Book Name:Guldasta e Durood o Salam

، اوراچھی بات کے سوا کچھ نہ کہے ، غُفِرَتْ لَہُ خَطَایَاہُ  وَاِنْ کَانَتْ اَکْثَرَ مِنْ زَبَدِ الْبَحْرِ، اس کے تمام گُنا ہ مُعاف کردئیے جاتے ہیں ، اگر چہ سمندر کے جھاگ سے زِیادہ ہوں  ۔ ‘‘ (مسند احمد ، مسندا لمکیین ، حدیث معاذبن انس الجھنی، ۵ / ۳۱۰، حدیث : ۱۵۶۲۳)

اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُناعائشہ صدِّیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں  :  میں نے شہنشاہِ مَدینہ، قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو فرماتے ہوئے سنا  : ’’کہ جو نمازِ فجر ادا کرنے کے بعد اپنی جگہ بیٹھا رہے اور کوئی دُنْیوِی بات نہ کرے اوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا ذِکر کرتا رہے پھر چاشت کی چار رکعتیں اَداکرے تو گُناہوں سے ایسا پاک و صاف ہوجائے گا جیسااس دِن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا کہ اس پر کوئی گناہ نہ تھا ۔ ‘‘(مسند ابی یعلی، مسند عائشہ، ۴  / ۹، حدیث : ۴۳۴۸)

سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ! دیکھا آپ نے نمازِچاشت پڑھنے کی کیسی بَرَکتیں ہیں کہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ اس شخص کو گُناہوں سے اس طرح پاک وصاف فرما دیتا ہے کہ گویا وہ آج ہی اپنی ماں کی کوکھ سے پیدا ہوا ہو ۔  ایک اور حدیث پاک کے مَفْہُوم کے  مُطابق اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے انسانی جسم میں تین سو ساٹھ جوڑ پیدا فرمائے ہیں اورہرجوڑ کاصَدَقہ دیناہم پر لازم ہے جس کا طریقہ حُضُورعَلَیْہِ السَّلام نے ہمیں بیان فرمادیا ۔ چُنانچہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ذر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت ، شہنشاہِ نَبُوَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا  :  ’’تمہارے ہر جوڑ پر صدقہ ہے اور ہر تَسْبِیْح یعنی سُبْحَانَ اللّٰہِکہنا صَدَقہ ہے اور ہر تحمید یعنی اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہنا صَدَقہ ہے اور ہر تَہْلِیْل یعنی لَا اِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ کہنا صَدَقہ ہے اور ہر تَکْبِیْر یعنی اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہنا  صَدَقہ ہے اور اچھی بات کا حکم دینا  صَدَقہ ہے اور بری بات سے روکنا صَدَقہ ہے اور چاشت کی دو رکعتیں ان سب کو کفایت کرتی ہیں ۔ ‘‘(مسلم ، کتاب صلوۃ المسافرین وقصرھا، باب استحبا ب صلوۃ الضحیالخ، ص ۳۶۳، حدیث : ۸۲۰۱ )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!فی زَمانہ بہت سے لوگ بے روزگاری کا شکار نظر آتے ہیں اور جو صاحبِ روزگارہیں وہ تنگدستی کی وَجہ سے طرح طرح کی آفتوں میں گرفتار ہیں ۔ اگرہم نمازِ چاشت پڑھنے کی عادت بنالیں تو دیگر فوائد کے ساتھ ساتھ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہمارے رزقِ حَلال میں بھی بہت بَرَکت ہوگی کیونکہ حُصُولِ رِزق اور تنگدستی کو دُور کرنے کے لیے نمازِ چاشت پڑھنا بے حد مُفید اور مُجرَّب ہے ۔ چُنانچہ

تَنْگدَسْتی دُور کرنے کا نُسْخہ

مَشائخِ کِرام رَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلام فرماتے ہیں ، کہ دوچیزیں کبھی جمع نہیں ہوسکتیں مُفْلِسی اور چاشت کی نماز ، (یعنی جو کوئی چاشت کی نماز کا پابند ہوگا، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کبھی مُفْلِس نہ ہوگا ) ۔  

