Book Name:Guldasta e Durood o Salam

کے دُشمن ہو گئے ۔ جب آپ عَلَیْہ السَّلام نے یہ مَحسُوس فرمالیا کہ یہودی اپنے کُفر پر اَڑے رہیں گے اور وہ مجھے قَتْل کردیں گے تو ایک دن آپ نے لوگوں کو مُخاطَب کر کے فرمایا کہ’’ مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَی اللّٰہِ یعنی کون میرے مَددگار ہوتے ہیں اللّٰہ کے دین کی طرف  ۔ ‘‘ آپ کے چند حواریوں نے یہ کہا کہ’’ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِۚ-اٰمَنَّا بِاللّٰهِۚ-وَ اشْهَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ ، یعنی ہم خُدا کے دِین کے مَددگار ہیں ۔ ہم اللّٰہپر ایمان لائے اور آپ گواہ ہوجائیں کہ ہم مُسلمان ہیں  ۔ ‘‘

باقی تمام یہودی اپنے کُفر پر جَمے رہے یہاں تک کہ جوشِ عَداوَت میں اُنہوں نے آپ کے قَتْل کا مَنْصُوبہ بنالیا اور ایک شخص جس کا نام طَطْیانوس تھا اسے آپ کے مکان میں آپ کوقَتل کردینے کے لئے بھیجا ۔ اسی وَقت اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلام کو ایک بَدلی کے ساتھ بھیجا اور اس بَدلی نے آپ عَلَیْہِ السَّلامکو آسمان کی طرف اُٹھالیا اور اس طرح اللّٰہعَزَّوَجَلَّنے اپنے پیارے نبی عَلَیْہِ السَّلام کو ان شریروں کے شَر سے محفوظ فرمالیا  ۔ (عجائب القران، ص ۷۳، ملخصا وملتقطا)

تین اَہَم عَقِیدے

شہزادۂ اعلیٰ حضرت حُجَّۃُ الْاِسْلام حضرت مولانا حامدرَضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحمٰن حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ رُوْحُ اللّٰہعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکے مُتَعلِّق تین اَہَم عَقائد اور ان کے اِحکا م بیان فرماتے ہیں  :

پہلاعَقیدہ :

            یہ ہے کہ نہ وہ قَتْل کیے گئے نہ سُولی دیئے گئے بلکہ ان کے رَبّ جَلَّ وَعَلَا نے انہیں مَکرِیہودِ عنود سے صاف سَلامت بچا کر آسمان پر اُٹھالیا اور ان کی صُورت دوسرے پر ڈال دی کہ یہودِ مُلَاعَنَہنے ان کے دھوکے میں اسے سُولی دی یہ ہم مُسلمانوں کا عَقیدئہ قَطْعِیَّہ یَقینِیہَّ اِیمانِیَّہ(ہے ) یعنی ضَروریاتِ دِین سے ہے جس کا مُنکر یقیناً کافِر(ہے ) ۔  (فتاوی حامدیہ، ص ۱۴۰ )

            اس کی دَلیلِ قَطْعِی رَبُّ الْعِزَّت جَلَّ وَعَلَا کا ارشاد ہے  ۔

وَّ قَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِۚ-وَ مَا قَتَلُوْهُ وَ مَا صَلَبُوْهُ وَ لٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْؕ-وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْهِ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُؕ-مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّۚ-وَ مَا قَتَلُوْهُ یَقِیْنًۢاۙ(۱۵۷) بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَیْهِؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا(۱۵۸) (پ۶، النساء : ۱۵۷)

ترجمۂ کنزالایمان : اور اُن کے اس کہنے پر کہ ہم نے مسیح عیسٰی بن مریم اللّٰہ کے رسول کو شہید کیا ، اور ہے یہ کہ انہوں نے نہ اُسے قتل کیا اور نہ اُسے سولی دی بلکہ ان کے لئے اُس کی شبیہ کا ایک بنادیا گیا، اور وہ جو اس کے بارے میں اختلاف کررہے ہیں ضرور اس کی طرف سے شبہہ میں پڑے ہوئے ہیں ، انہیں اس کی کچھ بھی خبر نہیں ، مگر یہی گمان کی پیروی، اور بے شک انہوں نے اس کو قتل نہیں کیا ، بلکہ اللّٰہ نے اسے اپنی طرف اٹھالیااور اللّٰہ غالب حکمت والا ہے

دوسراعَقیدہ :

