Book Name:Guldasta e Durood o Salam

جادوگروں کے بڑے بڑے اَژْدَہوں کوخَتْم کر دیا اور جب آپ نے اس مُبارک عصاکو پتھر پر مارا تو اس سے پانی کے بارہ چشمے نکل پڑے ، یونہی حضرتِ  سَیِّدُناداؤدعَلَیْہِ السَّلام کیلئے لوہے کو نرم کردیا ، اسی طرح حضرتِ  سَیِّدُنا سلیمان عَلَیْہِ السَّلام کے لئے جِنّ و اِنس ، چرندوپرند اور ہوا کومُسَخَّر فرمادیا، حضرتِ  سَیِّدُناعیسیٰ عَلَیْہِ السَّلام کو شیرخواری میں قُوَّت ِگویا ئی عطافرمائی اس کے علاوہ مُردوں کو زِندہ کرنے ، برص والوں اور پیدائشی اندھوں کو شفادینے کا مُعْجِزہ عطا فرمایا، الغرض مختلف انبیا ئے کرام عَلَیْھِمُ السَّلامکو مختلف مُعْجِزات عطا فرمائے اور سیِّدُ الْمُرسَلین،   خاتَمُ النَّبِیِّینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ان تمام مُعْجِزات کا جامع بناکر بھیجا جیساکہ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے ۔

حُسنِ یوسف، دَمِ عیسٰی، یدِ بَیْضا داری

آنچہ خُوباں ہمہ دارَنْد، تو تَنہا داری

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اے ہمارے پیارے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! ہمیں حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سچی مَحَبَّت عطافرما، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی محبت میں تڑپنے والا دل اور آپ کے عشق میں رونے والی آنکھیں عطا فرما ، ہمیں ساری زندگی اپنے پیارے حبیبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیاری پیاری سنتوں پر عمل کرتے ہوئے زندگی گزارنے کی توفیق عطافرمااور ہماری بے حساب بَخشِش و مَغْفِرت فرما ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

بیان نمبر : 53

صحابہ پر طَعن، حُضُور کو نا پسند ہے

حضرت علاَّمہ یوسف بن اِسماعیل نَبْہانی قُدِّ سَ سرُّہُ النُّوْرَانِیْ سَعَادَۃُ الدَّارَیْن میں ابُوعلی قحطان عَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنکی ایک حکایت بیان فرماتے ہیں ، میں نے خَواب میں دیکھا کہ میں کَرْخْ کی جامع مسجدشَرقیہ میں داخل ہوا ، میں نے سَیِّدُ الْمُرْسَلِیْن، جنابِ رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمِیْنصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو دیکھا آپ کے ہمراہ دوآدمی اور بھی تھے جنہیں میں نہیں جانتا تھا میں نے حُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی خِدْمَت میں سلام عرض کیا مگر آپ نے کوئی جواب نہ دیا، میں نے عرض کی :  یارسُولَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !میں آپ پر شب و روز اتنی اتنی مرتبہ دُرُود وسلام بھیجتاہوں اور آپ نے مجھے جوابِ سلام سے محروم فرمادیا؟ رسُول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :  ’’تم مجھ پر تو دُرُود بھیجتے ہو اور میرے صحابہ پر طَعْن وتَشْنیع کرتے ہو ۔ ‘‘ میں نے عرض کی :  ’’یارسُولَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !میں آپ کے دَستِ اَقدس پر توبہ کرتا ہوں آئندہ ایسا نہیں کروں گا ۔ ‘‘ پھر سرکار عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے (سلام کے جواب میں ارشاد ) فرمایا  :  وَعَلَیْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ ۔  

(سعادۃ الدارین، الباب الرابع فیماورد من لطائف المرائی والحکایات الخ ، اللطیفۃ الخامسۃ والعشرون بعد المائۃ، ص ۱۶۳)

بَہرِ صِدّیق و عُمَر عُثماں علی                         کیجئے رَحمت اے نانائے حسین

سب صَحابہ کا وَسیلہ سیِّدا                          کیجئے رَحمت اے نانائے حسین(وسائل بخشش، ص۱۶۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

