Book Name:Guldasta e Durood o Salam

خلق سے اولیا اولیا سے رسل                                اور رسولوں سے اعلی

جس کے نمک کی قسم                                         وہ ملیحِ دِل آرا ہمَارا نبی   (حدائقِ بخشش، ص۱۳۸)

            اُمُّ الْمؤمِنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدّیقہ رَضِیَ اﷲ تَعالٰی عَنْہَا   فرماتی ہیں  :

فَلَوْ سَمِعُوْا فِیْ مِصْرَ اَوْصَافَ خَدِّہِ                                                                          لَمَا بَذَ لُوْا فِیْ سَوْمِ یُوْسُفَ مِنْ نَقْدٍ

یعنیاگرآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے رخسار مبارک کے اوصاف اہل مصر سن پاتے تو جناب یوسف عَلَیْہِ السَّلام کی قیمت لگانے میں سیم و زر (مال ودولت)نہ بہاتے ۔

لَواحِیْ زُلَیْخَا لَوْرَأَیْنَ جَبِیْنَہُ                                                                                    لَاَثَرْنَ بِالْقَطْعِ الْقُلُوْبِ عَلَی الْاَیْدِی

یعنیاگر زُلیخا کو مَلامت کرنے والی عورتیں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی جبینِ انور دیکھ پاتیں تو ہاتھوں کے بجائے اپنے دل کاٹنے کو ترجیح دیتیں ۔ (زرقانی علی المواہب ، عائشہ ام المومنین، ۴ / ۳۹۰)

حُسنِ یوسف پہ کٹیں مصرمیں انگشت زناں

سرکٹاتے ہیں تیرے نام پہ مردانِ عرب (حدائقِ بخشش، ص۱۳۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللّٰہتعالیٰ نے حُضُورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو جس طرح کمالِ سیرت میں تمام اَوَّلین و آخرین سے مُمتاز اور اَفضل و اَعلیٰ بنایا اسی طرح آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو جمالِ صُورت میں بھی بے مثل و بے مثال پیدا فرمایا ۔ ہم اور آپ حُضُورِ اکرمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شانِ بے مثال کو بھلا کیا سمجھ سکتے ہیں ؟ حضرات صحابۂ کرام عَلَیْھِم الرِّضْوان جو دن رات سفر و حضر میں جمالِ نَبُوَّت کی تجلیاں دیکھتے رہے اُنہوں نے محبوبِ خدا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جمالِ بے مثال کے فَضْل و کمال کو جن لفظوں میں بیان فرمایااسے ملاحظہ فرمائیے ۔ چنانچہ

سرکار کا حُسن و جَمال

حضرت سَیِّدُنا براء بن عازِب رَضِیَ اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  :  ’’کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ اَحْسَنَ النَّاسِ وَجْہًا وَاَحْسَنَہُ خُلْقاً، یعنی رسُولُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تمام لوگوں میں خُوبصورت ترین اور سب سے اچھے اَخلاق کے مالک تھے ۔ ‘ ‘ (بخاری ، کتاب المناقب، باب صفۃ النبی، ۲ / ۴۸۷، حدیث : ۳۵۴۹)

اُمُّ الْمؤمِنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدّیقہ رَضِیَ اﷲُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں  :  ’’ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہ (صَلَی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم)اَحْسَنَ النَّاسِ وَجْہاً وَاَنْوَرَہُمْ لَوْناً، یعنی رسُولُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سب سے زِیادہ خُوبصورت اور خُوش رنگ تھے ‘‘مزید فرماتی ہیں  :  ’’لَمْ یَصِفْہُ وَاصِفٌ قَطُّ اِلَّا شَبَّہَ وَجْہَہُ بِالْقَمَرِ لَیْلَۃِ الْبَدْرِ، یعنی جس نے بھی آپ کی توصیف بیان کی اس نے آپ کو چودھویں کے چاند سے تشبیہ دی ، وَکاَنَ عَرْقُہُ فِیْ وَجْہِہِ مِثْلَ الْلُؤْلُؤ ، یعنی آپ کے پسینہ کی بوند آپ کے چہرۂ انور میں یوں معلوم ہوتی جیسے موتی ۔ ‘‘   (الخصائص الکبری، باب الآیۃ فی عرقہ الشریف، ۱ /  ۱۱۵)

