Book Name:Guldasta e Durood o Salam

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوان تو وہ نُفُوسِ قُدسِیہ ہیں کہ انہیں  حُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صُحبت و مَعِیَّت کی بدولت ایسی عَظْمَت و شَرافت نصیب ہوئی جو کسی بھی غیرِ صحابی کو حاصل نہیں ان کے بُلَند وبالا مَراتب کا اَندازہ اس بات سے لگائیے کہ کسی غیرِ صحابی کی بڑی سے بڑی نیکی ان کی کسی چھوٹی سی نیکی کے برابر بھی ہرگز نہیں ہوسکتی، کیونکہ یہ طے شُدہ اَمر ہے کہ صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو جو شَرَفِ صَحابیَّت حاصل ہے اِس کا مُقابَلہ غیرِصَحابی اُمَّتی کو ملنے والی کوئی بھی فَضِیلت نہیں کرسکتی ۔  چُنانچہ

سرورِ دوعالَم، نورِ مُجَسَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا  :  ’’لَاتَسُبُّوْا اَصْحَابِی فَلَوْ اَنَّ اَحْدَکُمْ اَنْفَقَ مِثْلَ اُحُدٍ ذَھَبًا مَابَلَغَ مُدَّ اَحَدِھِم وَلَانَصِیْفَہٗ ، یعنی میرے کسی صحابی کو گالی نہ دو، اگر تم میں سے کوئی اُحُد پہاڑ کے برابر بھی سونا خیرات کرے تو بھی وہ ان (صحابہ)کے ایک یا نِصف مُد (پیمانے ) کو نہیں پہنچے گا ۔ ‘‘ (بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی ، باب قول النبی لوکنت متخذاً خلیلاً، ۲ / ۵۲۲، حدیث :  ۳۶۷۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اے ہمارے پیارے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ! ہمیں صحابۂ کرامعَلَیْھِمُ الرِّضْوان کی شان میں گُستاخی اور بے اَدَبی سے محفوظ رکھ اور تمام صحابۂ کرام عَلَیْھِمُ الرِّضْوان کی سچی مَحَبَّت عطا فرما اور ہمیں حُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ، ان کی آل و اَصحاب پر دُرُودِ پاک پڑھنے کی توفیق عطا فرما ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

٭٭٭٭

بیان نمبر : 54

تین باتوں کی وَصِیَّت

حضرت علاَّمہ یوسف بن اِسمعیل نَبْہا نی  قُدِّ سَ سرُّہُ النُّوْرَانِی نے سَعَادَۃُ الدَّارَیْن میں ایک روایت نقل کی کہ حضرت ابوذر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  :  تاجدارِ رسالت، شہنشاہ نَبُوَّتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے (تین باتوں کی) وصیت فرمائی  :  ’’ اَنْ اُصَلِّیْھَا فِی السَّفَرِ وَالْحَضَرِ یَعْنِی صَلَاۃَ الضُّحٰی‘‘ کہ میں سَفروحَضر میں نمازِ چاشت پڑھتا رہوں ، وَاَنْ لَّااَنَامَ اِلَّاعَلٰی وِتْرٍ وَبِالصَّلَاۃِ عَلَی النَّبِیِّ، اور سونے سے پہلے وِتراور نبیِّ کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُودِ پاک پڑھ کر سویا کروں  ۔ ‘‘ ( سعاد ۃ ا لدارین، الباب الثانی فیماورد فی فضل الصلاۃ والتسلیمالخ، حرف الھمزۃ، ص۸۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بیان کردہ رِوایت میں حُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے پیارے صحابی رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ کو تین باتوں کی وَصِیَّت فرمائی (۱)سَفروحَضرمیں نماز ِچاشت کی اَدائیگی کرتے رہنا (۲ونے سے پہلے وِترپڑھ کرسونااور (۳) نبیِّ پاک کی ذاتِ بابَرَکات پر دُرُودشریف پڑھتے رہنا ۔  

لہٰذا ہمیں چاہئے کہ فرض نمازوں کے ساتھ ساتھ نفلی عبادات کی عادت بناتے ہوئے حُضُور عَلَیْہِ السَّلام کی بارگاہ میں کثرت سے دُرُودوسلام کے نذرانے بھی پیش کرتے رہا کریں ۔

