Book Name:Guldasta e Durood o Salam

اَنَّہٗ یَجُوْزُ اَنْ یُّجْعَلَ غَیْرَ اْلَانْبِیَائِ تَبْعَاً لَّھُمْ فِیْ ذٰلِکَ فَیُقَالُ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّاَزْوَاجِہٖ وَذُرِّیّٰتِہ وَاَتْبَاعِہٖ لِاَنَّ السَّلَفَ لَمْ یَمْنَعُوْا مِنْہُ وَقَدْ اُمِرْنَا بِہٖ فِی التَّشَہُّدِ وَغَیْرِہ قَالَ الشَّیْخُ اَبُوْمُحَمَّدِ الجُوَیْنِیْ مِنْ اَئِمَّۃِ اَصْحَابِنَا اَلسَّلَامُ فِیْ مَعْنَی الصَّلَاۃِ وَلَایُفْرَدُ بِہٖ غَیْرُ الْاَنْبِیَائِ لِاَنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی قَرَنَ بَیْنَہُمَا وَلَا یُفْرَدُ بِہٖ غَائِبٌ وَلَا یُقَالُ قَالَ فُلَانٌ عَلَیْہِ السَّلاَمُ‘‘

(شرح مسلم للنووی، باب الدعاء لمن اتی بصدقتہ، ۴ / ۱۸۵، الجزء السابع)

            ان دونوں عبارتوں کا خُلاصہ یہ ہے کہ اِمام ابُو حَنیفہ، اُن کے اَصحاب، امام مالک، امام شافعی اور اکثر عُلماء کا قول یہ ہے کہ غَیرِ نبی پر اِسْتِقْلالاً صلاۃ نہیں پڑھی جائے گی، اَلبتَّہ تَبْعاً پڑھی جاسکتی ہے ۔ یعنی یوں نہیں کہا جائے گا :  اَللّٰھُمَّ صَلّ عَلٰی اَبِیْ بَکْرٍاَلبتَّہ یوں کہا جاسکتا ہے  :  اَللّٰھُمَّ صَلّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلی اَبِیْ بَکْرٍ ۔  اس کے جَواز اور عَدمِ جَواز کی دلیل سلف صالحین کا عمل ہے ، اور جَواز باِلتَّبع کی دلیل تَشَہُّد وغیرہ دیگر مَقامات بھی ہیں جہاں باِلتَّبع پڑھنے کا حکم ہے ۔ اِمامُ الْحَرَمَیْن حضرت امام جُوَیْنی رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا کہ سلام بھی اس حکم میں صَلاۃ کے مَعْنی میں ہے ۔

            سَیِّدِی اَعلیٰ حضرت مُجدِّدِدین ومِلَّت شاہ اِمام احمد رضاخان عَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحمٰن ارشاد فرماتے ہیں  :  صَلوۃ وسَلام باِلاِسْتِقْلَال اَنبیاء و مَلائکہ عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السّلام کے سوا کسی کے لئے روانہیں ، ہاں بہ تَبْعیَّت جائز جیسے اَللّٰھُمَّ صَلّ وَسَلِّمْ عَلٰی سَیِّدِنَا وَمَوْلیٰنَامُحَمَّدٍ وَعَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا وَمَوْلیٰنا مُحَمَّدٍاور صحابۂ کرام  رَضِیَ اللّٰہ تَعالٰی عَنْہُم کے لئے رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کہا جائے ، اَولیائے وعُلماء کو رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْھِمْ  یا قُدِّسَتْ اَسْرَارُھُمْ اور اگر رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْھُمْ کہے جب بھی کوئی مضائقہ نہیں  ۔  (فتاوی رضویہ، ۲۳ / ۳۹۰ )

وَاللّٰہ اَعْلَمُ وَرَسُوْلُہٗ  عَزَّوَجَلَّ وَ صَلّی اللّٰہ تَعالٰی عَلَیْہ واٰلہ وَاَصْحابِہ وَبارَک وسلّم