اسی طرح حضرت سَیِّدُنا شقیق بَلْخِی عَلَیْہ رَحْمۃُ اللّٰہِ الْقوِی فرماتے ہیں  : ہم نے پانچ چیزوں کی خَواہش کی تو وہ ہم کو پانچ چیزوں میں دستیاب ہوئیں (اس میں سے ایک یہ بھی ہے ) کہ جب ہم نے روزی میں بَرَکت طلب کی تو وہ ہم کو نمازِچاشت پڑھنے میں مُیَسَّر آئی  (یعنی اس کے ذَرِیعے رِزْق میں بَرَکت پائی) ۔  (نزہۃ المجالس، باب فضل الصلوات لیلا ونہاراًومتعلقاتہا، ۱ /  ۱۶۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سَیِّدُناابوذَر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دوسری وَصیَّت یہ فرمائی کہ ’’سونے سے پہلے وِتر پڑھ کرسویا کرو ۔ ‘‘

صَدْرُ الشَّریعہ ، بَدْرُالطَّریقہ مُفْتی محمد امجد علی اَعظمی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی فرماتے ہیں  : ’’ وتر واجب ہے اگر سَہْواً یا قَصْداً نہ پڑھا تو قَضا واجب ہے ۔ ‘‘ (بہارشریعت ، ۱ / ۶۵۳ ) مزید فرماتے ہیں  : ’’ جو شخص جاگنے پر اِعْتِماد رکھتا ہو اس کو آخر رات میں وِتر پڑھنا مُسْتَحَب ہے ، ورنہ سونے سے قبل (ہی) پڑھ لے  ۔ ‘‘(بہارشریعت ، ۱ /  ۴۵۳ )

            وِتر کو رات کے آخری حصے تک مُؤخَّر کرنا بھی اَفضل ہے جیساکہ حضرت سَیِّدُنا جابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ خُوشبودار ہے  : ’’جسے اَندیشہ ہو کہ پچھلی رات میں نہ اُٹھے گا وہ (رات کے ) اَوَّل (وَقت) میں پڑھ لے اور جسے اُمید ہو کہ پچھلے (پہر) کو اُٹھے گا وہ پچھلی رات میں پڑھے کہ آخر شب کی نماز مشہودہے (یعنی اُس میں مَلائکہ رَحمت حاضِر ہوتے ہیں ) اور یہ اَفضل ہے  ۔ ‘‘ (مسلم کتاب صلاۃ المسافرین، باب من خاف ان لایقوم من آخر اللیل ، ص ۳۷۸، حدیث :  ۷۵۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سَیِّدُنا ابوذَر رَضِیَ اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ کوتیسری وَصیَّت یہ فرمائی کہ ’’سونے سے قبل مجھ پر دُرُود شریف پڑھتے رہنا ‘‘ہمیں بھی چاہیے کہ سونے سے پہلے اَوْراد و وَظائف پڑھ کر اپنے دن کا اِخْتِتام ذکر ودُرُود پر کرلیا کریں کہ اس کی بڑی بَرَکتیں ہیں ۔ چُنانچہ

رات کو سوتے وقت کے اَوْراد

مُفَسّرِ شہیر حکیمُ الْاُمَّت حضرتِ مُفْتی احمد یار خان عَلَیْہ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں  : ’’ اگر سوتے وقت آیۃُ الْکُرْسِی پڑھ لے تو رات بھر وہ مکان چوری، آگ اور ناگہانی آفات سے محفوظ رہے گا اور پڑھنے والا بَدخوابی اور جنَّات کے خَلَل سے بچا رہے گا ۔ ہر نماز کے بعدآیۃُ الْکُرْسِی پڑھنے سے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ خاتِمہ بالخیر ہوگا ۔ ‘‘         (اسلامی زندگی، ص ۱۳۰ )

جو شخص سوتے وقت پانچواں کلمہ اور قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَایک ایک دفعہ پڑھ کر سویا کرے تواِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ مرتے وَقت کَلِمہ نصیب ہوگا مگر چاہئے یہ کہ اس کے بعد کوئی دُنیاوِی بات نہ کرے اگر بات کرنی پڑ جائے تو دوبارہ اس کو پڑھ لے ۔                                      (اسلامی زندگی، ص ۱۳۰ )

لہٰذا ہمیں چاہئے کہ اپنے معمولات سے فَراغت کے بعد سونے سے پہلے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا ذِکر اور نبیِّ کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذاتِ گرامی پر دُرُودو سلام پڑھ کر سویا کریں اس کی بَرَکت سے نہ صرف سرکارِ نامدارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زِیارت نصیب ہوتی ہے بلکہ حُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام ایسے خُوش نصیب کوشَفاعت کی نَویدبھی سنا تے ہیں ۔ چُنانچہ

 



Total Pages: 141

Go To