Book Name:Guldasta e Durood o Salam

دریافت کرنے کے لیے آئے ہیں تو  حضرت سَیِّدُنا امام مالک رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فوراً باہر تشریف لے آتے ۔ ‘‘اور اگر وہ کہتے کہ حدیث شریف سننے کے لیے آئے ہیں ، تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ پہلے غسل فرما کرعُمدہ لباس زیبِ تن فرماتے ، خوشبو لگاتے ، عمامہ شریف باندھتے پھر اپنے سرپر چادر اوڑھ لیتے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے لیے تخت بچھایا جاتا، جس پرآپ انتہائی عِجز واِنکساری کے ساتھ بیٹھ کر حدیث شریف بیان فرماتے اورشُروع مجلس سے آخر تک خُوشبو سلگائی جاتی اور یہ تخت صرف حدیث شریف روایت کرنے کے لیے مخصوص کیا گیا تھا، جب آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا :  ’’میں یہ بات پسند کرتاہوں کہ حدیثِ رسول کی خُوب تعظیم کروں ۔ ‘‘(الشفاء بتعریف حقوق المصطفی (مترجم) ۲ /  ۵۲)

          حضرت سَیِّدُنا عبدُاللّٰہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان فرماتے ہیں  :  ’’ کہ میں ایک مرتبہ حضرت سَیِّدُنا امام مالک رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خِدمت میں حاضر تھا ، آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہ حدیثیں بیان فرمارہے تھے کہ اسی اثناء میں ایک بچھو نے آپ کو سولہ مرتبہ ڈَنگ مارا (شدتِ اَلَم )سے آپ رَحمۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِکے (چہرے کا) رنگ( مُتغیَّرہوکر )زَردپڑگیا مگر آپ نے حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی حدیث شریف کو بیان کرنا نہیں چھوڑا، جب آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ روایت حدیث سے فارغ ہوگئے اور لوگ چلے گئے تو میں نے عرض کی :  آج میں نے آپ میں ایک عجیب بات دیکھی ہے ۔ ‘‘ توآپ رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا : ’’ ہاں ! میں نے رسول خدا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حدیث شریف کی تَعْظِیم میں صبر کیا ۔ ‘‘ (الشفاء بتعریف حقوق المصطفی (مترجم)، ۲ / ۵۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            اے ہمارے پیارے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ! ہمیں حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سچی مَحَبَّت عطا فرما ، آپ کا ذِکرِخیر کرتے ہوئے آپ کی ذاتِ مُقدَّسہ پر کثرت سے دُرُودوسلام پڑھنے کی توفیق عطا فرما ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

٭٭٭٭

بیان نمبر : 60

شہیدوں کی رَفاقَت

          رسولِ اکرم، نُورِمُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ مُعظَّم ہے  :  ’’مَنْ صَلّی عَلَیَّ مِائَۃً کَتَبَ اللّٰہُ بَیْنَ عَیْنَیْہِ بَرَائَ ۃً مِّنَ النِّفَاقِ وَبَرَائَۃً مِّنَ النَّار، جو شخص مجھ پر سو مرتبہ دُرُودِپاک پڑھے گااللّٰہ تعالیٰ اُس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھ دے گا کہ یہ شخص نِفاق اور جہنَّم کی آگ سے آزاد ہے وَاَسْکَنَہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَعَ الشُّہَدَائِ اور اُسے بروزِ قیامت شُہَدا کے ساتھ رکھے گا ۔ ‘‘

(معجم الاوسط، من اسمہ محمد، ۵ / ۲۵۲، حدیث : ۷۲۳۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آپ نے دیکھاکہ دُرُودِ پاک پڑھنے والے کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکس قدر انعام و اکرام سے نوازتا ہے کہ نہ صرف نِفاق اور جہنَّمسے آزادی کا پروانہ عطافرمادے گا بلکہ کل بروزِ قیامت اسے شُہدا کے ساتھ اُٹھائے گا ۔ علاَّمہ اِبنِ عابدین شامی رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے جس مقام پر شہید ِ حُکمی کی تعداد نقل فرمائی اسی جگہ بیان کردہ حدیث پاک کے حوالے سے نبیِّ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر سو مرتبہ دُرُودِ پاک پڑھنے والے کو شہیدِحُکمی میں شُمار کیا ہے ۔ (درمختار وردالمحتار، کتاب الصلاۃ ، مطلب فی تعداد الشہداء، ۳ / ۱۹۶)