چہرۂ اَنور کی تابانی

حضرت سَیِّدُنا  کَعْب بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  :  ’’وَکَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا سُرَّ اسْتَنَارَ وَجْہُہُ حَتَّی کَاَنَّہُ قِطْعَۃُ قَمَرٍ یعنی جب رسُولُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خُوش ہوتے تو چہرہ ٔانور خوشی سے دَمک اُٹھتا اور یوں معلوم ہوتا گویا چاند کا ٹکڑا ہے ۔ ‘‘(بخاری ، کتاب المناقب، باب صفۃ النبی، ۲ / ۴۸۸، حدیث : ۳۵۵۶)

حضرت سَیِّدُناابوہُریرہ  رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں  : ’’مَا رَاَیْتُ شَیْئاً اَحْسَنَ مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰہ صَلَی اللّٰہُ عَلَیْہ وَسَلَّمَ کَاَنَّ الشَّمْسَ تَجْرِیْ عَلٰی وَجْہِہٖ یعنی میں نے رسُول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے زِیادہ حسین کسی کو نہیں دیکھا، گویا ایسا معلوم ہوتا کہ سورج آپ کے چہرے میں چل رہا ہو ۔  ‘‘(مشکاۃ، کتاب الفضائل ، باب فضائل سید المرسلین، ۲ / ۳۶۲، حدیث : ۵۷۹۵ )

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! صحابۂ کرام عَلَیْھِمُ الرِّضْوان نے اپنے اپنے اَلفاظ میں حُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے حُسن و جمال کوبیان فرمایا کسی نے چاند کہا تو کسی نے سورج سے تشبیہ دی یہ صرف سمجھانے کیلئے ہے ورنہ حُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام  کا حُسن و جمال توبے مثل و بے مثال ہے ۔

صحابی ٔرسول حضرت سَیِّدُنا جابر بن سمرہ   رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں ـ :  ’’ایک مرتبہ میں نے رسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کوچاندنی رات میں دیکھا، میں کبھی چاند کی طرف دیکھتا اور کبھی آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چہرۂ اَنور کو دیکھتا تو مجھے آپ کا چہرہ چاند سے بھی زِیادہ خُوبصورت نظر آتا تھا ۔ ‘‘(الشمائل المحمدیۃ، باب ماجاء فی خلق رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، ص۲۴، حدیث : ۹)

نور کی خیرات لینے دوڑتے ہیں مہرو ماہ

اُٹھتی ہے کس شان سے گَردِ سواری واہ واہ(حدائقِ بخشش، ص۱۳۴)

یہ جو مہر و مَہ پہ ہے اطلاق آتا نور کا

بھیک تیرے نام کی ہے استعارہ نور کا(حدائقِ بخشش، ص۲۴۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بیان کر دہ رِوایات میں اوران کے علاوہ اکثر روایات میں صحابۂ کرام عَلَیْھِمُ الرِّضْواننے چہرۂ انور کو چاند سے تشبیہ دی حالانکہ سورج کی روشنی چاند سے زِیادہ ہوتی ہے اس کی حکمت یہ ہے کہ چاند رُوئے زمین کو اپنی تابانیوں سے بھر دیتاہے اور دیکھنے والوں کو اس سے اُنسیت حاصل ہوتی ہے اور بغیر کسی تکلیف کے اس پر نظریں جمانا ممکن ہوتا ہے جبکہ سورج میں یہ سب ممکن نہیں کیونکہ اسے دیکھنے سے آنکھیں چُندھیا جاتی ہیں  ۔ (زرقانی علی المواہب، المقصد الثالث ، الفصل الاول فی کمال خلقتہ وجمال صورتہ، ۵ / ۲۵۸)

          یادرہے !صحابۂ کرام عَلَیْھِمُ الرِّضْوان نے حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم