Book Name:Guldasta e Durood o Salam

آپ بھی مد نی ماحول سے  وابستہ ہوجائیے

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دُرُود و سلام کی عادت بنانے کیلئے تبلیغِ قراٰن و سُنَّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے ہر دم وابَستہ ہوجائیے کیونکہ اچھی صُحبت کی بَرَکت سے ہمیں نہ صرف کثرت سے دُرودِ پاک پڑھنے کا جَذْبہ نصیب ہوگا بلکہ میٹھے میٹھے غمخوار آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سُنّتوں کے مُطابق زِندگی گزارنے کی سَعادت بھی حاصل ہوگی کہا جاتا ہے کہ ’’خربوزے کودیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے ، تِل کو گُلاب کے پھول میں رکھ دو تو اُس کی صُحبت میں رَہ کر گُلابی ہو جاتا ہے ‘‘اِسی طرح دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہو کر عاشِقانِ رسول کی صُحبت میں رہنے والا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مہربانی سے بے وَقْعَت پتّھر بھی اَنمول ہیرا بن جاتا، خُوب جگمگاتا اور ایسی شان سے پَیکِ اَجَل کو لَبَّیْکَ کہتا ہے کہ دیکھنے ، سننے والا (اس پر رَشک کرتااور) جینے کے بجائے ایسی موت کی آرزو کرنے لگتا ہے  ۔ چُنانچہ  اسی ضِمن میں ایک مَدنی بہار سُنئے اور جُھوم اُٹھئے ۔

وقتِ آخر اَوْرَادْ کی تکرار

چَکوال(پنجاب، پاکستان) کے مُقیم ایک اسلامی بھائی کے تَحریری بیان کا خُلاصہ ہے  :  میرے تایا جان حاجی محمدنسیم عطاری جنہوں نے میری پَرْوَرِش کی امیرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے بے اِنتہا مَحَبَّت کرتے تھے اور مَدینہ مُنوَّرہ (زَادَہَااللّٰہُ شَرَفًاو َّتَعْظِیْماً)سے تو ان کی مَحَبَّت  کا یہ عالَم تھا کہ اُنہوں نے اپنی مُلازَمت کے اِختتام پر ملنے والی تمام رقم سفرِحج و زِیارتِ مَدینہ میں خرچ کردی ۔  جب میں دعوتِ اسلامی کے مُشکبار مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوا تو میرے سر پر سبز سبز عمامہ شریف دیکھ کر بہت خُوش ہوتے اور کہتے کہ آپ کو دیکھ کر تو مَدینے کی یاد آجاتی ہے ۔ فیضانِ سُنَّت کا دَرس سُنتے تو بے اِختیار رونے لگتے ۔ انتقال سے ایک ہفتہ پہلے مسجدمیں نمازیوں سے کہنے لگے کہ ’’ہو سکتا ہے اگلے ہفتے مُلاقات نہ ہو ۔ ‘‘ زِندگی کے آخری تین دن میں نے انہیں تین وِرْد کثرت سے کرتے دیکھا (1)اِسْتِغْفَار (2) کَلِمہ شریف (3اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلامُ عَلَیْکَ یارَسُوْلَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ۔  اُنہوں نے اپنی زِندگی کی آخری رات مجھے جگایا اور کہا کہ وضو کر کے آؤ اور مجھے سورۂ یٰسٓ سناؤ ، میں نے حکم کی تعمیل کی ، سورۂ یٰسٓ سُن کر فرمانے لگے مجھے بہت سُکون حاصل ہوا ہے  ۔ 17 رَمَضانُ المبارک ۱۴۲۶؁ھ بمطابق نومبر 2005؁ئکو میں نے ایک جگہ کام سے جانا تھا ۔  میں نے اجازت مانگی تو فرمانے لگے مت جاؤ شاید پھر واپس آنا پڑے ، جب صبح ہوئی تو ان کی آنکھیں چھت پرٹِکی ہوئی تھیں اور پورا جسم یہاں تک کہ بستربھی پسینے سے تَربَتر تھا ۔  پانچ منٹ تک ان پر بے ہوشی طاری رہی پھر ہوش میں آئے اور کہنے لگے  :  ’’وقت بہت کم ہے ۔ ‘‘ ہم نے سوچا کہ طبیعت زِیادہ خراب ہے شاید اس لئے ایسی باتیں کر رہے ہیں لہٰذا ہم انہیں فوراً اسپتال لے گئے ، وہاں پہنچ کر انہوں نے اسپتال میں موجود لوگوں کو اکٹھا کر لیا اور انہیں کہا کہ تم بھی کلمہ پڑھو میں بھی پڑھتا ہوں ۔ کچھ لوگوں نے مذاق اُڑانا شُروع کر دیا کہ باباجی مرنے کا کہہ رہے ہیں لیکن لگتانہیں کہ یہ مریں گے ، اسکے بعد تایا جان نے یہ اَلفاظ کہے ’’یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ایک بار پھر مَدینے لے جا ۔ ‘‘ اور پھر کلمہ شریف اور دُرُود و سلام پڑھتے ہوئے انہوں نے اپنی جان جانِ آفرین کے سپرد کر دی ۔  (اِنَّالِلّٰہ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْن)کچھ دنوں بعد مجھ گناہ گار وبدکار کو خواب میں پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زِیارت کی سعادت نصیب ہوئی ، آپ کے ساتھ میں نے اپنے تایاجان کوبھی دیکھا وہ فرما رہے تھے کہ حاجی مُشتاق عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ الرّزاق بھی یہیں تشریف فرما ہوتے ہیں ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اچھی صُحْبت اپنا لیجئے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آج مُعاشرے کے ناگُفْتَہ بِہ حالات میں گُناہوں کا زور دار سیلاب جسے دیکھو بہائے لئے جا رہا ہے ، ایسے میں  دعوتِ اسلامی  کا مَدَنی ماحول کسی نعمتِ عُظمٰی سے کم نہیں ، اِس سے ہر دَم وابَستہ رہئے  اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کی بَرَکت سے نیکیاں کرنے ، گُناہوں سے بچنے ، دُرُود وسلام کی عادت بنانے اور  سُنَّتوں پر عمل کرنے کا ذِہن بنے گا ۔ یقینا جو شخص اچھی صُحبت کی بَرَکت سے حُضُور جانِ عالمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اِطاعت وفرمانبرداری کرتا رہے اور اپنی ساری زِندگی آپ کی سُنَّتوں  کی پیروی میں بسر کرتا رہے تواللّٰہعَزَّوَجَلَّ اس خُوش نصیب کو جَنَّت میں آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا پڑوس عطا فرمائے گا ۔  جیسا کہ

