Book Name:Guldasta e Durood o Salam

۔ اللّٰہ تعالیٰ نے لَفْظِ سُبحان فرما کریہ ظاہر فرمادیا کہ یہ تمام کام میرے لئے بھی نامُمکن اور محال ہوں تویہ میری عاجزی اور کمزوری ہوگی ۔ اور عِجز وضُعف ، عیب ہے اورمیں ہر عیب سے پاک ہوں ۔ اسی حکمت کی بناپراللّٰہ  تعالیٰ نے اَسْریٰ فرمایا جس کا فاعل اللّٰہ تعالیٰ ہے حُضُورکو جانے والا نہیں فرمایا بلکہ اپنی ذاتِ مُقدَّسہ کو لے جانے والا فرمایا ۔  جس سے صاف ظاہر ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے لفظ ِسُبحان اور اَسْریٰ فرماکرمِعْراجِ جسمانی پر ہونے والے ہر اعتراض کا جواب دیا ہے اور اپنے محبوب عَلَیْہِ السَّلام کی ذاتِ مُقدَّسہ کو اِعتراضات سے بچایا ہے ۔ (مقالات کاظمی، حصہ اول، ص۱۲۳)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حُضُورفخرِ موجودات سید کائنات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے اس عَظیمُ الشَّان مُعجزے پر مُعْتَرِضِیْن و مُعانِدِیْن کا بے جا اِعتراضات کرنا کوئی نئی بات نہیں بلکہ آپ عَلَیْہ السَّلام کے دورِ مبارک میں بھی بہت سے کوتاہ اَندیش اور حقیقت سے نا آشنا لوگ اس عظیم مُعجزے کا انکار کرتے آئے ہیں ، اللّٰہ تبارک وتعالیٰ ہمیں ایسوں سے محفوظ فرمائے اور حُضُور  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ذکرِ خیر اورمُعجزاتِ جلیلہ کا خُوب خُوب چرچا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

          یاد رہے کہ اللّٰہ تبارک وتعالیٰ کا اپنے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو معراج پر بلانے اور اپنے دیدار سے مُشرَّف فرمانے کا مَقْصد حُضُورعَلیْہِ الصَّلٰوۃُ والسَّلامکی دِلجوئی اور تسکینِ خاطر تھا کیونکہ آپ کی طرف سے دعوتِ توحید دئیے جانے کے بعد کفارِ جفا کار کی طرف سے لگاتار ظُلم و ستم کے اَنبار کی وَجہ سے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنہایت بیقرار تھے جس کا واقعہ کچھ یوں ہے  :

            جس روز صفا کی چوٹی پر کھڑے ہو کراللّٰہ تعالیٰ کے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے قریشِ مکہ کو دعوتِ توحید دی تھی اسی روز سے عَداوت وعِناد کے شُعلے بھڑکنے لگے ، ہر طرف سے مَصائب و آلام کا سیلاب اُمڈ آیا ۔  رَنج و غم کا اندھیرا دن بدن گہرا ہوتا چلاگیا ۔  لیکن اس تاریکی میں آپ کے چچا ابو طالب اور اُمُّ الْمؤمِنین حضرت سَیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللّٰہ تَعالٰی عَنْہا  کا وجود ہر نازک مرحلہ پر آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکیلئے تسکین و طمانیَّت کا سبب بنا رہا ، بعثتِ نبوی کے دسویں سال آپ کے چچانے وفات پائی ، اس صدمہ کا زَخم ابھی مُندَمِل بھی نہ ہونے پایا تھا کہ مُونِس و ہَمدَم رَفیقۂ حیات حضرت سَیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللّٰہ تَعالٰی عَنْہَا بھی آپ کو داغِ مُفارَقت دے گئیں ، کُفّارِ مکہ کو اب ان کی انسانیَّت سوز کارستانیوں سے روکنے والا اور ان کی سفاکانہ روش پرمَلامت کرنے والا بھی کوئی نہ رہا جس کے باعث ان کی اِیذا رَسانیاں ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ گئیں  ۔

            رسولِ اکرم، نُورِ مُجَسَّم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم طائف تشریف لے گئے ، شاید وہاں کے لوگ آپ کی اس دعوتِ توحید کو قبول کرنے کے لیے آمادہ ہوجائیں لیکن وہاں آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ جو ظالمانہ برتاؤ کیا گیا، اس نے سابقہ زَخموں پر نمک پاشی کا کام کیا، ان حالات میں جب بظاہر ہر طرف مایوسی کا اَندھیرا پھیل چُکا تھا اور ظاہری سہارے بھی ٹوٹ چکے تھے ، رحمتِ الہٰی نے اپنی عَظْمَت و کبریائی کی واضح نشانیوں کا مُشاہَدہ کرانے کے لیے اپنے محبوب کو عالَم بالا کی سیاحت کے لیے بُلایا ، تاکہ حالات کی ظاہری ناساز گاری آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ والسَّلام کو مزید رَنجیدہ خاطِر نہ کرسکے ، غور کیا جائے تو سفرِ مِعْراج کے لیے اس سے موزُوں ترین اور کوئی وقت نہیں ہوسکتا تھا ۔  