لہٰذا ہمیں بھی اپنے پیارے آقا ، مدینے والے مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُودِ پاک کی کثرت کی عادت بنالینی چاہیے تاکہ ہمارا حشر بھی اچھوں کے ساتھ ہو ۔

یادرہے !یہاں شہادت سے مُرادحکمی شہادت ہے ۔ شہیدِحُکمی کو شہادت کا ثواب تو ملتا ہے مگراس پر شہید کے فِقْہی اَحکام جاری نہیں ہوتے مثلاً شہید کو غُسل نہیں دیا جاتا بلکہ خُون سمیت ہی دَفن کردیا جاتا ہے جبکہ شہیدِ حکمی کو غُسل دیا جاتا ہے ۔

اس قسم کے اور بہت سے لوگ ہیں جنہیں حدیثِ پاک میں شہید کہا گیا ہے ۔ چنانچہ حضرت جابر بن عتیک رَضِیَ اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے رسول  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  ’’اللّٰہعَزَّوَجَلَّکی راہ میں قتل کے علاوہ سات شہادتیں اور ہیں  : (۱)جو طاعون میں مرے شہید ہے ، (۲)جو ڈوب کر مرے شہید ہے ، (۳)جو ذات الجَنْب (پسلیوں کی ایک بیماری) میں مرے شہید ہے ، (۴) جو پیٹ کی بیماری میں مرے شہید ہے ، (۵)جو آگ میں جل جائے شہید ہے ، (۶) جو عمارت کے نیچے دب کر مرے شہید ہے اور (۷) جو عورت وِلادت میں مرے شہیدہے ۔‘‘(مشکاۃ، کتاب الجنائز، باب عیادۃ المریض، ۱  / ۲۹۹ ، حدیث :  ۱۵۶۱ )

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اِعلاء کلمۃُ الْحَق کے لئے کُفَّار سے جِہاد کرنا اور شجرِاسلام کی آبیاری کی خاطِر دُشمنانِ اسلام کی طرف سے پہنچنے والی تکالیف پر صبر کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرنا بڑی سعادت کی بات ہے مگر کس قَدر بَخْتوَر ہیں وہ لو گ جونہ تو میدانِ جنگ میں حاضر ہو کر کسی تلوار کے وار سے قتل ہوتے ہیں اور نہ ہی کوئی نیزہ ان کی شہادت کاسبب بنتا ہے مگر پھربھی وہ شہادت کے عظیم ثواب کو حاصل کرلیتے ہیں ۔ اس سعادتِ عُظمیٰ سے بہرہ مند ہونے والے 36 خُوش نصیبو ں کاذِکر صَدْرُ الشَّریعہ ، بَدرُالطَّریقہ مُفْتی محمد امجد علی اَعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوی نے بھی کیا ہے جن میں سے بعض یہ ہیں  :

(1)جو بُخار میں مرا ۔  (2)مال یا(3)جان یا( 4)اہل یا(5) کسی حق کے بچانے میں قتل کیا گیا ۔ (6) جسے کسی درندہ نے پھاڑ کھایاہو ۔ (7) جوکسی مُوذی جانور کے کاٹنے سے مر ا ۔  (8)جو شخص علمِ دین کی طلب میں مرا ۔  (9) ایسا شخص جو با طہارت سویا اور مرگیا ۔  (10)جو سچے دل سے یہ سوال کرے کہ اللّٰہ کی راہ میں قتل کیا جاؤں ۔ (11) جو نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر سو بار دُرُود شریف پڑھے ۔   (بہارِ شریعت ، ۱ / ۸۵۸-۸۶۰ ، ملتقطاً)

 



Total Pages: 141

Go To