Book Name:Guldasta e Durood o Salam

 

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مَعلوم ہُوا دُرُود شریف کی بڑی بَرَکتیں ہیں ۔ لہٰذا ہمیں بھی اپنے مَرحُومین کی قَبر پر حاضِر ہوکرفاتِحہ و دُرُود پڑھ کر اِیصالِ ثواب کرنا چاہیے نیز دُرُود شریف پڑھنے والے کو ایک فائدہ یہ بھی حاصل ہوتا ہے کہ اس کی پریشانیاں دُور ہوتی ہیں فَقر مِٹتا ہے اور غَناکی دولت نصیب ہوتی ہے ۔ چنانچہ

محتاجی دور کرنے کا نُسخہ

صاحبِ تحفۃُ الاخیار عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہ الغَفَّار نے یہ حدیثِ پاک نقل کی ہے کہ سرکارِ مدینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’مَنْ صَلّٰی عَلَیَّ فِیْ کُلِّ یَوْمٍ خَمْسَ مِائَۃَ مَرَّۃٍ  لَمْ یَفْتَقِرْاَبَدًا، یعنی جومُجھ پر روزانہ پانچ سو بار دُرُود شریف پڑھ لیا کرے گاوہ کبھی مُحتاج نہ ہوگا ۔ ‘‘ (المستطرف، الباب الرابع والثمانون فیماجاء فی فضل الصلاۃعلی رسول الّٰہ، ۲ /  ۵۰۸، روح البیان، پ۲۲، الاحزاب، تحت الآیۃ۵۶، ۷ / ۲۳۱)پھر اس حدیث شریف کو نقل کرنے کے بعد یہ واقعہ بیان فرمایا :  ’’ایک نیک آدمی تھا، اُس نے یہ حدیث سُنی تو غلبۂ شوق کے ساتھ پانچ سو بار دُرود شریف کا روزانہ وِرْدشُروع کردیا ۔  اِس کی بَرَکت سے اللّٰہعَزَّوَجَلَّنے اُس کوغَنی کردیا اور ایسی جگہ سے اُسے رِزق عطا فرمایا کہ اُسے پتا بھی نہ چل سکا، حالانکہ اِس سے پہلے وہ مُفلِس اور حاجَت مند تھا  ۔ ‘‘ (سعادۃ الدارین، الباب الرابع فیماورد من لطائف المرئی والحکایاتالخ، ا للطیفۃ الثامنۃ عشربعدالمائۃ، ص۱۶۰)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!شیخ ِ طریقت ، امیرِاہلسُنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں  :  ’’اگرکوئی شخص مذکورہ تعداد میں دُرُودِپاک کا وِرْد کرے پھربھی اُس کا فَقر ( محتاجی)دُور نہ ہو تو یہ اُس کی نِیَّت کا فُتور ہے اور اُس کے باطِن میں خَرابی کی وَجہ سے کام نہیں بن سکا ۔ دَرْاَصل دُرُودِ پاک پڑھنے میں  نِیَّت اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اور اُس کے پیارے حبیبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا قُرب حاصل کرنے کی ہو ۔  پھر اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ مُحْتاجی ضَرور دُور ہوگی اور یاد رکھیئے ! مُحْتاجی صِرف مال کی کَمی کا نام نہیں ہے بلکہ بَسا اَوقات مال کی کثرت کے باوجود بھی انسان مُحْتاجی کا شِکوہ کرتا ہے جو کہ مال کی حرص اور لالچ کی نشانی ہے ۔ حریص انسان کو چاہے کتنی ہی دَولت مل جائے وہ ہَلْ مِن مَّزِیْد(یعنی مزید مل جائے ) کے نعرے لگاتا رہتا ہے ۔ چُنانچہ

آدَمی کا پیٹ قَبْر کی  مَٹی ہی بھرے گی

اللّٰہعَزَّوَجَلَّکے محبوب، دانائے غُیُوبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عِبرت نِشان ہے  : ’’لَوْ کَانَ لِاِبْنِ اٰدَمَ وَادِیَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغٰی ثَالِثاً وَلَا یَمْلَاُ جَوْفَ ابْنِ اٰدَمَ اِلَّا التُّرَابُ وَیَتُوْبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ، یعنی اگر اِنسان کے پاس مال کے دو جنگل ہوں تو وہ تیسرا تلاش کرے گا اور اِنسان کے پیٹ کومَٹی کے سِوا کوئی چیز نہیں بھرسکتی اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ توبہ کرنے والے کی توبہ قَبول فرماتا ہے  ۔ ‘‘

(بخاری، کتاب الرقاق، باب مَا یُتَّقَی مِنْ فِتْنَۃِ الْمَالِ، ۴ / ۲۲۸، حدیث : ۶۴۳۶)