سفرِ معراج کا آغاز

            اس سفرِمُقدَّس کے تما م احوال و واقعات احادیثِ مُبارکہ اورکُتُبِ سیرت میں تفصیلاً مذکور ہیں ۔ آئیے  نبیِّ مُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ذکرِ خیر کرنے اور آپعَلَیْہِ السَّلامکے بُلند وبالا مراتب جاننے کے لئے ہم بھی مختصراً معراج شریف کا ایمان اَفروز واقعہ سنتے ہیں  ۔ چُنانچہ

            مِعْراج کی رات سرورکائنات ، فخرِموجودات  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے گھر کی چھت کُھلی اور ناگہاں حضرت سَیِّدُناجبرئیل عَلَیْہِ السَّلام  چند فِرِشتوں کے ساتھ نازِل ہوئے اور آپ کوحرمِ کعبہ میں لے جا کر آپ کے سینۂ مُبارک کو چاک کیا اور قلب ِاَنور کو نکال کر آب ِزَمزَم سے دھویا پھر ایمان و حِکْمَت سے بھرے ہوئے ایک طَشْت کو آپ کے سینے میں اُنڈیل کر شِکم کا چاک برابر کر دیا ۔  پھر آپ بُراق پر سوار ہو کر بَیْتُ الْمَقْدِس تشریف لائے ۔ بُراق کی تیز رفتاری کا یہ عالم تھا کہ اس کا قَدم وہاں پڑتا تھا جہاں اس کی نگاہ کی آخری حد ہوتی تھی ۔  بَیْتُ الْمَقْدِسپہنچ کر بُراق کو آپ نے اس حلقہ میں باندھ دیا جس میں اَنبیاء عَلَیْھِمُ السَّلاماپنی اپنی سواریوں کو باندھا کرتے تھے پھر آپ نے تمام اَنبیاء اور رسولوں عَلَیْھِمُ السَّلام کو جو وہاں حاضر تھے دو رکعت نماز نفل جماعت سے پڑھائی ۔  (روح البیان، پ۱۵، الاسراء،  تحت الایۃ : ۵ /  ۱۰۶ ۔ ۱۱۲، ملتقطا)

نمازِ اقصٰی میں تھا یہی سِرعیاں ہوں معنِیٔ اَوَّل آخر

کہ دَست بَسْتہ ہیں پیچھے حاضر جو سلطنت آگے کر گئے تھے ( حدائقِ بخشش ، ص۲۳۲)

          جب یہاں سے نکلے تو حضرت جبریلعَلَیْہِ السَّلام نے شراب اور دُودھ کے دو پیالے آپ کے سامنے پیش کیے آپ نے دُودھ کا پیالہ اُٹھا لیا ۔  یہ دیکھ کر حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلام نے کہا کہ آپ نے فطرت کو پسند فرمایا اگر آپ شراب کا پیالہ اُٹھا لیتے تو آپ کی اُمَّت گمراہ ہو جاتی ۔  پھر حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلام آپ کو ساتھ لے کر آسمان پر چڑھے پہلے آسمان میں حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلام سے ، دوسرے آسمان میں حضرت یحییٰ و حضرت عیسیٰعَلَیْہِمَا السَّلام  سے جو دونوں  خالہ زاد بھائی تھے مُلاقاتیں ہوئیں اور کچھ گُفْتُگو بھی ہوئی ۔ تیسرے آسمان میں حضرت یوسف عَلَیْہِ السَّلام ، چوتھے آسمان میں حضرت ادریس عَلَیْہِ السَّلام  اور پانچویں آسمان میں حضرت ہارون عَلَیْہِ السَّلام اورچھٹے آسمان میں حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلام ملے اور ساتویں آسمان پر پہنچے تو وہاں حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلام  سے مُلاقات ہوئی وہ  بَیْتُ الْمَعْمُوْر سے پیٹھ لگائے بیٹھے تھے جس میں روزانہ سترَّ ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں ۔ بوقتِ ملاقات ہر پیغمبر نے ’’خوش آمدید! اے پیغمبر صالح ‘‘ کہہ کر آپ کا اِستقبال کیا ۔ پھر آپ کو جنَّت کی سیر کرائی گئی ۔ اس کے بعد آپ سِدْرَۃُ المُنْتہٰی پر پہنچے ۔ اس درخت پر جب انوار الٰہی کا پر توپڑا تو ایک دَم اس کی صُورت بدل گئی اور اس میں رنگ برنگ کے انوار کی ایسی تجلی نظر آئی جن کی کیفیتوں کو الفاظ ادا نہیں کر سکتے ۔ یہاں پہنچ کر حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلام  یہ کہہ کر ٹھہر گئے کہ اب اس سے آگے میں نہیں بڑھ سکتا ۔ پھر حضرت حق جَلَّ جَلَالُہ نے آپ کو عرش بلکہ عرش کے اُوپر جہاں تک اس نے چاہا بلا کر آپ کو باریاب فرمایا اور خَلْوت گاہ راز میں نازو نیاز کے وہ پیغام ادا ہوئے جن کی لطافت و نزاکت الفاظ کے بوجھ کو برداشت نہیں کر سکتی ۔  (سیرتِ مصطفی، ص۷۳۴)

کسے ملے گھاٹ کا کنارا کدھر سے گزرا کہَاں اتارا

 



Total Pages: 141

Go To