Book Name:Guldasta e Durood o Salam

             سُلطا نِ دوجہان  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکایہ فرمانِ اجازت نشان موجودہے  ۔ ’’مَنْ سَنَّ فِی الْاِسْلَامِ سُنَّۃًحَسَنَۃً فَعُمِلَ بِھَا بَعْدَہٗ کُتِبَ لَہٗ مِثْلُ اَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِھَا وَلَایَنْقُصُ مِنْ اُجُوْرِھِمْ شَیْئٌ ، یعنی جس شخص نے مسلمانوں میں کوئی نیک طریقہ جاری کیا اور اسکے بعد اس طریقے پر عمل کیا گیا تو اس طریقے پر عمل کرنے والوں کا اَجر بھی اسکے ( یعنی جاری کرنے والے ) کے نامۂ اَعمال میں لکھا جائے گا اور عمل کرنے والوں کے اَجر میں کمی نہیں ہوگی  ۔ ‘‘ (مسلم کتاب العلم ، باب من سن سنۃ حسنۃ اوسیئۃالخ، ص۱۴۳۷، حدیث : ۲۶۷۳)

            مَطْلب یہ کہ جو اسلام میں اچھّاطریقہ جاری کرے وہ بڑے ثواب کا حقدار ہے توبلاشُبہ جس خُوش نصیب نے اَذان واِقامت سے قبل دُرُود وسلام کا رَواج ڈالاہے وہ بھی ثوابِ جارِیّہ کامُسْتَحق ہے ، قِیامت تک جومسلمان اِس طریقے پر عمل کرتے رہیں گے اُن کوبھی ثواب ملے گااورجاری کرنے والے کو بھی ملتا رہے گا اور دونوں کے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہوگی ۔  (فیضانِ اذان، نماز کے احکام)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اے ہمارے پیارے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ! ہمیں ہروَقت نبیِّ کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر کثرت سے دُرُودِپاک پڑھنے کی توفیق عطافرما اور حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی سُنَّتوں  پر چلتے ہوئے اپنی زندگی گزارنے کی سعادت نصیب فرما ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

٭٭٭٭

بیان نمبر 63 :

جُمُعہ کے دن دُرُودِ پاک کی فضیلت

اُمُّ الْمؤمِنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدّیقہ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہاسے روایت ہے کہنبیِّ رَحمت، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ شفاعت نشان ہے  :  ’’مَنْ صَلّٰی عَلَیَّ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ  کَانَتْ شَفَاعَۃٌ لَّہٗ عِنْدِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃ ، جو شخص جُمُعہ کے دن مجھ پر دُرُود شریف پڑھے گاتو بروزِ قیامت اس کی شفاعت میرے ذِمۂ کرم پر ہوگی ۔ ‘‘   (کنز العمال، کتاب الاذکار، الباب السادس فی الصلاۃ علیہ علی آلہ، ۱ / ۲۵۵، الجزء الاول ، حدیث : ۲۲۳۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللّٰہتبارک وتعالیٰ خالقِ کائنا ت ہے دُنیا کی ہر چیز اسی کی بنائی ہوئی ہے اگر ہم اپنے گردوپیش پر طائرانہ نگاہ دوڑائیں تو ہمیں اَندازہ ہوگا کہ یہ جن و اِنسان ، مٹیالی زَمین اورنِیلگوں آسمان ، لَق ودَق صحرا، سرسبز میدان ، خُوشنما باغات ، لہلہاتے کھیت ، مہکتے پُھول ، اَنواع واَقسام کے پھل، بہتی نہریں ، اُبلتے چشمے ، چمکتے ستارے ، خُوبصورت مہتاب، روشن آفتاب ، لاجواب مَعْدَنیّات ، مختلف جمادات اور بے شُمار حیوانات اللّٰہتعالیٰ ہی کی مخلوق ہیں جیسا کہ پارہ 24، سورۃُ الزُّمر کی آیت نمبر 62میں فرمان باری تعالیٰ ہے  :

اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ٘-

ترجمۂ کنزالایمان : اللّٰہہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے  ۔

