Book Name:Guldasta e Durood o Salam

رسول  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو نِدا کرے تو اَدب و تکریم اور توقیر و تعظیم کے ساتھ آپ کے معظّم اَلقاب سے نرم آواز کے ساتھ مُتواضِعانہ ومُنکسرانہ لہجہ میں یَانَبِیَّ اﷲِ یَارَسُوْلَ اﷲِ یَاحَبیبَ اﷲِکہہ کر (ندا کرے ) ۔  ‘‘

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمیں بھی حکمِ قرآنی پر عمل کرتے ہوئے  جس قَدر ہوسکے تَعْظِیم و توقیر والے اَلفاظ کیساتھ اَحسن اَنداز میں دُرُودوسلام کے پھول نچھاور کرتے رہنا چاہیے کہ اس کے بے شُمار فوائد و ثمرات ہیں ۔ چُنانچہ

سَعَادَۃُ الدَّارَیْن میں ہے  ۔ عُلما و اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلام سے منقول اَلفاظ سے حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود و شریف پڑھنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ دُرُودِ پاک پڑھنے والے کو حُضُور عَلَیْہِ السَّلام  کی تعریف و ثنا سے خُوشی حاصل ہوتی ہے ، سرکار کے اَوصافِ جلیلہ کا ذِکر اور نئے نئے اُسلوب سامنے آتے رہتے ہیں جن سے طبیعت اُکتاتی نہیں اوریہ چیز اس (پڑھنے والے ) کے لیے حُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلام پر زِیادہ دُرُود شریف پڑھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے ، توصیف و ثنا زِیادہ ہوتی ہے زِیادہ تکرار کی وَجہ سے نئے نئے مفہوم ذِہن نشین ہوتے رہتے ہیں ، جس سے حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مَحَبَّت و شوق میں اِضافہ ہوتا ہے بُزُرگانِ دین فرماتے ہیں  :  ’’ (غیرماثُور) اَلفاظ میں سے اکثر وہ ہیں جو حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بیداری کی حالت میں بتائے اور بعض بُزُرگوں نے یہ کلمات نیند کے دوران حُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام سے روایت کیے اور حق بات یہ ہے کہ جس نے آپ عَلَیْہِ السَّلامکو (خَواب) میں دیکھا گویااس نے بیداری میں دیکھااور بسا اَوقات بعض کلمات کے متعلق بُزُرگانِ دین نے ثواب کی جو مِقْدار بیان کی ہے (کہ یہ دُرُودِ پاک پڑھنے سے ) ایک ہزار یا دس ہزار یا ایک لاکھ (دُرُودِپاک پڑھنے کا ثواب ملتا ہے ) اسے اُنہوں نے حُضُور عَلَیْہِ السَّلام سے بحالتِ خَواب یابیداری میں بھی بیان کیا ہے اور بسا اَوقات دوسرے ذرائع سے انہوں نے اس کی اطلاع پائی ۔  جیسا کہ

دس ہزار دُرُود پاک کا ثواب

حضرتشیخ سیِّدی عبدالوہاب شعرانی  قُدِّ سَ سرُّہُ النُّورانی نے کتاب الطبقات الوسطیٰ میں اپنے شیخ نورُ الدِّین کے بارے میں لکھا ہے کہ میں نے انہیں وفات کے ساٹھ دن بعد خَواب میں دیکھا ، مجھے فرماتے ہیں کہ’’ مجھے شیخ سیدی عبدُاللّٰہ عبدوسی کا مرتب کیا ہوا دُرُود بتاؤ ، کیونکہ آخرت میں ، میں نے اس ایک کا اَجر دوسرے دس ہزار (دُرُودوں ) کے برابر پایا ہے اور دُنیا میں مجھ سے یہ رہ گیا ہے ، میں سمجھ گیا کہ شیخ مجھے وہ دُرُود پڑھنے کی تعلیم دے رہے ہیں جو وہ خود نہیں پڑھ سکے ۔ سیدی عبدُاللّٰہ عبدوسی کا دُرُود شریف یہ ہے  :  ’’اَلَلّٰھُمَّ اجْعَلْ اَفْضَلَ صَلَوَاتِکَ اَبَداً وَ اَنْمٰی بَرَکَاتِکَ سَرْمَدًا ۔ ‘‘

(سعادۃ الدارین، الباب الثامن فی کیفیات الصلاۃ علی النبی الخ، ص۳۴۷)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دُرُودوسلام میں تَعْظِیم والے کلمات اور بہتر اَلفاظ استعمال کرنا چاہئیں جیسا کہ حضرت سَیِّدُنا ا بنِ مسعود رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ نبیِّ اکرم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ مُعَظَّم ہے  :  ’’اِذَا صَلَّیْتُمْ فَأَحْسِنُوْاالصَّلَاۃَ عَلٰی نَبِیِّکُمْ، یعنی جب تم دُرُود پڑھوتو اپنے نبی پراچھادُرُودپڑھو  ۔ ‘‘ اچھے کلمات میں سے ایک لَفْظ ’’سَیِّدُنا‘‘بھی ہے ۔ دُرُودِپاک میں  ’’سَیِّدُنا‘‘کا اِضافہ کرنے کے بارے میں بُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِین کے اَقوال مُلاحَظہ فرمائیں ۔ چُنانچہ