نمازِ چاشت کی فَضِیْلَت واَہَمِّیَّت

بیان کردہ روایت میں حُضُور عَلَیْہِ السَّلام نے نمازِچاشت پڑھنے کی ترغیب دلائی ہے ، نماز چاشت کے بارے میں صَدْرُ الشَّریعہ ، بَدْرُالطَّریقہ مُفْتی محمد امجد علی اَعظمی  عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  : ’’ نمازِ چاشت مُسْتحَب ہے ، کم از کم دو اور زِیادہ سے زِیادہ چاشت کی بارہ رکعتیں ہیں اور اَفضل بارہ (رکعات ) ہیں کہ حدیثِ (پاک ) میں ہے (کہ) جس نے چاشت کی بارہ رکعتیں پڑھیں ، اللّٰہ تعالیٰ اس کے لیے  جَنَّت میں سونے کا محل بنائے گا ۔ ‘‘(ترمذی، کتاب الوتر، باب ماجاء فی صلاۃ الضحی، ۲ / ۱۷، حدیث : ۴۷۲)

مزید فرماتے ہیں  : ’’اس کا وَقت آفتاب بُلَنْد ہونے سے زَوال یعنی نِصْفُ النَّہار شرعی تک ہے اور بہتر یہ ہے کہ چوتھائی دن چڑھے پڑھے ۔ ‘‘(بہارشریعت ، ۱ / ۶۷۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! نمازِ چاشت کی عادت اپنانے کے لئے شیخ طریقت امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عطاکردہ مدنی انعامات پر عمل کرتے رہیں اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اس پُر فتن دور میں  آسانی سے نیکیاں کرنے اور گناہوں سے بچنے کے طریقوں پر مشتمل شریعت و طریقت کا بہترین مجموعہ (اسلامی بھائیوں کے لئے ) ’’72مدنی انعامات‘‘ کی صورت میں عطا فرمایا جس میں ایک مدنی انعام یہ بھی ہے ’’کیا آج آپ نے نماز تہجد، اشراق وچاشت اور اوابین ادا فرمائی؟‘‘ لہٰذا اگرہم فرائض و واجبات کی ادائیگی کرتے ہوئے نوافل کابھی اہتمام کریں تو اس طرح بظاہر ایک مدنی انعام پر اور درحقیقت سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فرمان پر عمل ہوجائے گا ۔  

نمازِ فجرکے بعد ذِکرُاللّٰہ کی فضلیت

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! نمازِ فجر باجماعت اَدا کرنے کے بعد ذِکر و دُرُود میں مشغول رہیں کہ اس وَقت ذِکرو اَذکار کی بڑی فَضِیلت ہے جیساکہ حضرتِ سَیِّدُناابو اُمَامَہ رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ سے رِوایت ہے کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌلِّلْعٰلمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’ طلوعِ شمس تک بیٹھ کر اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کا ذِکر اور اس کی بڑائی بیان کرنا اور اس کی حَمد وثنا کرنا اور تَسْبِیْح وتَہْلِیْلکرنا مجھے اَولادِ اسماعیل عَلَیْہِ السَّلام سے دو یادو سے زِیادہ غلام آزاد کرنے سے زیادہ پسند ہے  ۔ ‘‘ (مسند احمد، مسند الانصار، حدیث ابی امامۃ البا ہلی، ۸ / ۲۸۱، حدیث : ۲۲۲۵۶ملتقطاً)

اور جُونہی طلوع آفتاب ہو نمازِچاشت کی ادائیگی کے لئے کھڑے ہوجائیں اور بارگاہِ الٰہی عَزَّوَجَلَّسے ملنے والے اِنعام و اِکرام کے حَقْدار بن جائیں ۔ جیسا کہ حضرتِ سَیِّدُنا مُعاذ رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ سے رِوایت ہے کہ نبیِّ مُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  ’’مَنْ قَعَدَ فِی مُصَلَّاہُ حِینَ یُصَلِّیَ الصُّبْحَ حَتّٰی یُسَبِّحَ الضُّحٰی لَا یَقُولُ اِلَّا خَیْرًا ، جو شخص فجر کی نماز پڑھ کر اپنی جگہ بیٹھا رہے پھر چاشت کی نماز پڑھے



Total Pages: 141

Go To