Book Name:Guldasta e Durood o Salam

            اے ہمارے پیارے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ !ہمیں ہرآن نفس وشیطان کے ہروار کو ناکام بنانے کی توفیق عطافرما اور ہمیں اپنی ساری زِندگی تیری اور تیرے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اِطاعت میں بسر کرنے کی توفیق عطا فرما ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

٭٭٭٭

بیان نمبر : 61

رَبّ عّزَّوجلَّ کے دُرُود بھیجنے سے کیا مُراد ہے

            شبِ مِعْراج جب حُضُورِپاک ، صاحبِ مِعْراج صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سِدْرَۃُ المُنْتہٰیکے بعد رَفْرَف نامی نورانی تخت پر جلوہ اَفروز ہوکر مزید مِعْراج کے سفر کی طرف بڑھے ، چلتے چلتے بالاخر ایک ایسے مقام پر پہنچے جہاں یہ تخت بھی رہ گیا اور حُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تنِ تنہارہ گئے ۔

                اِما م شَعْرانی  قُدِّسَ سِرُّہُ الرَّبَّانِی فرماتے ہیں  : ’’اس وَقت حُضُور کو وحشت سی محسوس ہونے لگی ، توآپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلامنے ایک آواز سنی جوحضرتِ سیِّدُنا صِدِّیقِ اکبر رَضِیَ اﷲُ تَعَالٰی عَنْہ کی آواز سے مشابہ تھی ۔ وہ آواز یہ تھی’’ یَامُحَمَّد قِفْ اِنَّ رَ بَّکَ یُصَلِّیْ، اے محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  رک جائیے ! بیشک آپ کا رَبّ دُرُود بھیجتاہے ۔ ‘‘   (الیواقیت والجواہر، ص۲۷۶ ، مقالات کاظمی ، ۱ /  ۱۷۳)

            اللّٰہعَزَّوَجَلَّکا اپنے نبی پر دُرُود بھیجنے سے مُراد یہ ہے کہ رَبّ تعالیٰ حُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلامکی ثنا وتعظیم بیان فرماتا ہے جیساکہ علاَّمہ ابنِ حَجر عَسْقلانی  قُدِّسَ سِرُّہُ الرَّبَّانِی ابُو العالیہ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں  : ’’ اَنَّ مَعْنَی صَلَاۃِاللّٰہِ عَلٰی نَبِیِّہ، ثَنَاؤُہُ عَلَیْہِ وَتَعْظِیْمُہٗ، یعنی  اللّٰہ تعالیٰ اپنے نبی پر جو دُرُود بھیجتا ہے اس سے مُرادیہ ہے کہ خُدائے بُزُرگ وبَرتر آپ کی تعریف اورعَظْمَت بیان فرماتا ہے ۔ ‘‘

(فتح الباری، کتاب الدعوات، باب الصلاۃ علی النبی ، ۱۲ ۱  / ۱۳۱، تحت الحدیث : ۶۳۵۸)

دیدارِ اِلٰہی کا شوق

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بیان کردہ روایت میں اللّٰہ تبارک و تعالیٰ نے مِعْراج کی رات اپنے حبیبِ کریم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ والتسلیم  پر دُرُودِپاک کے گجرے نچھاور کیے اور اپنے دیدار سے بھی نوازا ۔ یادرہے ! دیدارِ الٰہی ایک ایسی نعمتِ عظمیٰ ہے کہ جس کے حُصُول کا ہمیشہ سے ہرخاص و عام ہی تمنائی رہا ہے ، جس کی طلب ہر دل کی دھڑکن بنی رہی حتی کہ یہ ہی آرزُو اِلتجا بن کرحضرتِ سیِّدُنا موسیٰ کلیمُ اللّٰہعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے مُبارک لبوں پر بھی آگئی ، عرض کی :  ’’رَبِّ اَرِنِیْ، اے رَبّ میرے مجھے اپنا دیدار دکھا !‘‘رَبّ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا : ’’ لَنْ تَرٰنِیْ تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا  ۔ ‘‘، مگر جب بات اپنے حبیب کی آئی توخُود حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلامکو بھیج کر محبوب کو بلوا یااور اپنے دیدار سے مُسْتَفِیْض فرمایا ، جبھی تو بُلبلِ باغِ جِنان ، شاعرِ خوش بیان امام احمد رضاخان عَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحمٰن بے ساختہ پُکار اٹھتے ہیں  :

