Book Name:Guldasta e Durood o Salam

خدا کے مَحبوب ہیں ۔

            دوسرے یہ کہ دوسرے مَحبوبوں کو ہزاروں نے دیکھا مگر عاشِق ایک دو ہوئے ، حُضُورِ انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مَحبوبیت کا یہ عالَم ہے کہ آج ان کا دیکھنے والا کوئی نہیں اور عاشِق کروڑوں ہیں  ۔

حُسنِ یوسف پہ کٹِیں مِصر میں اَنگُشتِ زَناں

                       سرکٹاتے ہیں ترے نام پہ مردان عَرب   (حدائقِ بخشش ، ص ۵۸)

            تیسرے یہ کہحُضُورِ انو رصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو پتھر کے دل کا حال معلوم ہے کہ کس پتھر کے دل میں ہم سے کتنی مَحَبَّتہے تو ہمارے دِلوں کا اِیمان، عِرفان، مَحَبَّتو عَداوَت وغیرہ بھی یقیناً معلوم ہے ، یہ ہے علمِ غیبِ رسول  ۔

          چوتھے یہ کہحُضُورِ انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اپنا عِشْق و مَحَبَّت جتانے ، ظاہر کرنے کی ضَرورت نہیں ، انہیں ہمارے حالات خُود ہی معلوم ہیں ، اُحُد نے مُنہ سے نہ کہا تھا کہ میں آپ سے مَحَبَّت کرتا ہوں یا آپ کا چاہنے والا ہوں  ۔

            پانچویں یہ کہ جس انسان کے دل میں حُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مَحَبَّتنہ ہو وہ پتھر سے بھی سَخت ہے ، اللّٰہ تَعالیٰ حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مَحَبَّت نصیب کرے  ۔

          چھٹے یہ کہحُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مَحَبَّت ان کی محبوبیت کا ذَرِیعَہ ہے ، جو چاہتا ہے کہحُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس سے مَحَبَّت کریں تو اسے چاہیے کہحُضُورِانور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مَحَبَّت کرے ، دیکھو یہاں فرمایا کہ ہم بھی اُحُد سے مَحَبَّت کرتے ہیں  ۔

            ساتویں یہ کہ جو (حضرات) حُضُورِانور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے محبوب ہوگئے اُن کے آستانے مَرجَعِ خَلَائِق ہوگئے ، دیکھو حضرتِ سَیِّدُنا خواجہ اَجمیری، حُضُور غوثِ پاک، حضرت داتا گَنْج بَخْش رَحْمۃُ اﷲ تعالٰی عَلَیْہم اَجْمَعِیْن کے آستانوں کی رَونقیں یہ اسی محبوبیت کی جَلْوہ گَری ہے ، اعلیٰ حضر ت فرماتے ہیں ۔

وہ کہ اِس دَرْ کا ہوا خلقِ خُدا اُس کی ہوئی

وہ کہ ِاس دَر سے پھرا اﷲ اُس سے پھر گیا   (حدائقِ بخشش ، ص۵۳)

(مرآۃ ، ۴ / ۲۱۹ تا۲۲۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            اللّٰہتعالیٰ جَبلِ اُحُد شریف کے صَدقے ہمیں بھی عشقِ رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا لازَوال جَذْبہ نصیب فرمائے اور ہمیں مُخلِص عاشقِ رسول بنائے ۔

دولتِ عِشْق سے آقا مری جھولی بھردو                   بس یہی ہو مرا سامان مدینے والے

آپ کے عِشْق میں اے کا ش کہ روتے روتے              یہ نکل جائے مری جان مدینے والے (وسائلِ بخشش ، ص۳۰۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

عذابِ قَبْر کا ایک سَبَب

            ’’اَلقَوْلُ الْبَدِیْع‘‘میں نقل ہے ، حضرت ِسَیِّدُنا ابُو بکرشِبْلی بَغْدادی علیہ رَحمَۃُ اللّٰہِ الھادی فرماتے ہیں  : ’’میں نے اپنے مرحوم پڑو سی کو خواب میں دیکھ کر پوچھا، مَا فَعَلَ اللّٰہُ بِکَ؟ یعنی اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا مُعامَلہ فرمایا؟‘‘ وہ بولا :  ’’میں سخت ہولناکِیوں سے دو چار ہو ا، مُنَکرنکیر کے سُوالات کے جوابات بھی مجھ سے نہیں بن پڑ رہے تھے ، میں نے دل میں خیال کیا کہ شاید میرا خاتمہ ایمان پر نہیں ہوا ۔ ‘‘ اتنے میں آواز آئی :  ’’ھٰذِہٖ عُقُوْبَۃُ اِھْمَالِکَ لِلِسَانِکَ فِی الدُّنْیَا یعنی دنیامیں زَبان کے غیر ضَروری اِستِعمال کی وَجہ سے تجھے یہ سزا دی جارہی ہے  ۔ ‘‘ اب عذاب کے فِرِشتے میری طر ف بڑھے ۔ اتنے میں ایک صاحِب جو حُسن و جمال کے پیکر اور مُعَطَّر مُعَطَّر تھے وہ میرے اور عذاب کے درمیان حائل ہوگئے  ۔

 اور انہوں نے مجھے مُنکَر نکیر کے سُوالات کے جوابات یاد دلا دیئے اور میں نے اُسی طرح جوابات دے دیئے ، اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ عذاب مجھ سے دُور ہوا ۔  میں نے اُن بُزُرگ سے عرض کی :  ’’اللّٰہعَزَّوَجَلَّ آپ پر رَحم فرمائے !آپ کون ہیں ؟ ‘‘ فرمایا  :  ’’اَنَا شَخْصٌ خُلِقْتُ مِنْ کَثْرَۃِ صَلَاتِکَ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّموَاُمِرْتُ اَنْ اَنْصُرَکَ فِیْ کُلِّ کَرْبٍ، یعنی میں وہ شخص ہوں جس کو تیرے نبی پاکصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر کثرت کے ساتھ دُرُود شریف پڑھنے کی بَرَکت سے پیدا کیا گیاہے اور مجھے ہرمُصیبت کے وَقت تیری اِمداد پر مامُور کیاگیا ہے ۔ ‘‘

(القول البد یع، الباب الثانی فی ثواب الصلاۃ والسلام علی رسول ا للّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، ص ۲۶۰)

تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہوگا

           ہمارا بگڑاہوا کام بن گیا ہوگا    (ذوقِ نعت ، ص۳۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

                                                اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ!کثرتِ دُرُود شریف کی بَرَکت سے مَدد کرنے کیلئے قَبر میں جب فِرِشتہ آ سکتا ہے تو تمام فِرِشتوں کے بھی آقا مکّی مَدَنی مصطَفٰیَّصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کرم کیوں نہیں فرما سکتے ! کسی نے بالکل بجا تو فریاد کی ہے  ۔

میں گور اندھیری میں گھبراؤں گا جب تنہا                   امداد  مری  کرنے  آجانا مرے آقا

روشن مِری تُربت کو لِلّٰہ شہا کرنا                                 جب نَزع کاوقت آئے دیدار عطا کرنا

 



Total Pages: 141

Go To