Book Name:Guldasta e Durood o Salam

کیفیت کو دَلائِلُ الْخَیْرات شریف میں یوں بیان فرماتے ہیں  : ’’وَنَفَیْتَ عَنْ قَلْبِیْ فِیْ ھٰذَاالنَّبِیِّ الْکَرِیْمِ الشَّکَّ وَالْاِرْتِیَابَ وَغَلَّبْتَ حُبَّہُ عِنْدِیْ عَلٰی حُبِّ جَمِیْعِ الْاَقْرِبَائِ وَ الْاَحِبَّائِ، ’’یعنی اے اللّٰہ ! تو نے میرے دل کو اس نبیِّ کریم صَلّٰی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بارے میں ہر قسم کے شَک وشُبْہہ سے دُور رکھا ہے اور آپ کیمَحَبَّت کو میرے نزدیک تمام رِشتہ داروں اور پیاروں کیمَحَبَّت پر غالب کردیا ہے  ۔ ‘‘آپ رَحْمۃُ اللّٰہ تعالی علیہکے عشقِ رسول کے نظارے دَلائِلُ الْخَیْرات شریف میں جا بجا دیکھے جا سکتے ہیں  ۔

            آپ کی ساری عُمر حُضُور نبیِّ کریم صَلّٰی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود پڑھتے ، دُرُود شریف کی ترغیب دیتے اور دُرُود شریف کی نَشْرو اِشاعت میں گزری ۔

دُرُود خواں کا بدن مٹی نہیں کھا سکتی

            صدرُ الشَّریعہ ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علَّامہ مولانا محمد اَمجد علی اَعظمی علیہ رَحمۃُ اللّٰہ الْقَویبہارِ شریعت جلد 1 صفحہ 114پر فرماتے ہیں  : ’’وہ لوگ کہ(جو) اپنے اَوقات دُرُود شریف میں مُستغرق رکھتے ہیں ان کے بدن کومَٹِّی نہیں کھاسکتی ۔ ‘‘

77سال بعد بھی جسم سلامت تھا

            حضرتِ سَیِّدُنا شیخ محمد بن سلیمان جَزُوْلی عَلَیْہ رَحْمۃُ اللّٰہ الْقَوِینہ صرف خود رحمت ِ عالمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود وسلام کی کثرت فرماتے تھے بلکہ آپ کے مرتَّب کردہ مجموعۂ درود ’’دَلائل الْخَیرات ‘‘کی مدد سے دنیا بھر میں دُرُودو سَلام پڑھا جاتاہے  ۔ چنانچہ وصال کے ستتر (77) سال بعد جب آپ کو قَبر سے نکالا گیا تو آپ کا جسمِ مُبارک بالکل ترو تازہ تھا، جیسے آج ہی دَفن کیاگیاہو، اتنی طویل مُدَّت گزر جانے کے باوجود آپ کا جسم مُتَغَیَّر نہ ہوا تھا ۔  آپ کی داڑھی اور سر کے بال ایسے تھے ، جیسے آج ہی حجام نے آپ کی حَجامت بنائی ہو ۔ ایک شخص نے آپ کے چہرے کواُنگلی سے دبایا تو اس کی حیرت کی اِنتہا نہ رہی کہ اس جگہ سے خُون ہٹ گیا اور جب اُنگلی اُٹھائی تو خُون پھر اپنی جگہ لوٹ آیا، جیسے زِندوں کے ساتھ ہوا کرتا ہے ۔

مزارِ پُر اَنوار سے کَسْتُوری کی خُوشبُو

            مراکش میں آپ کا مزار مَرجعِ خَلائق ہے ۔ مزار پر بڑے رُعب و جَلال کا سَماں ہے ، لوگ زِیارت کے لیے جُوق در جُوق حاضِری دیتے ہیں اور دَلائِلُ الْخَیْرات شریف کا بکثرت وِرْد ہوتاہے  ۔ شاید یہ دُرُود شریف ہی کی برکت ہے کہ آپ کی قبرِ اَطہر سے کَستُوری کی مہک آتی ہے  ۔

