Book Name:Guldasta e Durood o Salam

بھرا جو مثلِ نظر طرارا وہ اپنی آنکھوں سے خود چھپے تھے

خِرد سے کہدو کہ سر جھکا لے گماں سے گزرے گزرنے والے

پڑے ہیں یاں خود جہت کو لالے کسے بتائے کدھر گئے تھے (حدائقِ بخشش، ص۲۳۵)

                پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اللّٰہ تعالیٰ کاخاص قرب حاصل کیا اسی مقامِ قرب کو قرآنِ مجید میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے  : ’’ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰی ‘‘وہاں کیا ہوا، یہ بھی میری اور آپ کی عقل کی رسائی سے بالا تر ہے ۔

                پھر جب آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمعالمِ ملکوت کی اچھی طرح سیر فرما کر اور آیاتِ الٰہیہ کا مُعاینہ و مُشاہَدہ فرما کر آسمان سے زمین پر تشریف لائے اوربَیْتُ الْمَقْدِس میں داخل ہوئے اور بُراق پر سوار ہو کر مَکّہ مُکرَّمہ کے لیے روانہ ہوئے ۔ راستہ میں آپ نے بَیْتُ الْمَقْدِس سے مَکّہ تک کی تمام منزلوں اور قریش کے قافلہ کو بھی دیکھا ۔  ان تمام مراحل کے طے ہونے کے بعد آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مسجدِحرام میں پہنچ کر چونکہ ابھی رات کا کافی حصہ باقی تھا ، سوگئے ۔

خدا کی قُدرت کہ چاند حق کے ، کروڑوں منزل میں جلوہ کرکے

ابھی نہ تاروں کی چھاؤں بدلی، کہ نور کے تڑکے آلیے تھے  (حدائقِ بخشش، ص۲۳۷)

            اور صُبحکو بیدار ہوئے اور جب رات کے واقعات کا آپ نے قریش کے سامنے تَذْکرہ فرمایا تو رؤسائے قریش کو سخت تَعَجُّب ہوا یہاں تک کہ بعض کو ر باطنوں نے آپ کو جھوٹا کہا اور بعض نے مختلف سوالات کیے چونکہ اکثر رُؤسائے قریش نے بار بار بَیْتُ الْمَقْدِس کو دیکھا تھا اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ حُضُور  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکبھی بھی بَیْتُ الْمَقْدِس نہیں گئے ہیں اس لیے اِمتحان کے طور پر ان لوگوں نے آپ سے بَیْتُ الْمَقْدِس کے دَر و دِیوار اور اس کی محرابوں وغیرہ کے بارے میں سوالوں کی بوچھاڑ شُروع کر دی ۔ اس وَقت اللّٰہ تعالیٰ نے فوراً ہی آپ کی نگاہ نَبُوَّت کے سامنے بَیْتُ الْمَقْدِس کی پوری عمارت کا نقشہ پیش فرما دیا ۔ چُنانچہ کفارِ قریش آپ سے سوال کرتے جاتے تھے اور آپ عمارت کو دیکھ دیکھ کر ان کے سوالوں کا ٹھیک ٹھیک جواب دیتے جاتے تھے ۔ (سیرت مصطفی ، ص۷۳۵، بحوالہ بخاری کتاب الصلوٰۃ، کتاب الانبیاء ، کتاب التوحید، باب المعراج وغیرہ مسلم ، باب المعراج و شفاء، جلد۱ ، ص ۱۸۵ و تفسیر روح المعانی ، ۱۵  /  ۴تا ۱۰ وغیرہ کا خلاصہ)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!واقعۂ مِعْراج کی تصدیق میں ایمان کا امتحان ہے کہ مختصر سی گھڑی میں بیداری کے عالم میں جسم شریف کے ساتھ آسمان و عرشِ اَعظم تک بلکہ عرش سے بھی اُوپر حدِلامکان تک تشریف لے جانا عقل سے بالاتر ہے اسی وَجہ سے وہ لوگ جن کے دل نورِایمان سے خالی تھے اُنہوں نے اس عظیم واقعے کو نہ صرف جُھٹلایا بلکہ طرح طرح سے اس کا مَذاق بھی اُڑایا لیکن جن کے دلوں میں یقینِ کامل کا چراغ روشن تھا وہ کسی بھی پریشانی اور تَرَدُّد کا شکار نہیں  ہوئے اور بغیر کسی دلیل کے اس مُعجزے کوتسلیم کرلیا ، جیساکہحضرتِ سیِّدُنا صدِّیقِ اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہکے بارے میں آتا ہے ۔

