Book Name:Guldasta e Durood o Salam

عبد اللّٰہ تُسْتَری عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْقوی فرماتے ہیں  : ’’میں نے کئی سال تک ایساہی کیا تو میں نے اپنے اندر اِس کا بے انتِہا مَزہ پایا ۔  میں تَنہائی میں یہ ذِکْر کرتا رہا ۔ ‘‘ پھر ایک دن میرے ماموں جان عَلَیْہِ رَحْمَۃُالرَّحمٰننے فرمایا : ’’ اے سَہْل! اللّٰہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ ہو، اسے دیکھتا ہو اوراس کا گواہ ہو، کیا وہ اس کی نافرمانی کرتا ہے ؟ ہرگز نہیں ۔ لہٰذا تُم اپنے آپ کو گُناہ سے بچاؤ ۔ ‘‘پھرماموں جانعَلَیْہ رَحْمۃُ الْحنَّان نے مجھے مکتب میں بھیج دیا ۔ میں نے سوچا کہیں میرے ذِکْر میں خَلَل نہ آجائے لہٰذا اُستاذ صاحِب سے یہ شَرْط مُقرَّر کر لی کہ میں ان کے پاس جا کر صِرْف ایک گھنٹہ پڑھوں گا اور واپَس آجاؤں گا ۔  اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ میں نے مکتب میں چھ یا سات برس کی عمر میں قُراٰن پاک حِفْظ کرلیا ۔  اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ میں روزانہ روزہ رکھتا تھا ۔ بارہ سال کی عُمر تک میں جَو کی روٹی کھاتا رہا ۔  تیرہ سال کی عُمر میں مجھے ایک مَسئلہ پیش آیا ۔ اس کے حل کیلئے گھر والوں سے اِجازت لیکر میں بَصْرہ آیا اور وہاں کے عُلما سے وہ مَسئلہ پُوچھا، لیکن ان میں سے کسی نے بھی مجھے شافی جواب نہ دیا ۔  پھر میں عَبَّادَان کی طرف چلا گیا ۔ وہاں کے مَشہور عالمِ دِین حضرتِ سیِّدُنا ابُو حَبیب حَمزہ بن اَبی عبدُاللّٰہعَباّدانی قُدِّسَ سِرُّ ہُ الرَّبّانی سے میں نے مَسئلہ پوچھا تو اُنہوں نے مجھے تَسلِّی بَخش جواب دیا ۔ میں ایک عَرصہ تک ان کی صُحبت میں رہا،  ان کے کلام سے فَیض حاصِل کرتا اور ان سے آداب سیکھتا پھر میں تُسْتَر کی طرف آگیا ۔ میں نے گزربسر کا انتِظام یوں کیا کہ میرے لیے ایک دِرْہَم کے جَو شریف خرید لئے جاتے اور انہیں پیس کر روٹی پکالی جاتی ۔ میں ہر رات سَحَری کے وَقْت ایک اُوْقِیَہ (یعنی تقریباً 70 گرام ) جَو کی روٹی کھاتا ، جس میں نہ نَمک ہوتا اور نہ ہی سالن ۔ یہ ایک دِرْہم مجھے سال بھر کیلئے کافی ہوتا ۔ پھر میں نے ارادہ کیا کہ تین دن مُسلسل فاقہ کروں گا اور اس کے بعد کھاؤں گا ۔  پھر پانچ دن، پھر سات دن اور پھر پچیس دنوں کا مُسلسل فاقہ رکھا ۔  ( یعنی 25 دن کے بعد ایک بار کھاناکھاتا ۔ ) بیس سال تک یِہی طریقہ رہا پھر میں نے کئی سال تک سَیروسیاحت کی، واپَس تُسْتَر آیا تو جب تک اللّٰہ تعالیٰ نے چاہا شب بیداری اِختیار کی ۔  حضرتِ سیِّدُناامام احمد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الاحد فرماتے ہیں  : ’’ میں نے مرتے دم تک سیِّدُنا سَہْل بن عبدُاللّٰہ تُسْتَری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقوی کو کبھی نَمَک استِعمال کرتے ہوئے نہیں دیکھا ۔  ‘‘احیاء علومُ الدِّین، کتاب ریاضۃ النفس وتہذیب الاخلاق، ۳ /  ۹۱)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس پُرفِتن دور میں دَعوتِ اسلامی کے تَحت مَدْرَسۃُ الْمَدِیْنَہ قائم ہیں جن میں دُرُست تَلَفُّظ سے قُراٰنِ پاک کی تعلیم کیساتھ ساتھ بہتر اَخلاقی تَربیت بھی کی جاتی ہے ، اس کے علاوہ اَولاد کی تربیت کرنے کیلئے دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ188 صفحات پرمُشتمل کتاب’’تربیتِ اَولاد‘‘کا ضَرور مُطالَعہ فرمائیں ۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی بَرَکت سے اپنی اور اپنے اَہل وعَیال کی اِصلاح کا جَذبہ بھی پیدا ہوگا اور اَولا د کی دُرُست تَربیت کرنے کے طریقے بھی سیکھنے کو ملیں گے ۔

