Book Name:Guldasta e Durood o Salam

بیان کرتے ہوئے اپنی مشہور اور مقبولِ زمانہ کتاب ’’فتاویٰ رضویہ شریف‘‘ جلد6، صفحہ 221پر ارشاد فرماتے ہیں  :  

نامِ پاک حُضُور پُرنُورسیِّددو عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مختلف جلسوں (یعنی مجلسوں ) میں جتنے بار لے یا سُنے ہر بار دُرُود شریف پڑھنا واجب ہے ، اگر نہ پڑھے گاگُنہگار ہوگا اورسَخت وعیدوں میں گرفتار ، ہاں اس میں اِختلاف ہے کہ اگر ایک ہی جلسہ (یعنی مجلس )میں چند بار نامِ پاک لیا یا سُنا تو ہر بار واجب ہے یا ایک بار کافی اور ہر بارمُسْتحب ہے ، بہت(سے ) علما قولِ اَوَّل کی طرف گئے ہیں ۔

ان کے نزدیک ایک جَلسہ میں ہزار بار کلمہ شریف پڑھے تو ہر بار دُرُود شریف بھی پڑھتا جائے اگر ایک بار بھی چھوڑ ا گُنہگار ہُوا ۔ دیگر عُلما نے اُمَّت کی آسانی کی خاطِر قولِ دوم (کو)اِختیار کیا ، ان کے نزدیک ایک جَلسہ میں ایک بار دُرُود (شریف پڑھ لینا) اَدائے واجب کے لئے کِفایت کرے گا ، زِیادہ کے تَرک سے گُنہگار نہ ہوگا مگر ثوابِ عظیم وفَضلِ جَسِیْم سے بیشک مَحروم رہا ۔  بہرحال مُناسِب یہی ہے کہ ہر بارصَلَّی اﷲتَعالٰی عَلَیْہ وَسَلَّمکہتا جائے کہ ایسی چیز جس کے کرنے میں باِلاتفاق بڑی بڑی رَحمتیں بَرَکتیں اور نہ کرنے میں بِلاشُبہ بڑے فَضْل سے مَحرومی اور ایک مَذْہبِ قَوی پر گُناہ و مَعْصِیَّت ، عاقِل کا کام نہیں کہ اُسے ترک کرے ۔

صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا اے ہمارے پیارے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ! ہمیں ہرمَجلس میں اپنا اور اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ذِکرِ خَیرکرنے کی توفیق عطافرما اورحُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلامکی ذاتِ پاک پر کثرت سے دُرُودِپاک پڑھنے کی توفیق عطا فرما ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

بیان نمبر  : 6

قُربتِ سرکار کے حَقْدار

سرکارِ مدینہ ، راحتِ قَلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے  :  ’’اَوْلَی النَّاسِ بِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اَکْثَرُہُمْ عَلَیَّ صَلَاۃً ، یعنی قیامت کے دن لوگوں میں سب سے زِیادہ میرے قَریب وہ شخص ہوگا جو سب سے زِیادہ مجھ پر دُرُود شریف پڑھتا ہوگا  ۔ ‘‘ (ترمذی، أبواب الوتر، باب ماجاء فی فضل الصلاۃ علی النبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ، ۲ / ۲۷، حدیث : ۴۸۴)

مُفسّرِ شہیرحکیم الاُمَّت حضرت مُفْتِی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہ رَحْمۃ اللّٰہ الْقَوِی اس حدیثِ پاک کے تَحت ارشاد فرماتے ہیں  :  ’’قیامت میں سب سے آرام میں وہ ہوگا جو حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ رہے اورحُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ہَمراہی نصیب ہونے کا ذَرِیعَہ دُرُودشریف کی کثرت ہے اس حدیثِ پاک سے معلوم ہوا کہ دُرُود شریف بہترین نیکی ہے کہ تمام نیکیوں سے جَنَّت مِلتی ہے اور اس سے بزمِ جَنَّت کے دُولہا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملتے ہیں  ۔ ‘‘ (مراٰۃ، ۲ / ۱۰۰)

