Book Name:Guldasta e Durood o Salam

دُرُود و سلام کے عادی ہوا کرتے تھے ۔ اس کی ایک مثال مُلاحَظہ فرمائیے  :  

دُرُود پاک کا عاشِق

حضرت ِسیِّدُنا علَّامہ عبد الوہَّاب شَعرانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیْ فرماتے ہیں  :  ’’شیخ نُورُ الدین شَونِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنی نے مجھے بتایا کہ میں بچپن میں ’’شَونی‘‘ (نامی شہر) میں جانور چَرایا کرتا تھا، مجھے رسولِ پاک، صاحب لولاک صلَّی اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہ واٰلہٖ وسلَّم پر دُرُود شریف پڑھنے سے اس قَدَرمَحَبَّت تھی کہ میں اپنا کھانا بچوں کو دے کر ان سے کہتا کہ یہ کھا لو پھر میں اور تم سب مل کرحُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود شریف پڑھیں گے ۔ چُنانچہ ہم دن کا اکثر حصَّہ رسولِ پاک ، صاحبِ لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود پاک پڑھتے ہوئے گزار دیتے  ۔ ‘‘   (الطبقات الکبری للشعرانی، الجزء الثانی ، ۲ / ۲۳۳)

خاک ہوکر عشق میں آرام سے سونا ملا

جان کی اکسیر ہے اُلفت رسُول اللّٰہ کی  (حدائقِ بخشش ، ص۱۵۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اَہْل وعَیال کی اِصلاح کی ذِمَّہ داری

بیان کردہ حکایت ان لوگوں کے جَذْبہ کو بیدار کرنے کے لئے کافی ہے جو خُود تو نیک سیرت اور نمازی ہوتے ہیں لیکن اپنی اَولاد کی دُرُست تَربیت نہیں کرتے جسکے باعث اِنکی اَولاد بے نَمازی اور ماڈرن بن جاتی ہے ۔ ایسوں کی توجُّہ کیلئے عرض ہے کہ آپ پر اپنی بھی اور اپنے اَہل وعَیال کی اِصلاح کی بھی ذِمَّہ داری ہے ۔ چُنانچِہ پارہ 28 سُورۃُ التَّحْریمکی آیت نمبر 6میں اِرشادِباری تعالیٰ ہے  :

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓىٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ(۶) (پ، ۲۸ التحریم :  ۶)

ترجمہ کنزالایمان : اے ایمان والو! اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اُس آگ سے بچاؤ جس کے اِیندھن آدَمی اور پتھّر ہیں ، اس پر سَخت کرّے (یعنی طاقتور)فِرِشتے مُقرَّر ہیں جو اللّٰہکاحُکْم نہیں ٹالتے اور جو اُنہیں حُکْم ہووُہی کرتے ہیں  ۔

اَہْل و عَیال کوعذاب سے کس طرح بچایا جائے ؟

حضرتِسیِّدُنا صَدرُا لْافاضِل مَولانا سَیِّدمحمد نعیم ا لدِّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہادی خَزائنُ الْعِرفانمیں اِس حصّۂ آیت یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا ( اے ایمان والو ! اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اُس آگ سے بچاؤ) کے تَحت فرماتے ہیں  :  ’’اللّٰہتعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی فرمانبرداری اِختیار کرکے ، عِبادَتیں بجا لا کر، گُناہوں سے باز رہ کر اور گھر والوں کو نیکی کی ہِدایت اور بَدی سے مُمانَعت کرکے انہیں عِلْم و اَدَب سکھا کر ۔ ‘‘

رَحمتِ عالَم، نورِ مُجسَّم ، شاہِ بَنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ مُعظَّم ہے  :  ’’کُلُّکُمْ رَاعٍ وَّکُلُّکُمْ مَسْؤلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ، یعنی تُم سب اپنے مُتَعَلِّقین کے سردار و حاکِم ہو اورتُم سب سے روز قِیامت اسکی رَعِیَّت کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔ ‘‘(بخارِی، کتاب الجمعۃ، باب الجمعۃ فی القری والمدن ، ۱ / ۳۰۹، حدیث  : ۸۹۳ )