راہِ ہدایت کے دَرَخْشَنْدہ ستارے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بیان کردہ حکایت سے معلوم ہواکہ ہمیں نبیِّ کریم ، رَء ُوْفٌ رَّحیم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِوَالتَّسْلِیم سے مَحَبَّت رکھتے ہوئے آپ کی ذاتِ پاک پر دُرُودشریف کی کثرت کے ساتھ ساتھ آپ کے تمام صحابۂ کرام عَلَیْھِمُ الرِّضْوَان سے بھی مَحَبَّت رکھنی چاہیے اور ان کی سیرت و کردار پر عمل کرتے ہوئے اپنی زِندگی بسر کرنی چاہئے کیونکہ یہی راہِ ہدایت کے وہ دَرَخْشَندہ ستارے ہیں جنکے بارے میں مَدینے کے سلطان ، رَحمتِ عالمیانصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے  :  ’’اَصْحَابِیْ کَالنُّجُوْمِ  فَبِاَیِّہِمِ اقْتَدَیْتُمْ اِہْتَدَیْتُمْیعنی میرے اَصحاب ستاروں کی مانند ہیں ، تم ان میں سے جس کی بھی اِقتدا کروگے ہِدایت پاجاؤ گے ۔ ‘‘(مشکاۃ، کتاب المناقب ، باب مناقب الصحابہ ، ۲ /  ۴۱۴، حدیث : ۶۰۱۷)

لہٰذا ہمیں بھی تمام صحابۂ کرام عَلَیْھِم الرِّضْوان سے مَحَبَّت کرنی چاہئے ایسا نہ ہو کسی ایک صحابی ٔرسول سے تو بے پناہ عِشق ومَحَبَّت کا دَم بھرتے نظرآئیں اور باقی اَصحابِ رسول کے لئے دل میں عَداوت بھری ہو اور یوں ہم اس بُغْض کے سبب اللّٰہ اور اسکے رسولصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی لعنت کے مُستحق قرار پاجائیں جیسا کہ

لَعْنتِ خُداوندی کا مُسْتَحِق

حضرت عُوَیْم بِن سَاعِدَہ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ارشادِ خُوشبودار ہے  :  ’’اِنَّ اللّٰہَ اخْتَارَنِیْ وَاخْتَارَ لِیْ اَصْحَاباً، بے شک اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے پسند فرمایا اور میرے لئے میرے اَصحاب کو پسند فرمایا ، فَجَعَلَ لِیْ مِنْہُمْ وُزَرَائً وَاَنْصَاراً وَّ اَصْہَاراً ، پھر ان میں سے میرے وزیر، مُعاوِن اور رِشتے دار بنائے ، فَمَنْ سَبَّہُمْ فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَپس جو انہیں گالی دے گا ، اس پر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ، اس کے فِرِشتوں اورتمام لوگوں کی لَعْنت ہے ، لَایَقْبَلُ اللّٰہُ مِنْہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ صَرْفًا وَّلَا عَدْلًا ، روزِ قیامت اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نہ اس کا کوئی فَرض قَبول فرمائے گانہ نفل ۔ ‘‘(الصواعق المحرقہ، ص۴)

حضرت سَیِّدُنا عبدُ اللّٰہبن مُغَفِّل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حَبِیبِ مُکَرَّم، نَبِیِّ مُعَظَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکااِرشادِمُعَظَّم ہے  :  میرے صحابہ کے بارے میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتے رہو ’’لاَ تَتَّخِذُوہُمْ غَرَضًا مِّنْم بَعْدِی‘‘ میرے بعدا نہیں (اپنی تہمتوں اور بری باتوں کا)  نشانہ مت بنانا ’’فَمَنْ اَحَبَّہُمْ فَبِحُبِّی اَحَبَّہُمْ‘‘پس جس نے ان سے مَحَبَّت کی تو اس نے مجھ سے مَحَبَّت کی وجہ سے ایسا کیا ، ’’وَمَنْ اَبْغَضَہُمْ فَبِبُغْضِیْ اَبْغَضَہُمْ ‘‘ا ور جس نے ان سے بغض رکھا تو اس نے (دَرحقیقت) مجھ سے بُغْض کی وَجہ سے ایسا کیا، ’’وَمَنْ اٰذَاہُمْ فَقَدْ اٰذَانِی‘‘ اور جس نے انہیں اَذِیَّت دی اس نے مجھے اَذِیَّت دی ، وَمَنْ اٰذَانِی فَقَدْ اٰذَی اللّٰہَاور جس نے مجھے اَذِیَّت دی اس نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کو اَذِیَّت دی ، وَمَنْ اٰذَی اللّٰہَ فَیُوْشِکُ اَنْ یَأْخُذَہُ ‘‘اور جس نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کو ایذا دی عنقریب اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کی پکڑ فرمائے گا ۔ ‘‘(مشکاۃ، کتاب المناقب ، باب مناقب الصحابہ ، ۲ /  ۴۱۴، حدیث : ۶۰۱۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے ! صحابۂ کرام عَلَیْھِم الرِّضْوان سے بُغْض رکھنے والے بحکمِ حدیث اللّٰہعَزَّوَجَلَّ اور فِرِشتوں اور تمام لوگوں کی لَعْنت کے حَقْدار ہیں اور جوان سیمَحَبَّت رکھنے والے



Total Pages: 141

Go To