            اس جنابِ رِفْعَت قُباب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلام کا قُربِ قِیامت آسمان سے اُترنا دُنیا میں دوبارہ تشریف فرما ہو کر اس عَہد کے مُطابق جواللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے تمام انبیاء کرام عَلَیْھِمُ الصَّلٰوۃُوالسَّلامسے لیا دِینِ محمدرسُول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مَدد کرنا، یہ مَسئلہ بھی ضَروریاتِ مَذہبِ اَہلِ سُنَّت و جماعت سے ہے جس کا مُنکرگُمراہ خاسِر بَدمَذْہب فاجِر(ہے ) اس کی دلیل اَحادیثِ مُتَواتِرہ و اِجماعِ اَہلِ حق ہے ۔       (فتاوی حامدیہ ، ص  ۱۴۲ )

تیسراعَقیدہ :

            حضرت سَیِّدُنا روحُ اللّٰہ صَلواتُ اللّٰہ تَعالٰی وَ سَلامُہ عَلَیْہ کی حَیات !  اس کے دومَعْنی ہیں ایک یہ کہ وہ اب زِندہ ہیں یہ بھی مَسائل قسمِ ثانی (یعنی ضَروریاتِ مَذہبِ اَہلسنَّت وجَماعت ) سے ہے جس میں خِلاف نہ کرے مگر گمراہ کہ اَہلسنَّت کے نزدیک تمام اَنبیاء کرام عَلَیْھِمُ الصَّلٰوۃُوالسَّلام بحیات حقیقی زِندہ ہیں ، ان کی موت صرف تَصدیقِ وعدئہ اِلہٰیَّہ کے لیے ایک آن کو ہوتی ہے پھر ہمیشہ حَیاتِ حقیقی اَبَدی ہے ائمۂ کِرام نے اس مَسئلہ کومُحَقَّقْ فرمادیا ہے ۔

دوسرے یہ کہ اب تک ان پر موت طاری نہ ہوئی زِندہ ہی آسمان پر اُٹھالئے گئے اور بعدِ نُزُول دُنیا میں سالہا سال تشریف رکھ کر اِتْمامِ نُصْرتِ اسلام وَفات پائیں گے ۔ (فتاوی حامدیہ، ص ۱۷۷ )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس وَقت حضرت سَیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلام  آسمانوں پر زِندہ ہیں ، قُربِ قیامت آپ حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اُ مَّتِی بن کر تشریف لائیں گے جیسا کہ سیِّدِعالَمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا  : حضرت عیسٰی میری اُمَّت پر خَلِیْفَہ ہو کر نازِل ہوں گے  ۔

قِیامت کی نشانیاں

یاد رکھئے ! حضرت سَیِّدُنا عیسٰیعَلَیْہِ السَّلام کے نُزُول فرمانے سے پہلے قیامت کی کچھ نشانیاں بھی ظاہرہوں گی ۔  چُنانچہ صَدْرُ الشَّرِیْعَہ، بَدْرُ الطَّریقہ حضرتِ علَّامہ مولانا مُفْتی محمد امجد علی اَعظمیعَلَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہِالْقَوی فرماتے ہیں  : ’’ دُنیا کے فَنا ہونے سے پہلے چَند نشانیاں ظاہر ہوں گی ۔ عِلم اُٹھ جائے گا ۔ جَہْلکی کثرت ہوگی ۔  زِنا کی زِیادتی ہوگی ، دِین پر قائم رہنا اِتنا دُشوار ہوگا جیسے مُٹھی میں اَنگارا لینا، زکوٰۃ دینا لوگوں پر گراں ہوگا کہ اس کو تاوان سمجھیں گے ۔ مرد اپنی عورت کا مُطِیع ہوگا ۔  ماں باپ کی نافرمانی کرے گا ۔  گانے باجوں کی کثرت ہوگی ۔  

دَجَّال ظاہرہوگا کہ چالیس دن میں حَرَمَیْنِ طیّبین کے سوا تمام روئے زمین کا گَشْت کرے گا ۔  اُس کا فتنہ بہت شدید ہوگا ، خُدائی کا دَعْویٰ کرے گا ۔  جو اُس پر ایمان لائے گا اُسے اپنی جنَّت میں ڈالے گا اور جو اِنکار کرے گا اُسے جہنَّم میں داخل کرے گا ۔ بہت سے شُعبدے دِکھائے گا اور حقیقت میں یہ سب جادو کے کرشمے ہوں گے جن کو واقِعیَّت سے کچھ تَعلُّق نہیں ۔

پھرحضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلام آسمان سے جامع مسجد دِمَشْق کے شَرْقی مینارہ پر نُزُول فرمائیں گے ، لعین دَجَّال حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلام کی سانس کی خُوشبو سے پگھلنا شُروع ہوگا، جیسے پانی میں نَمک گُھلتا



Total Pages: 141

Go To