Book Name:Guldasta e Durood o Salam

وہ اگر جلوہ کریں کون تماشائی ہو

علامہ زُرْقانی قُدِّ سَ سرُّہُ النُّوْرَانی امام قرطبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہالْقَوِی سے  نقل فرماتے ہیں  :  ’’ کہ حُضُورِاقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا تمام تر حُسن و جمال ہم پر ظاہر نہیں ہوا ، اگر آپ کا کامل حُسن ہم پرظاہرہوجاتا توہماری آنکھیں اس جلوۂ زیبا کو دیکھنے کی تاب نہ لاتیں ۔ ‘‘ (زرقانی علی المواہب، المقصد الثالث ، الفصل الاول فی کمال خلقتہ وجمال صورتہ، ۵ / ۲۴۱)

حضرت شاہ وَلیُّ اللّٰہ محدِّث دِہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہالْقَوِی فرماتے ہیں  :   ’’میرے والدِ ماجد شاہ عبد الرَّحیم صاحب نے حُضُورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو خَواب میں دیکھا تو عرض کی  :  ’’یارسُولَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! یوسف عَلَیْہِ السَّلام کو دیکھ کر زنانِ مِصْر نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے اور بعض لوگ ان کو دیکھ کر مر جاتے تھے مگر آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو دیکھ کر کسی کی ایسی حالت نہیں ہوئی ۔ ‘‘ توحُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا  :  ’’ میرا جمال لوگوں کی آنکھوں سے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے غیرت کی وَجہ سے چُھپارکھا ہے اور اگر آشکار ہوجائے تو لوگوں کا حال اس سے بھی زِیادہ ہوجو یوسف عَلَیْہِ السَّلام کو دیکھ کر ہوا کرتا تھا ۔                (ذکرجمیل ، ص۷۸)

اک جھلک دیکھنے کی تاب نہیں عالم کو

وہ اگر جلوہ کریں کون تماشائی ہو   (ذوقِ نعت ، ص۱۴۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّ  وَجَلَّ! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے اپنے حبیبِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو  کس قَدرحُسن و جمال اور خُوبی و کمال سے نوازا اگر ہم اپنی زبان سے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلام کی تعریف و توصیف بیان کرنا چاہیں یا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حسن و جمال کوتَحریر میں لانا چاہیں تو یہ صفحات کم پڑجائیں گے ہماری زِندگیاں خَتم ہوجائیں گی مگر پھر بھی حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے تمام اَوصاف بیان کرنے کا حق اَدانہ ہوگا ۔ جیسا کہ

بُلبلِ باغِ جنا ں ، شاعرِخُوش بیاں ، امام احمد رضاخاں  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحمٰن نے اپنے نعتیہ دیوان ’’حدائقِ بخشش ‘‘کے ایک کلام میں حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اَوصافِ حمیدہ بیان فرماتے ہوئے گویا اس بات کا اِقرار کیا کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اَوصاف اَعداد و شُمار سے ماوراء ہیں آپ کے اَوصاف بیان کرکے انہیں کُل اوصاف قرار دینا میرے نزدیک عیب ہے کیونکہ آپ کی خُوبیاں تو حتمی طور پرشُمار ہی نہیں کی جاسکتیں چنانچہ عرض گزار ہیں  :  

تیرے تو وَصف عیب تنا ہی سے ہیں بَری                    حیراں ہوں میرے شاہ میں کیا کیا کہوں تجھے

کہہ لے گی سَب کچھ اُن کے ثناخواں کی خامشی           چپ ہورہا ہے کہہ کے میں کیا کیاکہوں تجھے                         (حدائقِ بخشش، ص۱۷۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!واقعی ہم حُضُورجانِ عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اَوصاف و کمال بیان کرنے کا ہرگز ہرگز حق ادا نہیں کرسکتے لیکن آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ذِکر سے بَرَکت حاصل کرنے کیلئے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے چند اَعضائے شریفہ کے تَناسُب اور حُسن و جمال کا تذکرہ سن کر اپنے لئے رَحمتوں اور بَرَکتوں کا سامان اکٹھا کرتے ہیں  ۔

جسم مُبارک

حضرت سَیِّدُناابوہُریرہ  رَضِیَ اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہ کا بیان ہے کہ حُضُورِانور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جسمِ اَقدس کا رنگ گورا سپید (سفید)تھا ۔  ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا آپ کا مُقدَّس بدن چاندی سے ڈھال کر بنایا گیا ہے  ۔ (الشمائل المحمدیۃ، باب ماجاء فی خلق رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، ص۲۵، حدیث : ۱۱)

قد مُبارَک

حضرت سَیِّدُنا انس  رَضِیَ اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہ کا بیان ہے کہ حُضُور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنہ بہت زِیادہ لمبے تھے نہ پَستہ قد بلکہ آپ دَرمیانی قد والے تھے اور آپ کا مُقدَّس بدن اِنتہائی خُوب صُورت تھا جب چلتے تھے تو کچھ خمیدہ ہو کر (جھک کر)چلتے تھے ۔ (الشمائل المحمدیۃ، باب ماجاء فی خلق رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، ص۱۶، حدیث  : ۲)

مُقَدَّس بال

حُضُورِ انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے مُوئے مبارک نہ گھونگھر دار تھے نہ بالکل سیدھے بلکہ ان دونوں کیفیتوں کے دَرمیان تھے ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مُقَّدس بال پہلے کانوں کی لو تک تھے پھر شانوں تک خُوبصورت گیسو لٹکتے رہتے تھے مگر حَجَّۃُ الْوَدَاع کے موقع پر آپ نے اپنے بالوں کو اُتروا دیا ۔ ا علیٰ حضرت مولانا شاہ اامام حمد رضا خان  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے آپ کے مُقدَّس بالوں کی ان تینوں صُورتوں کو اپنے دو شعروں میں بہت ہی نفیس و لطیف انداز میں بیان فرمایا ہے کہ

گوش تک سنتے تھے فریاد اب آئے تادوش                           کہ بنیں خانہ بدوشوں کو سہارے گیسو

آخرِ حج غمِ اُمَّت میں پریشاں ہو کر                                      تیرہ بختوں کی شفاعت کو سدھارے گیسو      (حدائقِ بخشش، ص۱۱۹)

نورانی آنکھ

آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی چشمانِ مُبارک بڑی بڑی اور قُدرتی طور پر سُرمگیں تھیں ۔ پلکیں گھنی اور دراز تھیں ۔ پُتلی کی سیاہی خُوب سیاہ اور آنکھ کی سفیدی خُوب سفید تھی جن میں باریک باریک سُرخ ڈورے تھے ۔  (الشمائل المحمدیۃ، باب ماجاء فی خلق رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، ص۱۹، حدیث : ۶ ملتقطاً)

آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی مُقدَّس آنکھوں کا یہ اِعجاز ہے کہ آپ بیک وَقت آگے پیچھے ، دائیں بائیں ، اُوپرنیچے ، دن رات، اندھیرے اُجالے ، میں یَکساں دیکھا کرتے تھے ۔ (الخصائص الکبری، باب



Total Pages: 141

Go To