تَبَارَکَ اللّٰہ شان تیری تجھی کو زیبا ہے بے نیازی

کہیں تو وہ جوشِ لَنْ تَرانِیْ کہیں تقاضے وصال کے تھے   (حدائقِ بخشش، ص۲۳۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

شاہ دُولہا بنا آج کی رات ہے

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں اس واقعۂ معراج کو ان اَلفاظ میں بیا ن فرمایا ہے  :

سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَاؕ-اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ(۱) (پ۱۵، بنی اسرائیل  : ۱)

ترجمۂ کنزالایمان  : پاکی ہے اسے جو راتوں رات اپنے بند ے کو لے گیا مسجد حرام سے مسجد اقصا تک جس کے گرداگرد ہم نے بَرَکت رکھی کہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں بیشک وہ سنتا دیکھتا ہے ۔

            حضرتِ صدر ا لْافاضِل مولانا سیِّدمحمد نعیم الدِّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادی خَزائن العرفانمیں اس آیتِ کریمہ کے تَحت فرماتے ہیں  : ’’ مِعْراج شریف نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ایک جلیل مُعجِزہ اور اللّٰہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے اور اس سے حُضُور کا وہ کمالِ قُرب ظاہر ہوتا ہے جو مخلوقِ الٰہی میں آپ کے سوا کسی کو مُیسَّر نہیں ۔ نَبُوَّت کے بارہویں سال سیدِ عالَمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مِعْراج سے نوازے گئے مہینہ میں اِختلاف ہے مگر اَشہر(یعنی زیادہ مشہور بات) یہ ہے کہ ستائیسویں رجب کو مِعْراج ہوئی مکّہ مُکرَّمہ سے حضور پُرنور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا بَیْتُ الْمَقْدِستک شب کے چھوٹے حصّہ میں تشریف لے جانا نصِ قرآنی سے ثابت ہے اس کا مُنکِر کافر ہے اور آسمانوں کی سیر اور منازلِ قُرب میں پہنچنا احادیثِ صحیحہ مُعْتمَدہ مشہورہ سے ثابت ہے جو حدِّ تَواتُر کے قریب پہنچ گئی ہیں اس کا مُنکِر گمراہ ہے ، مِعْراج شریف بحالتِ بیداری جسم ورُوح دونوں کے ساتھ واقع ہوئی یہی جمہور اَہلِ اِسلام کا عَقیدہ ہے اور اَصحابِ رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی کثیر جماعتیں اور حُضُور کے اَجلّہ اَصحاب اسی کے مُعتَقِد (یعنی ماننے والے ) ہیں ۔ نُصُوصِ آیات و اَحادیث سے بھی یہی مُستَفاد ہوتا ہے ، تِیرہ دِماغانِ فلسفہ (فلسفیوں کے اندھیروں میں بھٹکتے دماغوں ) کے اوہامِ فاسدہ مَحض باطل ہیں قُدرتِ الٰہی کے مُعْتقد کے سامنے وہ تمام شُبْہات مَحض بے حقیقت ہیں ۔ ‘‘

لَفْظِ سُبْحٰن کی حکمت

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللّٰہتعالیٰ نے اس عَظیم وجلیل واقعہ کے بیان کولَفْظِ سُبحان سے شُروع فرمایا جس سے مُراد اللّٰہ  تعالیٰ کی تَنْزِیْہ (یعنی پاکی ) اور ذات ِباری تعالیٰ کا ہر عیب ونقص سے پاک ہونا ہے ۔ اس میں یہ حکمت ہے کہ واقعاتِ مِعْراج جسمانی کی بنا پرمُنکرین کی طرف سے جس قدر اِعتراضات ہوسکتے تھے ان سب کا جواب ہوجائے ۔ مثلاً حُضُور نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا جسمِ اَقدس کے ساتھ بَیْتُ الْمَقْدِس یا آسمانوں پر تشریف لے جانا اور وہاں سے ’’ ثُم دَنٰی فَتَدَ لّٰی‘‘ کی منزل تک پہنچ کر تھوڑی دیر میں واپس تشریف لے آنا منکرین کے نزدیک نامُمْکن او ر محال تھا  



Total Pages: 141

Go To