الجواب صحیح

 عبدہ المذنب ابو الحسن فضیل رضا العطاری عفا عنہ الباری

کتبــــــــــــــــــــــــــہ     

محمد حسان رضا العطاری المدنی

20محرم الحرام 1432؁ھ27دسمبر 2010؁ء

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 

یٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دُرُود شریف پڑھنا ایک عَظِیْم عبادت ہے ۔ بُزُرگانِ دین نے اس کو پڑھنے کی جوحکمتیں بیان فرمائی ہیں اُس کا خلاصہ یہ ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جُملہ مخلوقات میں سب سے زِیادہ کریم ورَحیم ، شفیق وعَظِیْم ہیں آپ کے مومنوں پر سب سے زِیادہ اِحسانات ہیں اس لیے مُحسنِ اَعْظَم کے اِحسان کے شُکریہ میں ہم پر دُرُود پڑھنا مُقرَّر کیا گیا ہے ۔ اس لیے ہمیں بھی چاہیے کہ بکثرت دُرُود پاک پڑھا کریں اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کی بَرَکت سے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی رَحمت وسَلامتی ہمارا مُقدَّر بنے گی ۔ جیسا کہ

رَبّ عزَّ وجلَّ کا سلام

سرکارِ دو عالم، نُورِ مجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ معظم ہے  :  ’’جِبرئیل (عَلَیْہِ السَّلام ) نے مجھ سے عرض کی کہ رَبّ تعالیٰ فرماتا ہے  :  اے مـحـمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) ! کیا تم اِس بات پر راضی نہیں کہ تمہارا اُمَّتی تم پر ایک بار دُرُود بھیجے ، میں اُس پر دس رَحمتیں نازل کروں گا اور آپ کی اُمَّت میں سے جو کوئی ایک سلام بھیجے ، میں اُس پر دس سلام بھیجوں گا ۔  ‘‘(مشکاۃ، کتاب الصلاۃ ، باب الصلاۃ علی النبی وفضلہا، ۱ / ۱۸۹، حدیث : ۹۲۸)

مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں  :  ’’رَبّ (عَزَّوَجَلَّ) کے سلام بھیجنے سے مُرادیا تو بذرِیعۂ مَلائکہ اسے سلام کہلوانا ہے یا آفتوں اور مُصیبتوں سے سلامت رکھنا ۔ ‘‘ (مراۃ ، ۲ / ۱۰۲)

اللّٰہتعالیٰ کا اپنے بندوں پر سلام بھیجنا دیگر احادیثِ مُبارکہ سے بھی ثابت ہے ، جیسا کہ حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حضرت جبرئیل امین عَلَیْہ السَّلام عرض گزار ہوئے  : ’’یارسُولَ اللّٰہ(صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) ! یہ خدیجہ ( رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہا) ہیں جو ایک برتن لے کر آرہی ہیں جس میں سالن اور کھانے پینے کی چیزیں ہیں ۔ جب یہ آپ کے پاس آجائیں تو اِنہیں اُن کے رَبّعَزَّوَجَلَّکا اور میرا سلام کہئے  ۔ ‘‘ (بخاری ، کتاب مناقب الانصار، باب تزویج النبی خدیجۃ وفضلہا، ۲ / ۵۶۵، حدیث  : ۳۸۲۰)

حضرتِ سیِّدُنا ابوہریر ہ اور حضرتِ سیِّدُنا عبدُاللّٰہ بن عبا س رَضیَ اللّٰہ تَعالٰی عَنْہُم سے مروی ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ جَنَّت نشان ہے  :  ’’جب شب ِ قدر آتی ہے تو سِدْ رۃُالمنتہیٰ میں رہنے والے فِرِشتے اپنے ساتھ چارجھنڈ ے لے کر اُترتے ہیں ۔ حضرت  جبرائیل (عَلَیْہِ السَّلام) بھی ان کے سا تھ ہوتے ہیں ۔ ان میں سے ایک جھنڈا میرے دَفن کی جگہ پر، ایک طُو رِ سینا پر، ایک مسجد ِ حرام پر اور ایک بیتُ المقدَّس پر نصب کرتے ہیں ، پھر وہ ہر مومن اور مومنہ کے گھر داخل ہو کر انہیں کہتے ہیں  :  ’’اے مومن مرد اور عورت! اللّٰہعَزَّوَجَلَّ تمہیں سلام بھیجتا ہے ۔ ‘‘(تفسیرقرطبی، پ۳۰، القدر، تحت الآیۃ : ۵، ۱۰ / ۹۷)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللّٰہعَزَّوَجَلَّکی رَحمت اور اس کی سَلامتی پانے کے لئے دُرُودِ پاک ایک بہترین وَظِیْفہ ہے اس کی بَرَکتیں دُنیا میں تو حاصل ہوتی رہتی ہیں مرنے کے بعد بھی یہ ہمارے لئے ذَرِیعہ نَجات بن سکتا ہے ، جیسا کہ

 



Total Pages: 141

Go To