اے ہمارے پیارے پیارے اللّٰہ عزَّوَجَلَّ! ہمیں اپنی ، اپنے اہلِ خانہ اور ساری دُنیا کے لوگوں کی اِصلاح کاعَظِیْم جَذبہ نصیب فرما ۔ نہ صِرف خُود کثرت سے دُرُودوسلام پڑھنے بلکہ اپنے بچوں کو بھی اس کا عادی بنانے کی توفیقِ رفیق مرحمت فرما ۔  

میری آنے والی نسلیں تیرے عشق ہی میں مچلیں

         اِنہیں نیک تو بنانا مدنی مدینے والے (وسائلِ بخشش ، ص ۲۸۸)

اٰمین بجاہ النبی الامین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

بیان نمبر : 8

70مرتبہ رَحْمتوں کا نُزُول

حضرتِ سَیِّدُنا عبدُاللّٰہ ابنِ عَمرو بن عاص  رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہما کا فرمانِ عالی شان ہے  : ’’مَنْ صَلَّی عَلَی النَّبِیِّصَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاحِدَۃً، جو شخص نبیِّ پاکصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر ایک بار دُرُودِ پاک پڑھے گا ’’صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَمَلَائِکَتُہُ سَبْعِیْنَ صَلَاۃً، اس پر اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے فِرِشتے ستّرمرتبہ رَحمت بھیجیں گے  ۔ ‘‘ (مسندِ احمد، مسندعبداللّٰہ بن عمرو بن العاص، ۲ / ۶۱۴، حدیث : ۶۷۶۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!فَیضانِ دُرُود وسَلام کے بھی کیا کہنے ، اس سے نہ صِرف دُرُودو سلام پڑھنے والا فَیضیاب ہوتا ہے بلکہ جس مُسلمان کو اس کا اِیصالِ ثواب کیا جائے اس کا بھی بیڑا پار ہوجاتا ہے  ۔ چُنانچہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی اِدارے ’’مکتبۃ المدینہ‘‘کے مَطْبُوعہ رسالے ’’قَبروالوں کی 25حِکایات‘‘ کے صفحہ 1پر ہے  :

560 قَبْر وں سے عذاب اُٹھا لیا گیا

حضرتِ سیِّدُنا عَلَّامہ ابو عبدُاللّٰہ محمد بن احمد مالِکی قُرطُبِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ القوینَقْل کرتے ہیں  :  حضرتِ سیِّدُنا حسن بَصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْقَوی کی خِدمتِ بابَرَکت میں حاضِر ہو کر ایک عورت نے عَرض کی ـ : ’’ میری جوان بیٹی فوت ہوگئی ہے ، کوئی طریقہ ارشاد ہو کہ میں اسے خَواب میں دیکھ لوں  ۔ ‘‘ آپ رَحمۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اُسے عمل بتا دیا  ۔ اُس نے اپنی مرحومہ بیٹی کو خَواب میں تو دیکھا، مگر اِس حال میں دیکھا کہ اُس کے بدن پر تارکَول (یعنی ڈامَر) کا لباس، گردن میں زنجیر اور پاؤں میں بَیڑیاں ہیں !یہ ہیبت ناک مَنْظردیکھ کر وہ عورت کانپ اُٹھی! اُس نے دوسرے دن یہ خَواب حضرتِ سیِّدُنا حسن بَصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْقَویکو سنایا ، سن کرآپ رَحمۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِبَہُت مَغْموم ہوئے  ۔ کچھ عرصے بعد حضرت ِ سیِّدُنا حسن بَصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوی نے خَواب میں ایک لڑکی کو دیکھا، جو جَنَّت میں ایک تَخت پر اپنے سر پر تاج سجائے بیٹھی ہے ۔ آپ رَحمۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِکو دیکھ کر وہ کہنے لگی : ’’ میں اُسی خاتُون کی بیٹی ہوں ، جس نے آپ کو میری حالت بتائی تھی ۔  ‘‘آپ رَحمۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا :  ’’اُس کے بَقَول تو تُو عذاب میں تھی، آخِر یہ اِنقِلاب کس طرح آیا ؟‘‘ مرحومہ بولی :  ’’قبرِستان کے قریب سے ایک شخص گُزرا اور اس نے مُصطَفٰے جانِ رَحمت ، شمعِ بزمِ ہدایتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود بھیجا، اُس کے دُرُود شریف پڑھنے کی بَرَکت سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ہم پانچ سو ساٹھقَبْر والوں سے عذاب اُٹھالیا ۔  ‘‘  (ماخوذ از التذکرۃ فی احوال الموتٰی واُمور الآخرۃ ، ۱ / ۷۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 



Total Pages: 141

Go To