            آپ کی ذات مرجعِ خَلائق تھی، مُریدین کے علاوہ بھی ہزاروں اَفراد آپ کی زِیارت و ملاقات کے لیے حاضِر ہوتے تھے  ۔ آپ کے عام مُریدین کا تو کیا شُمار، خَواص کی تعداد بھی ہزاروں میں تھی ۔  یہاں تک کہ آپ کے فَیض یافتہ مُریدین میں سے بارہ ہزار چھ سو پینسٹھ (12665) تو ایسے کامل تھے کہ مقامِ ولایت پرمُتَمَکِّن ہوئے اور اپنی اپنی اِسْتعداد کے مُطابق قُربِ الہٰی کے اَعلیٰ مَقامات پر فائز ہوئے  ۔

اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

بَیْعت کی اَہَمِّیَّت

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! تاریخِ اسلام کے مُطالَعے سے پتاچلتاہے کہ تقریباً تمام اولیائے کرام رَحِمَھُمُ اللّٰہ نے راہِ سُلُوک طے کرنے کیلئے کسی پیرِ کامل کے ہاتھ پر بَیعت کی بلکہ خود ہمارے گیارہویں والے آقا، سردارِ اولیاء حُضُور سَیِّدُناغوثِ اَعظم دَسْت گیرعَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہ الْقَدِیر نے بھی حضرت سَیِّدُناشیخ ابوسعید مُبارک مخزومی علیہ رَحْمۃُ اللّٰہ الْقَوِی کے دستِ حق پرست پر بیعت فرمائی ۔ ہمیں بھی چاہیے کہ کسی نہ کسی جامعِ شرائط پیرِ کامل کے مُرید بن جائیں  ۔

 اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ قُرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے  ۔

یَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْۚ-(پ۱۵، بنی اسرائیل  : ۷۱)

ترجمہ کنزالایمان : جس دن ہم ہر جماعت کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے ۔

            مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضرتِ مُفْتی احمد یار خان علیہ رَحمۃُ الحنّان ’’نورُالعرفان‘‘ میں اس آیتِ کریمہ کے تحت فرماتے ہیں  :  ’’اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں کسی صالح کو اپنا امام بنالینا چاہئے شَرِیْعَتمیں ’’تَقْلِیْد‘‘ کرکے اور طَریْقَت میں ’’بَیْعَت‘‘کرکے ، تاکہ حَشْر اچھوں کے ساتھ ہو ۔  اگر صالح امام نہ ہوگا تو اس کا امام شیطٰن ہوگا ۔  اس آیت میں تَقْلِیْد ، بَیْعَتاور مُریدی سب کا ثُبوت ہے ۔ ‘‘               (تفسیر نورالعرفان ، ص۷۹۷)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آج کے پرفِتن دور میں پیری مُریدی کا سلسلہ وسیع تر ضَرور ہے ، مگر کامل اور ناقِص پیر کا اِمتیاز مُشکل ہے ۔ یہ اللّٰہ عَزَّوجَلَّ کا خاص کرم ہے کہ وہ ہر دور میں اپنے پیارے مَحبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اُمَّت کی اِصلاح کیلئے اپنے اَولیائے کرام رَحِمہُم اللّٰہ السَّلام ضَرور پیدا فرماتا ہے ۔ جو اپنی مومنانہ حِکمت وفَراست کے ذریعے لوگوں کو یہ ذہن دینے کی کوشش فرماتے ہیں کہ ’’مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اِصلاح کی کوشش کرنی ہے  ۔ ‘‘( اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ)

          فی زمانہ مرشدِکامل کی ایک مثال بانیِ دعوتِ اسلامی، شیخ طریقت امیرِ اَہلسنَّت حضرتِ علامہ مولانا ابوبلا ل محمد الیاس عطّارقادری رَضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ ہیں ، جن کی نگاہِ ولایت نے لاکھوں مسلمانوں بالخُصوص نوجوانوں کی زندگیوں میں مَدَنی اِنقلاب برپا کردیا ۔ آپ  دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ سلسلہ ٔعالیہ قادِریہ رَضویہ میں مُرید کرتے ہیں اور قادری سلسلے کی تو کیا بات ہے کہ حضور غوثِ اعظم رضی اللّٰہ تعالی عنہ فرماتے ہیں !’’میرا مُرید چاہے کتنا ہی گناہ گار ہو ( اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ) وہ اس وقت تک نہیں مَرے گا ، جب تک توبہ نہ کرلے ۔ ‘‘

 



Total Pages: 141

Go To