تصدیقِ مِعْراج کرنے والے صحابی

            اُمُّ المُؤمنینحضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدِّیقہ رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہاسے روایت ہے ، فرماتی ہیں  : جب حُضُورنبیِّ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو مسجدِ حرام سے مسجدِ اَقصیٰ کی سیر کرائی گئی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دوسری صُبح لوگوں کے سامنے اس مکمل واقعے کو بیان فرمایا ، مُشرکین وغیرہ دوڑتے ہوئے حضرت سَیِّدُنا ابوبکر صدِّیق  رَضِیَ اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہ کے پاس پہنچے اور کہنے لگے  :  ’’ہَلْ لَکَ اِلٰی صَاحِبِکَ یَزْعُمُ اَسْرٰی بِہِ اللَّیْلَۃَ اِلَی بَیْتِ الْمَقْدَس؟یعنی کیا آپ اس بات کی تصدیق کرسکتے ہیں جوآپ کے دوست نے کہی ہے کہ اُنہوں نے راتوں رات مسجدِ حرام سے مسجد اَقصیٰ کی سیر کی ؟‘‘ آپ  رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’کیا آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے واقعی یہ بیان فرمایا ہے ؟‘‘ اُنہوں نے کہا :  ’’جی ہاں  ۔ ‘‘ آپ رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ نے فرمایا : ’’ لَئِنْ کَانَ قَالَ ذٰلِکَ لَقَدْ صَدَق یعنی اگر آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ ارشاد فرمایا ہے تو یقیناً سچ فرمایا ہے  ۔ ‘‘ اور میں ان کی اس بات کی بلا جھجک تصدیق کرتاہوں ۔ اُنہوں نے کہا :  ’’اَوَ تُصَدِّقُہُ اَنَّہُ ذَہَبَ اللَّیْلَۃَ إِلٰی بَیْتِ الْمَقْدِس وَ جَاء َ قَبْلَ اَنْ یُصْبِحَ؟ یعنی کیا آپ اس حیران کُن بات کی بھی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ آج رات بَیْتُ الْمَقْدِس گئے ، اور صبح ہونے سے پہلے واپس بھی آگئے ؟‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : ’نَعَمْ! اِنِّیْ لَاُصَدِّقُہُ فِیْمَا ہُوَ اَبْعَدُ مِنْ ذٰلِکَ اُصَدِّقُہُ بِخَبْرِ السَّمَاء فِیْ غَدْوَۃٍ اَوْرَوْحَۃ، جی ہاں ! میں تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آسمانی خبروں کی بھی صُبح و شام تصدیق کرتا ہوں  ۔ ‘‘جو یقینا اس بات سے بھی زِیادہ حیران کن اور تَعَجُّب والی بات ہے ۔ پس اس واقعے کے بعد آپ  رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ ’’صدِّیق ‘‘ مشہور ہوگئے ۔  ‘‘(مستدرک، کتاب معرفۃالصحابۃ، ذکر الاختلاšفی امرخلافۃالخ، ۴ / ۲۵، حدیث : ۴۵۱۵)

            سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّ  وَجَلَّ! کس قَدر کامل ایمان تھا صدِّیق اکبر رَضِیَ اﷲُ تَعَالٰی عَنْہ کا کہ جب آپ نے یہ سنا کہ جنابِ صادق و امین عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلامنے ایسا ایسا فرمایا ہے تو اس پر آنکھ بند کرکے یقین کرلیا ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          اے ہمار ے پیارے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!ہمیں اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سچی مَحَبَّت عطافرمااور آپ کی سنَّتوں پر چلتے ہوئے اپنی زندگی بسر کرنے کی توفیق عطافرما ۔  

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

٭٭٭٭

بیان نمبر : 62

رَحْمتوں کا خَزانہ

        حضرتِ سَیِّدُنا اِمام سخاوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِی نقل فرماتے ہیں  :   سرکارِ دو عالَمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’مَنْ صَلَّی عَلَیَّ صَلَاۃً وَاحِدَۃً صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ عَشْراً ، جس نے مجھ پر ایک



Total Pages: 141

Go To