سُنَّت پرعمل کا صِلہ

تاجدارِ رسالت، شَہَنْشاہِ نَبُوَّت، نوشۂ بزمِ جنّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ جنّت نشان ہے  :  ’’جس نے میری سُنَّت سے مَحَبَّتکی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سے مَحَبَّت کی وہ جنَّت میں میرے ساتھ ہو گا ۔ ‘‘(تاریخ مدینۃ دمشق لابن عساکر، انس بن مالک ، ۹ / ۳۴۳)

یادرکھئے !حُضُورِاَقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سیرتِ مُبارکہ اور آپ کی سُنَّتِ مُقدَّسہ کی اِتّباع اور پیروی ہر مُسلمان پرضروری ہے ۔     ربُّ العزَّت عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتاہے  :

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۱) (پ۳، اٰل عمران : ۳۱)

ترجمۂ کنزالایمان : (اے رسول)فرما دیجئے کہ اگرتم لوگ اللّٰہ سے مَحَبَّت کرتے ہو تومیری اتباع کرو اللّٰہ تم کو اپنا محبوب بنا لے گااورتمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور اللّٰہ بہت زیادہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔

اسی لئے آسمانِ اُمَّت کے چمکتے دمکتے ستارے ، ہدایت کے چاند تارے ،  رسُول اللّٰہ کے پیارے صحابۂ کرام عَلَیْھِمُ الرِّضْوان آپ کی ہرہر سُنَّتِ  کریمہ کی اتباع کو اپنی زِندگی کے ہر دم قدم پر اپنے لئے لازِمُ الْایمان اور واجبُ العَمل سمجھتے تھے اور بال برابر بھی کبھی کسی مُعامَلہ میں اپنے پیارے رسولصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مُقَدَّس  سُنَّتوں سے اِنْحِراف یا ترک گوارانہیں کر تے تھے ۔

اسی عِشْقِ کا مل کے طفیل صحابۂ کرام عَلَیْھِمُ الرِّضْوان کو دُنیا میں اِختیار و اِقتدار اور آخرت میں عِزَّت و وقار ملا ۔  یہ انکے عِشْق کا کمال تھا کہ مُشْکل سے مُشْکل گھڑی اور کٹھن سے کٹھن وقت میں بھی انہیں اِتباعِ رسول سے مُنہ پھیرنا گوارا نہ تھا ۔  وہ ہر مرحلہ میں اپنے محبوب آقاصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا نقش پا ڈھونڈتے اور اسی کومَشْعلِ راہ بناکر جا دَہ پیما رہتے ۔

لحد میں عشق رخ شہ کا داغ لے کے چلے

 



Total Pages: 141

Go To