Book Name:Guldasta e Durood o Salam

اپنے نَفْس کی راحت کی خاطِر گھڑا ہٹانے میں وَقت صَرف کروں اور اتنی دیر ذکرِ الٰہی سے غافِل ہو جاؤں  ۔ ‘‘(فیضانِ سنت،  ص ۱۴۴۶)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے ہمارے بُزُرگانِ دین اپنے نَفْس کو کس طرح قابومیں رکھتے اور اس کی خَواہشات کو کسی خاطِر میں نہ لاتے مگر  تَعَجُّبکی بات یہ ہے کہ اگر ہم اپنے اَہلِ خانہ یا کسی ماتَحت سے کوئی بَد اَخلاقی یا کسی کام میں کوتاہی دیکھتے ہیں تو ان سے بازپُرس کرتے ہیں بسااَوقات سزا بھی دیتے ہیں کیونکہ ہمیں اس بات کا ڈر لگا رہتا ہے کہ اگر ان کے ساتھ دَرگُزر سے کام لیا گیا تو یہ لوگ ہاتھ سے نکل جائیں گے اور سرکشی کریں گے لیکن افسوس کہ ہم نے اپنے نَفْس کو گُناہوں کے مُعاملے میں کُھلی چھوٹ دے رکھی ہے وہ جب چاہتاہے ہم سے باآسانی گُناہ کروالیتا ہے حالانکہ وہ ہمارا سب سے بڑا دُشمن ہے اور اس کی سرکشی کا نُقْصان ہمارے اَہل و عیال کی سرکشی کے نُقْصان سے بھی بڑھ کر ہے ۔ ہمارے اَہلِ خانہ زِیادہ سے زِیادہ ہماری زِندگی میں ہمیں پریشان کریں گے جبکہ ہمارا نَفْس حرام و ناجائز خَواہشات کی تَکمیل کے ذَرِیعے ہماری آخرت کوتباہ و برباد کردیگا ۔

سرورِ دیں لیجئے اپنے ناتوانوں کی خبر

نفس و شیطاں سیدا! کب تک دباتے جائیں گے (حدائقِ بخشش، ص۱۵۷)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

نَفْس کی اَقسام

            یاد رکھئے !انسان کے اندر موجود نَفْس کی تین صِفات ہوتی ہیں  :  

(1) نَفْسِ مطمئنہ : جب نَفْس اللّٰہعَزَّوَجَلَّکی اِطاعت وفرمانبرداری پرقائم ہوجائے اور نَفْسانی خَواہشات کو تَرک کرنے کے سبب اس کااِضْطِراب خَتْم ہوجائے تو اسینفسِ مُطْمئِنَّہ کہا جاتا ہے ۔

(2) نَفْسِ لوامہ : نَفْس اگرچہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اِطاعت وفرمانبرداری کا عادی تو نہیں ہوتا لیکن خَواہشات کور وکتا ہے اور اگرکوئی برائی سرزد ہوجائے تو لعنت مَلامت کرتا ہے تو نفس کی اس کیفیت کونفسِ لَوَّامہ کہاجاتا ہے ۔

 (3) نَفْسِ اَمَّارہ : جب نَفْس کسی برائی کے صادِر ہونے پرمَلامت بھی نہ  کرے اور اپنی خَواہشات کی پیروی کرتارہے تواسے نَفْسِ اَمَّارہ کہتے ہیں ۔ (احیاء علوملدین، کتاب شرح عجائب القلب، بیان معنی النفس والروح الخ، ۳ / ۵)

            نَفْس کی ان تینوں قسموں میں زیرِ بحث نَفْسِ اَمَّارہ ہے یہی اپنی شرارتوں میں حد دَرَجہ مَہارت کی بنا پر شیطان سے بھی بڑھ کر ہے اسی نے شیطان کا ایمان بربادکیا اور تاقیامِ قیامت کثیر مُسلمانوں کی تباہی میں اَہم کردار بھی ادا کرے گا اس سے کسی بھی قسم کی بھلائی کی اُمید رکھنا فُضُول ہے یہ ایک بے رحم دُشمن ہے اس کی آفتوں سے محفوظ رہنے کا واحد حل مُقابلے کے ذَرِیعے اسے مَغْلُوب کرنا ہے ۔ نَفْسکو مَغْلُوب کرنے سے مُرادیہ ہے کہ انسان جن جن خَواہشات کی تکمیل سے نَفْس کو روکنا چاہے یا جس عبادت کا بھی حکم دے یہ فوراً اطاعت کرے اور کسی قسم کی مزاحمت نہ کرے ۔