اِمام ابنِ حجر رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِکے نزدیک دُرُود میں نبیِّکریم، رء وفٌ رَّحیم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِوَالتَّسْلِیمکا اسم گرامی جب تَشَہُّد میں آئے یا کسی اور موقع پرآئے تو اس سے پہلے لَفْظِ ’’سَیِّدُنا‘‘زائد کرنا مُسْتَحَب ہے ۔

اسی طرح شیخ عزیز الدِّین بن عبدالسَّلام تَشَہُّدمیں اسمِ محمد سے پہلے لفظ   ’’سَیِّدُنا‘‘لانے کے بارے میں فرماتے ہیں  :  ’’ افضل یا تو یہ بات ہے کہ امر کی تعمیل کی جائے (یعنی جس طرح تَشَہُّد پڑھنے کا حکم ہوا اسی طرح بغیرسَیِّدُنا  کے پڑھا جائے ) یاپھر اَدب کی راہ اِختیار کرلی جائے (کیونکہ سَیِّدُنا کہنے میں تَعْظیم کا پہلوپایا جاتاہے ) ، دوسری صُورت کو اِختیارکرنا (اَدب کی راہ اِختیار کرنا) مُسْتَحَب ہے  ۔ ‘‘

شیخ العیاشی رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِسے دُرُود شریف میں لفظِ سَیِّدُنا کا اضافہ کرنے کے مُتعلِّق پوچھا گیا تو آپ نے جواب میں فرمایا  : ’’یہ تو عبادت ہے ،  کیونکہ دُرُود شریف پڑھنے والے کی نِیَّت بھی تو آپ کی تَعْظِیم و تکریم ہی کی ہوتی ہے ، جب حقیقت یہ ہے تو لفظ ’’سَیِّدُنا ‘‘کو ترک کرنے کا کوئی مطلب نہیں کیونکہ یہ تو عین تعظیم ہے  ۔ (سعادۃالدارین، المسئلۃ الثانیۃفی زیادۃ لفظ سیدناالخ، ص۳۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمیں بھی حُضُور نبیِّ کریم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکی تَعْظِیم کی نِیَّت سے بہترین اَلقاب واَلفاظ کے ساتھ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذات ِبابَرَکات پر کثرت سے دُرُودِ پاک پڑھتے رہنا چاہیے ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ  دُرُودِپاک کی عادت بنانے کا بہترین ذَرِیعہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستگی بھی ہے اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ یہ  سُنَّتوں  بھری ایسی تحریک ہے جو نہ صرف بھر بھر کر دُرُود و سلام کے جام پلا تی ہے بلکہ اسکی بَرَکت سے بے شُمار عاشقانِ رسول دِیدارِمُصْطفٰے سے فیضیاب بھی ہوتے رہتے ہیں ۔ چُنانچہ اس ضِمْن میں ایک مَدَنی بہار سُنئے اورخُوشی سے سر دُھنئے ۔

قِسْمت اَنگڑائی لیکر جاگ اُٹھی

باندرہ (بمبئی، ہند) کے ایک اسلامی بھائی نے جو کچھ بتایا اس کا خُلاصہ ہے کہ2000؁ء میں عَلاقے کے اَندر ہونے والے چوک دَرس میں ایک دن مجھے  شرکت کی سعادت ملی ، دَرس کے بعد مُلاقات کرتے ہوئے ایک اسلامی بھائی نے مجھے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وارسُنَّتوں بھرے اجتماع کی دعوت پیش کی ۔ میں اجتِماع میں حاضِر ہوا ، وہاں مُبلِّغ دعوت ِ اسلامی دُرُودِ پاک کی فَضیلت  بیان فرما رہے تھے اس کا کچھ ایسا اثر ہوا کہ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ روزانہ 313 مرتبہ دُرُودِ پاک پڑھنے کا معمول بنا لیا ۔ چند ہی دِنوں بعد ایک رات جب سویا تو سوئی ہوئی قِسمت انگڑائی لیکر جاگ اُٹھی ، میں نے خَواب میں دیکھاکہ کوئی کہہ رہا ہے  : ’’ فُلاں جگہ پر سرکارِ مدینہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف فرما ہیں ۔ ‘‘ یہ سُن کر میں عالَمِ دیوانگی میں زِیارت کی نیَّت سے دوڑا تو آگے لوگوں کا ایک ہُجُوم تھا ، سیدھے ہاتھ کی طرف واقِع ایک گھر سے نور نکل رہا تھا ، میں اُس میں داخِل ہو گیا وہاں دیکھا کہ امیرُالْمُؤمِنِین حضرتِ مولائے کائنات ، علیُّ المُرتَضٰی ، شیرِ خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم تشریف فرما ہیں ،



Total Pages: 141

Go To