Book Name:Guldasta e Durood o Salam

سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ!دُرُودِپاک کی کس قَدر بَرَکتیں ہیں کہ اس سے حافظہ قَوی ہونے کے ساتھ دُنیاوآخرت کی ڈھیروں بھلائیاں بھی حاصل ہوتی ہیں ۔ وہ اسلامی بھائی جو دینی یا دُنیوی کسی بھی شُعبے سے مُنْسلِک ہیں چاہے اَساتذہ ہوں یا طُلبا اگرانہیں کمزوریٔ حافظہ کی شکایت ہے تو وہ خُلوص ومَحَبَّت کے ساتھ سرکارِمدینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُودِپاک پڑھنے کو روزوشب کا وَظِیْفہ بنالیں اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّوَجَلَّ ڈھیروں فَوائد کے ساتھ ساتھ انکی یاداشت میں بھی اِضافہ ہوگا ۔

قُوَّتِ حافظہ بڑھانے کے پانچ مَدَنی پُھول

بِلاشُبہ اَسباق کو یاد کرنے میں حافظہ بُنیادی اَہَمِّیَّت  رکھتا ہے بلکہ اس کی کمزوری کو علم کے لئے آفت قرار دیا گیا ہے جیساکہ مشہور ہے ’’اٰفَۃُ الْعِلْمِ اَلنِّسْیَانُ،  یعنی بھول جانا علم کے لئے آفت ہے  ۔ ‘‘لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی قُوَّتِ حافظہ کومَضْبُوط سے مَضْبُوط تر کرنے کی کوشش کریں ۔ اس ضمن میں درجِ ذیل امور پیشِ نظر رکھنا بے حد مفید ثابت ہوگا  :

(۱) سب سے پہلیاللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں اپنے حافظے کی مَضْبُوطی کے لئے دُعا کریں کہ دُعا مؤمن کا ہتھیار ہے ۔ یہ دُعا اس طرح بھی کی جاسکتی ہے  :  (بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمپڑھ کر رَبّ عَزَّوَجَلَّ کی حمد بیان کرنے اور رَحمت ِ عالمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پردُرُودِپاک پڑھنے کے بعد یوں عرض کریں  : )  اے میرے مالک و مولا  عَزَّوَجَلَّ! تیرا عاجز بندہ تیری بارگاہ میں حاضر ہے ، یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!میں تیرے دین کا علم حاصل کرنا چاہتا ہوں لیکن میری یادداشت میرا ساتھ نہیں دیتی ، اے ہر شے پر قادر رَبّ عَزَّوَجَلَّ! تُو اپنی قُدرت ِ کاملہ سے میرے کمزور حافظے کو قَوی فرما دے اور مجھے بھول جانے کی بیماری سے نَجات دے دے ۔

(۲)اگر ہوسکے تو ہر وَقت باو ضو رہنے کی کوشش کریں ۔ اس کا ایک فائدہ تو یہ ہو گا کہ ہمیں سُنَّت پر عمل کا ثواب ملے گا جبکہ دوسرا فائدہ یہ حاصل ہوگا کہ ہمیں خُوداِعتمادی کی دولت نصیب ہوگی اور احساسِ کمتری ہمیں چھونے بھی نہ پائے گا جو کہ حافظے کے لئے شدیدنُقْصان دہ ہے ۔

(۳)اپنی صِحَّت کا خاص طور پرخیال رکھیں ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہر وَقت پڑھتے رہنے کی بنا پر اتنے کمزور ہوجائیں کہ ادھر ذرا سی سَرد ہوا چلی توادھر زُکام اور بُخار نے آن گھیرا ، اور نہ ہی اتنا وَزْن بڑھا لیں کہ نیند اور سُسْتی سے دامن چُھڑانا دُشوار ہوجائے ۔ اس کے علاوہ کھانے پینے میں بھی اِحتیاط ضَروری ہے کہ چکنائی والی ، کھٹی اور بلغم پیدا کرنے والی اشیاء سے دُور رہیں کہ یہ حافظے کو شدید نُقْصان پہنچاتی ہیں ۔ بلغم کے علاج کے لئے موسم کی مُناسبت سے روزانہ یا وقفے وقفے سے مُٹھی بھر کِشمِش (سوغی)کھانا بے حد مُفید ہے جیساکہ شیخِ طریقت امیرِ اہلِسنّت بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہفرماتے ہیں  : ’’ بلغم اور زکام کے علاج کے سلسلے میں جو فائدہ کشمش نے دیا کسی دوا نے بھی نہیں دیا  ۔ ‘‘ (مدنی مذاکرہ  : کیسٹ نمبر ۱۲۴)