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! نَفْس وشیطان ہروَقت انسان کوبہکانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔ ان کے مَکرو فریب سے بچنے کے لئے ایسے لوگوں کی صُحبت بے حد ضروری ہے جوان کے خطرناک واروں سے بچنے کے طریقے جانتے ہوں اور ان کے سینے ، خَوفِ خدا و مَحَبَّتِ مُصْطفٰے کے نور سے منوّر ہوں ، ان کے ساتھ رہ کر گُناہوں سے بچنے ، نیکیاں کرنے اور  سُنَّتوں پر عمل پیرا ہونے کا جذبہ ملے ۔ ایسے پُرفتن دور میں دعوتِ اسلامی کا مَدنی ماحول کسی نعمتِ عُظمیٰ سے کم نہیں ، اس سے وابستہ اسلامی بھائی کل تک گُناہوں بھری زِندگی گزار ہے تھے اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ اس مَدنی ماحول کی بَرَکت سے گُناہوں سے تائب ہوکر نیکیوں کی راہ پر گامزن ہوگئے ۔ آپ کی ترغیب وتحریص کے لئے ایک مَدَنی بہار پیش کی جاتی ہے ۔

بد کردار کی توبہ

            مَرکزُالاولیاء (لاہور) کے علاقے نیوسَمن آباد کے چاہ جَموں والا بازار میں مُقیم اسلامی بھائی کے تَحریری مکتوب کا خُلاصہ پیشِ خِدْمت ہے کہ میں پرلے دَرَجے کا گُنہگار شخص تھا والدین کی عزَّت و تکریم میں کوتاہی کرتا تھا ۔  گندے ماحول ، فلموں و ڈِراموں کی نُحوست نے میرا ستیاناس کر دیا تھا ۔ کیبل اور انٹرنیٹ پر فُحش مَناظِر دیکھنا، اَمردوں سے دوستی کرنا ، ان سے غیراَخلاقی حَرَکات کا اِرتکاب کرنا میرے شب وروز کا معمول تھا ۔ میں نے غالباً رَمَضَانُ الْمُبارَک ۱۴۲۶؁ ھ بمطابق اکتوبر 2005؁ ء کے آخری عشرے کا اِعتکاف بَدمَذْہبوں کی ایک مسجد میں کیا ۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ میرے ایک دوست نے بھی آخری تین دن میرے ساتھ اسی مسجد میں اِعتکاف کیا جو کہ دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار  سُنَّتوں بھرے اجتماع میں بھی شرکت کر چکے تھے ۔ ہم پر اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کا کرم اس طرح ہوا کہ اس مسجد کی لائبریری میں کچھ رسائل مل گئے ، میرے اس دوست نے بتایا کہ یہ رسائل دعوتِ اسلامی کے بانی، امیرِ اَہلسنَّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے تَحریر کردہ ہیں میں نے نام کی طرف تو کوئی خاص توَجُّہ نہ دی مگر اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ وہ رسائل پڑھنے میں کامیاب ہوگیا ۔ ان کو پڑھنے کی بَرَکت سے میرے دل کی دُنیاہی بدل گئی ۔  ان رسائل میں سے ایک رسالہ ’’T.V کی تباہ کاریاں ‘‘ تھا اسے پڑھ کر میں نے گھر آ کر ٹی وی دیکھنا چھوڑ دیا ۔  میرے اُس دوست نے اِنفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سُنَّتوں بھرے اجتماع کی دعوت دی جسے میں نے فوراً قبول کر لیا ۔ مجھے اجتماع میں سُکونِ قلبی نصیب ہو ا ۔  اجتماع میں شرکت کرنا میرا معمول بن گیا مَدَنی ماحول کی بَرَکت سے بَدمَذہبوں کی صُحبت چھوڑ کر گُناہوں سے توبہ کی توفیق ملی ۔ بدکاریوں سے منہ موڑا اور سر پر سبز سبز عمامہ شریف اور سفیدمَدَنی لباس زیبِ تن کر لیا ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ یہ بیان دیتے وَقت میں ڈویژن مُشاوَرَت کا رُکن ہونے کے ساتھ ساتھ حلقہ مُشاوَرت کے خادم (نگران) کی حیثیت سے مَدَنی کام کرنے کی سَعادت حاصل کر رہا ہوں ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 



Total Pages: 141

Go To