مُفسرِ شہیر، حکیم ُالامَّت حضرتِ مُفْتِی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمۃُ اللّٰہِ الْقَویاس حدیثِ پاک کے تَحت ارشاد فرماتے ہیں  : ’’یہاں دو اور تین حَد بندی کے لیے نہیں  ۔ مَطْلب یہ ہے کہ اگر دو جنگل بھر مال ہو تو تیسرے جنگل کی خواہش کرے اور اگر تین جنگل مال ہو تو چوتھے کی ، اسی طرح سلسلہ قائم رکھے ۔ انسان کی ہوس زِیادہ مال سے نہیں بُجھتی، یہ تو فَضْلِ ذُوالجلال سے بُجھتی ہے  ۔ ‘‘

’’اِنسان کے پیٹ کومَٹی کے سِواء کوئی چیز نہیں بھرسکتی ‘‘کے تَحت فرماتے ہیں  : ’’ مَٹی سے مُراد قبر کی مَٹی ہے یعنی انسان کی ہَوَس قبر تک رہتی ہے ، مر کر ہَوَس ختم ہوتی ہے ۔ یہ حکم عُمُومِی ہے ، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے نیک بندے اور صابِر و شاکِر بندے اس حکم سے علیحدہ ہیں جیسے حضراتِ اَنبیا ئے کِرام عَلَیْھِمُ الصَّلٰوۃُوالسَّلام اور خالص اَولیاء اللّٰہرَحِمہُم اللّٰہ تعالٰی، مگر ایسے قَناعَت والے بہت کم ہیں  ۔ صُوفیاء فرماتے ہیں  : ’’ انسان کی پیدائش مَٹی سے ہے اورمَٹی کی فِطْرت خشکی ہے ، اس کی خشکی صِرف بارش سے ہی دُور ہوتی ہے ۔ بارش ہونے پر اس میں سَبزہ پھل سب کچھ ہوتے ہیں  ۔ یوں ہی اگر انسان پر توفیق کیبارش نہ ہو تو انسان مَحض خشکا ہے ، اگر نبوت کے بادل سے توفیق ہدایت کی بارش ہو تو اس میں ولایت اور تقویٰ وغیرہ کے پھل پھول لگتے ہیں  ۔ ‘‘  (مراٰۃ ، ۷ /  ۸۹)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واقعی آپ نے کبھی کسی مالدار کو یہ کہتے نہیں سُنا ہوگا کہ ’’بہت مال کما لیا، اب بس‘‘ بلکہ وہ مزید دولت کمانے کی کوشش کرتا رہتا ہے  ۔ اسی طرح کوئی عالِم ایسا نہیں ملے گا کہ جو یہ کہے ’’بہت پڑھ لیا ، اب مجھے مزید پڑھنے کی حاجت نہیں ‘‘بلکہ ہر عالِم مزید عِلْم کی طلب میں رہتا ہے ۔ چُنانچہ

دو حَریص

سرکارِ مدینہ ، راحتِ قلب وسینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے  : ’’مَنْہُوْمَانِ لَا یَشْبَعَانِ دوحَریص کبھی سیر نہیں ہوسکتے  ۔ ‘‘

’’مَنْہُوْْْمٌ فِی الْعِلْمِ لَا یَشْبَعُ مِنْہُ ، یعنی ایک عِلْم کا حَریص کہ کبھی حُصُولِ عِلْم سے سیر نہیں ہوتا، وَمَنْہُوْمٌ فِی الدُّنْیَا لَا یَشْبَعُ مِنْہَا، اور دوسرا مال کا حَریص کہ کبھی حُصُولِ مال سے سیر نہیں ہوتا ۔ ‘‘ (مشکاۃ ، کتاب العلم، الفصل الثالث، ۱ / ۶۸، حدیث : ۲۶۰)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دُرُود شریف کی بَرَکت سے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ قَناعَت کی دولت نصیب ہوگی اورقَناعَت ( یعنی جو مِل جائے اُس پر راضی رہنا) ہی اَصل میں غَنا (یعنی دَولتمندی ) ہے ۔ دُنْیوِی مال کا حَریص ہی حقیقت میں مُحتاج ہے خواہ کتنا ہی مالدار ہو ۔ قَناعَت وہ خزانہ ہے جو کہ خَتْم ہونے والا نہیں ہے اور دُنْیوِی مال سے یقیناً اَفْضَل ہے کیونکہ دُنْیوِی مال فانی بھی ہے اور وَبال بھی کہ قیامت میں اس کا حساب دینا پڑے گا ۔

آمنہ کے لال مجھ کو دیجئے سوزِ بلال

مالِ دُنیا سے مُجھے ہوجائے نَفرت یارسُول   (وسائلِ بخشش ، ص۱۴۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 



Total Pages: 141

Go To