حشر میں کیا کیا مزے وارفتگی کے لوں رَضا

لوٹ جاؤں پا کے وہ دامانِ عالی ہاتھ میں (حدائق بخشش، ص۱۰۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سرکار ِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود و سَلام بھیجنا کسی وَقت، کسی جگہ اورکسی حالت وکیفیت کے ساتھ مختص نہیں ہے ۔ ہر حالت میں ہمہ دَم بہر جگہ یہ عمل باعثِ سَعادَت وفَضِیلَت اور ذَرِیعہ صَلاح و فَلاح ہے لیکن مُعْتبررِوایات کے مُطابق ان چوبیس اَوقات و مَقامات پر دُرُود و سَلام پڑھنا باعثِ فَضِیلت و مُورِثِ خَیر وبَرَکت ہے بلکہ اسکی تاکید بھی آئی ہے ۔

بُزُرْگانِ دِین کا دَسْتُور

(1) جب سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کانامِ نامی زبان پر لائے یا سُنے ۔ چنانچہ اَصْحاب و تابِعین وجَمیع ائمہ مُحدِّثین وعُلمائے صالحین (رَحِمَھُمُ اللّٰہُ اَجْمَعِیْن)کا ہمیشہ یہی دَستور رہا ہے کہ وہ کبھی اسمِ مُبارک بغیر صلوٰۃ وسَلام کے ذکر نہیں کرتے ۔ (القول البدیع، الباب الخامس فی الصلاۃ علیہ فی اوقات مخصوصہ، ص۴۵۵، مفھوماً)اسی طرح(مُحرِّر کو بھی چاہیے کہ)جب اسمِ مُبارک لکھے تو دُرُودوسَلام ضَرور لکھے ، جب تک تَحریر میں اسمِ مُبارک باقی رہے گا فِرِشتے لکھنے والے پر دُرُود بھیجتے رہیں گے ۔ (القول البدیع ، الباب الخامس فی الصلاۃ علیہ فی اوقات مخصوصہ، ص۴۶۰، مفہوماً)

حُصُولِ شَفاعَت کا آسان وَظِیْفہ

(3، 2)ہرصُبح و شام دُرُود شریف ضرور پڑھنا چاہیے ۔ کہ رسُول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’مَنْ صَلَّی عَلَیَّ حِیْنَ یُصْبِحَ عَشْراً وَحِیْنَ یُمْسِیَ عَشْراً اَدْرَکَتْہُ شَفَاعَتِیْ یَوْمَ اْلقِیَامَۃِ، یعنی جو روزانہ صُبح وشام دَس دَس بار دُرُود شریف پڑھے تو قیامت کے دن اسکو میری شَفاعَت نصیب ہوگی ۔ ‘‘    (مجمع الزوائد ، کتاب الاذکار، ۱۰ / ۱۶۳، حدیث : ۱۷۰۲۲)

(4)جب کسی مَجلس میں بیٹھیں یا اُٹھ کرجانے لگیں تودُرُود شریف ضَرور پڑھ لینا چاہیے  ۔ کہ حضرتِ علّامہ مَجدُالدِّین فَیروز آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الہادی سے مَنقول ہے  : ’’جب کسی مَجلس میں (یعنی لوگوں میں )بیٹھواورکہو :  ’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ وَ صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّدٍ‘‘تواللّٰہعَزَّوَجَلَّ تم پر ایک فِرِشتہ مُقرَّر فرما دے گا جوتُم کو غیبت سے بازرکھے گا ۔ اور جب مَجلس سے اُٹھو تو کہو :  بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ وَ صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّدتو فِرِشتہ لوگوں کوتُمہاری غیبت کرنے سے بازرکھے گا  ۔ ‘‘(القول البد یع، الباب الثانی فی ثواب الصلاۃ والسلام علی رسول اللّٰہ، ص۲۷۸)

قَبُولِیَّتِ دُعا کی چابی

(5) دُعا سے پہلے ، درمیان اور آخر میں دُرُود شریف پڑھنا چاہیے ۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ دُعا دَرَجہ قَبولیَّت تک پہنچے گی ۔  (القول البد یع، الباب الخامس فی الصلاۃ علیہ فی اوقات مخصوصۃ، ص۴۱۷)

(6)مسجد میں داخل ہوتے اور مسجد سے نکلتے وَقت ۔ (القول البد یع ، الباب الخامس فی الصلاۃ علیہ فی اوقات مخصوصۃ، ص ۳۶۳ )

میری شَفاعَت لازِم ہے

(7) اَذان کے بعددُرُودوسلام اور دُعائے وسیلہ پڑھنے کا بھی معمول بنالیجئے کہ ایسا کر



Total Pages: 141

Go To