اللّٰہ تبارک و تعالیٰ نے ان تمام حسین وجمیل اشیا کو پیدا فرما کر پوری دُنیا کو حُسن وجمال بخشااورپوری کائنات کے حُسن سے بڑھ کر حضرتِ سیِّدُنا یوسف عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکوجمال بخشا ۔ آپ کے حُسن و جما ل کا یہ عالَم تھا کہ جب مصر کی عورتوں نے آپ کو دیکھا توآپ کے حُسن میں ایسی گُم ہوئیں کہ بے خودی کے عالم میں اپنی اُنگلیاں کاٹ ڈالیں  ۔ اس واقعے کو قرآن پاک نے ان الفاظ کے ساتھ بیان کیا ہے  :

فَلَمَّا رَاَیْنَهٗۤ اَكْبَرْنَهٗ وَ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ وَ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا هٰذَا بَشَرًاؕ-اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا مَلَكٌ كَرِیْمٌ(۳۱) (پ۱۲، یوسف : ۳۱)

ترجمۂ کنزالایمان : جب عورتوں نے یوسف کو دیکھا اس کی بڑائی بولنے لگیں ، اور اپنے ہاتھ کاٹ لئے ، اور بولیں اللّٰہ کو پاکی ہے یہ توجنسِ بشر سے نہیں ، یہ تو نہیں مگر کوئی معزّز فرشتہ  ۔

حضرتِ صدر ا لْافاضِل مولانا سیِّدمحمد نعیم الدین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہالْہَادِی خَزائنُ العرفانمیں اس آیتِ کریمہ کے تَحت فرماتے ہیں  : ’’کیونکہ اُنہوں نے اس جَمالِ عالَم اَفروز کے ساتھ نَبُوَّت و رسالت کے اَنوار اورتَواضُع و اِنکسار کے آثار اور شاہانہ ہیبت واِقتدار اور لذائذِ اَطعِمہ اور صُوَرِ جمیلہ کی طرف سے بے نیازی کی شان دیکھی ، تَعَجُّب میں آگئیں اور آپ کی عَظْمَت و ہیبت دلوں میں بھر گئی اورحُسن و جمال نے ایسا وارفتہ کیا کہ ان عورتوں کو خود فراموشی ہو گئی ۔  اور (ان کے ) دل حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلوۃُ وَ السَّلام کے ساتھ ایسے مشغول ہوئے کہ ہاتھ کاٹنے کی تکلیف کا اَصلاً اِحساس نہ ہوا  ۔ ‘‘

            یہ تو حضرتِ سیِّدُنا یوسف عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے حُسن کا عالم تھا کہ جنہیں تمام مخلوق سے بڑھ کر حُسن و جمال عطاکیا گیا ۔ مگر یاد رہے کہ اس کائنات میں ایک ایسی مُبارک ہَسْتی بھی ہے جو حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام سے بڑھ کر پیکرِ حُسن و جمال ہے  ۔ وہ حُسن کے شاہکار حبیبِ پروَرْدگار حضرت محمدمُصْطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہیں جن کا حُسن ، یوسف عَلَیْہِ السَّلام سے بھی بڑھ کر ہے ۔ حضرت یوسف کوحُسن و جمال کا ایک جز عطا ہوا اور حُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃ وَالسَّلام  کوحُسنِ کل عطا کیا گیا ۔  جیساکہ

            حضرتِ علّامہ جلالُ الدّین سُیُوطِی شافِعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہالْکَافِی حافظ ابو نعیم سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں  : ’’حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلام کو تمام اَنبیا و مُرسلین عَلَیْھِمُ الصَّلٰوۃُ والسَّلامبلکہ تمام مخلوق سے بڑھ کرحُسن عطاکیا گیا ، مگر ہمارے نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ایسا حُسن و جمال عطا کیا گیا جو کسی کو عطانہیں ہوا ۔ یوسف عَلَیْہِ السَّلام کو حُسن کا ایک جز عطا کیا گیا جبکہ ہمارے نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کوحُسن کل عطاکیا گیا ۔  

سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمَارا نبی                                   سب سے بالا و والا ہمَارا نبی

 



Total Pages: 141

Go To