اس حدیثِ پاک کے تَحت شارحِ بُخاری حضرت علّامہ مولانا مُفْتِی محمد شریفُ الحَق اَمْجَدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْقَوی فر ما تے ہیں  :  ’’رَعِیَّت سے مُراد وہ ہے جو کسی کی نِگہبانی میں ہو ۔ اس طرح عَوام سُلطان اور حاکِم کے ، اَولاد ماں باپ کے ، تلامِذہ اَساتذہ کے ، مُریدین پیر کے رِعایا ہوئے ۔ یُونہی جو مال زَوجہ یا اَولاد یا نوکر کی سِپُردْگی میں ہو اس کی نِگہداشْت اِن پر واجب ہے ۔ جس کے ماتَحت کوئی نہ ہو وہ اپنے اَعضاء و جَوارح، اَفعال و اَقوال، اپنے اَوقات اپنے اُمور کا رَاعِی ہے ۔ اِن سب کے بارے میں وہ جَوا ب دہ ہوگا ۔ ‘‘ (نزھۃ القاری ، ۲ /  ۵۳۰)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمیں بھی چاہیے کہ اپنی اَولاد کی بہتر تَربیت کریں اوراِنہیں ’’ٹاٹا پاپا‘‘ سکھانے کے بجائے اِبتدا ہی سے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کا نام لینا سکھائیں ۔ اپنے مَدَنی مُنّے اور مَدَنی مُنّی سے کھیلتے ہوئے سکھانے کی نِیَّت سے اُن کے سامنے بار بار اللّٰہ اللّٰہ کرتے رہیں تو وہ بھی اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ زَبان کھولتے ہی سب سے پہلا لَفْظاللّٰہ کہیں گے ۔

ہمارے اَسلاف رَحِمَھُمُ اللّٰہ تَعَالٰیکس طرح بچوں کی تَربیت فرماتے تھے اسکی ایک جَھلک اس حکایت میں ملاحظہ فرمائیے ۔ چنانچہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی اِدارے ’’مکتبۃُ المدینہ ‘‘کی مَطْبُوعہ 1539 صَفْحات پرمُشْتمِل کتاب ’’فَیضانِ سُنَّت‘‘ جلد اوَّل کے صَفْحہ 56پر ہے  ۔

اِبْتد ا ئی عُمر میں بَچّو ں کی تَربیت کا طریقہ

حضرتِ سیِّدُنا سَہْل بن عبدُاللّٰہ تُسْتَریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقوی فرماتے ہیں  :  میں تین سال کی عُمر کا تھا کہ رات کے وَقت اُٹھ کر اپنے ماموں حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سَوَّارعَلَیْہ رَحْمۃُالْغفَّار کو نَماز پڑھتے دیکھتا، ایک دن اُنہوں نے مجھ سے فرمایا :  ’’کیا تُو اُس اللّٰہ تعالیٰ کو یاد نہیں کرتا جس نے تجھے پیدا فرمایا؟ ‘‘ میں نے پوچھا  :  میں اسے کس طرح یاد کروں ؟ فرمایا : ’’ جب رات سونے لگو تو زَبان کو حَرَکت دیئے بِغیرمَحْض دل میں تین مرتبہ یہ کَلِمَات کہو :  اَللّٰہُ مَعِیَ ، اَللّٰہُ نَاظِرٌ اِلَیَّ، اللّٰہُ شَاھِدِی‘‘یعنی اللّٰہ تعالیٰ میرے ساتھ ہے ، اللّٰہ تعالیٰ مجھے دیکھتا ہے اللّٰہ تعالیٰ میرا گواہ ہے ۔ ‘‘

حضرتِ سیِّدُنا سَہْل بن عبدُاللّٰہ تُسْتَریعَلَیْہ رَحْمۃُ اللّٰہ الْقَویارشاد فرماتے ہیں  : ’’ میں نے چند راتیں یہ کَلِمَات پڑھے اور پھر اُن کو بتایا  ۔ ‘‘ اُنہوں نے فرمایا : ’’ اب ہر رات سات مرتبہ پڑھو، میں نے ایسا ہی کیا اور پھراُن کومُطَّلع کیا  ۔ ‘‘ فرمایا : ’’ ہر رات گیارہ مرتبہ یہیکَلِمَات پڑھو ۔ ‘‘ (فرماتے ہیں ) میں نے اِسی طرح پڑھا تو میرے دِل میں اس کی لَذَّت معلوم ہوئی ۔  جب ایک سال گزر گیا تو میرے ماموں جان عَلَیْہِ رَحْمَۃُالرَّحمٰن نے فرمایا  : ’’میں نے جو کچھ تُمہیں سکھایا ہے اسے قَبْر میں جانے تک ہمیشہ پڑھتے رہنا اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ یہ تمہیں دنیا و آخِرت میں نَفْع دے گا  ۔ ‘‘ سیِّدُنا سَہْل بن



Total Pages: 141

Go To