(۴)فُضول گفتگو سے پرہیز کرتے ہوئے زبان کا قُفْلِ مَدینہ لگائیں اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ زبان جتنی کم استعمال ہوگی ذِہن کی توانائی اتنی زِیادہ محفوظ رہے گی اور یہ توانائی سبق یاد کرنے کے وَقت ہمارے کام آئے گی ۔

(۵)نگاہیں نیچی رکھنے کی سُنَّت پر عمل کرتے ہوئے آنکھوں کا قُفْلِ مَدینہ لگائیں ، غیرضَروری اور گناہوں بھرے خیالات سے بھی بچتے رہیے ۔ اس کا بھی یہی فائدہ ہوگا کہ ہمارے ذِہن کی توانائی محفوظ رہے گی ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

یاد رکھئے ! قُوَّتِ حافظہ قائم رکھنے اور ذِہنی سُکون حاصل کرنے کی غرض سے مُناسب مِقْدار میں کچھ گھنٹے کی نیندبھی اِنتہائی ضَروری ہے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ پہلے پہل تو پڑھائی کے جوش میں نیند کو فراموش کر بیٹھیں لیکن چند دنوں کے بعد تھکاوٹ کا احساس آپ کے دل ودماغ کو ایسا گھیرے کہ تھوڑی سی دیر پڑھنے کے بعد ذِہن پرغُنودگی چھانے لگے اورآپ نیند کی آغوش میں جاپڑیں ۔ نیند کے بعد مکمل طور پر تازہ دم ہونے کے لئے حُصُولِ ثواب کی نِیَّت سے باوضو سونے کی عادت بنائیں اور سونے سے پہلے تسبیحِ فاطمہ رَضِیَ اللّٰہ تَعالٰی عَنْہا (یعنی ۳۳ مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہ ، ۳۳مرتبہ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ اور ۳۴مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَر ) پڑھ لیں ۔

اگر آرام کرنے کے بعد بھی پڑھائی کے دوران نیند کا غلبہ ہونے کی شکایت ہوتوروزانہ لیموں ملے ایک گلاس پانی میں ایک چمچ شہد ملا کر پی لینا بے حد مُفید ہے ۔ شیخِ طریقت امیرِ اہلِسنّت بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہفرماتے ہیں کہ خلاف ِ معمول نیند کا آنا جگر کی کمزوری پر دال (دلالت کرتا) ہے اور اس کا علاج یہ ہے کہ لیموں والے پانی میں شہد کا ایک چمچ نہارمُنہ استعمال کریں  اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ فائدہ ہوگا ۔ (مدنی مذاکرہ  : کیسٹ نمبر ۱۲۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

علم کو محفوظ رکھنے کا طریقہ

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! علمِ دین کی بات سن کر اسے یادرکھنے کا بہترین طریقہ یہ بھی ہے کہ اسے لکھ کر دہرا لینے کے بعد وقتاً فووقتاً کسی دوسرے اسلامی بھائی کو زبانی سُنا کر محفوظ ترین بنا لیجئے کہ ایک دوسرے کو سنا کر یاد کرنا صحا بۂ کرام عَلَیْھِمُ الرِّضْوانکی سُنَّت بھی ہے ۔ جیسا کہ

حضرت سَیِّدُنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  : ’’ ہم لوگ رسولِ اکرم ، نورِمجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ارشادات سنتے تھے ۔ پھر جب مَدَنی آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مجلس سے تشریف لے جاتے تو ہم آپس میں (آپ عَلَیْہِ السَّلام کی زبانِ اقدس سے نکلنے والے ارشادات کا ) بالترتیب (باری باری) دَور کرتے ۔ جب ہم وہاں سے اُٹھتے تو حدیثیں ہمیں اس طرح یاد ہوتیں کہ گویا ہمارے دلوں میں بو دی گئی ہیں  ۔ ‘‘(مجمع الزوائد ، کتاب العلم ، باب فی مدارسۃ العلم ومذاکرتہ، ۱  /  ۳۹۷ ، حدیث : ۷۳۴ ملخصاً)

حضرت سَیِّدُنامُعاوِیہ رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ اپنا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہیں کہ صحابۂ کرام عَلَیْھِم الرِّضْوان فرض نمازوں کے بعد مسجدنبوی میں بیٹھ کر حَدیث پاک کا مُذاکَرہ کیا کرتے (یعنی ایک دوسرے



Total Pages: 141

Go To