ترجمۂ کنزالایمان : جس کی مقدار پچاس ہزاربرس ہے ) اس دن سُورج سَوامیل پر رہ کر آگ برسارہا ہوگاتانبے کی دَہَکتْی ہوئی زَمین ہوگی قرآنِ پاک میں سورۂ عَبَسَ کی آیت 34تا36 میں ارشاد ہوتاہے  : ’’ یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ(۳۴) وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ(۳۵) وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ(۳۶) ترجمۂ کنزالایمان : اس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھا ئی اور ماں اور باپ اور جورُو(بیوی) اور بیٹوں سے )، ایسے کڑے حالات میں کہ جب کوئی پُرسانِ حال نہ ہوگا، تمام اَنبیائے کرام عَلَیْھِمُ السَّلامکی طرف سے بھی اِذْھَبَوْااِلٰی غَیْرِیْ (کسی اورکے پاس جاؤ) کاجَواب ملے گا، ایسے کڑے وَقت میں ایک ہی ایسی ہَسْتی ہوگی جوہم گُناہ گاروں کی یاس کو آس میں بَدل دے گی ، ہماری ٹُوٹی اُمیدوں کا سَہارا ہوگی، جس کے لَبوں پر اَنَالَھَا(شَفاعَت کے لئے میں ہوں ) کی صدائیں ہونگیں ، جی ہاں !وہ مُبارک ہَسْتی کوئی اور نہیں بلکہ ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی



Total Pages: 141

Go To